ان حالات میں جو سامنے موجود ہیں ابھی کچھ دیر پہلے ایک دوست نے جمعیت میم کے قائد کی ٢٥/اکتوبر کی ویڈیو ہمارے پاس بھیجی ہے ۔۔۔جسمیں حضور والا این آر سی اور سی اے بی (اب سی اے اے)کی کھل کر حمایت کررہےہیں۔ اور جہاں تک مجھے معلوم ہواہے، اب تک اس کے لئے ملت سے انہوں نے معافی نہیں مانگی ہے اور نہ اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا ہے۔یہ دل خراش ویڈیو حالانکہ اس ناکارہ کی نظر سے پہلے بھی کئ بار گذرچکی تھی لیکن اب ویڈیو بھیجنے والے دوست نے بڑے ہی درد کے ساتھ ایک سوال کیا ہے کہ آخر ہم ان جیسے بزرگوں کی قیادت سے کب آزاد ہوں گے؟ کب دوراندیش اور ذی ہوش قیادت سامنے آئے گی؟؟کب؟؟؟۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج یہ سوال صرف ایک شخص کا سوال نہیں ہے بلکہ حالات نے قوم کو جس طرح جھنجھوڑناشروع کیا ہے اس کی وجہ سے طلبہ، علماء اور عوام مرد وعورت کی بہت بڑی تعداد بلکہ اکثریت کے دل اور زبان پر یہی سوال ہے۔۔نااہل قیادت کے مستقل تسلط کی بنیادی وجہ میری نظر میں غلو پسندی ہے خواہ وہ عقیدت میں ہو یا نفرت میں ، اسوقت صورت حال یہ ہے کہ:لوگوں میں کوئی محمود بھکت ہے ،کوئی سلمان بھکت،کوئی سعدبھکت تو کوئی اویسی بھکت وغیرہ وغیرہ۔۔
اس کے بالمقابل کوئی محمود دشمن ،کوئی سلمان دشمن کوئی سعد دشمن تو کوئی اویسی دشمن وغیرہ وغیرہ۔بھکت لوگوں کو ذہنی غلامی کی بیماری ہے وہ اپنے حضرت جی کو کسی حالمیں غلط نہیں مانتےان کی ہربات کی چاہے حق ہو یا ناحق آنکھ بند کرکےتائید کرتے ہیں گویا ان کے حضرت امتی نہیں خدا نخواستہ گناہوں سےمعصوم کوئی نبیہوگئے۔چنانچہ اگر کسی نےان کے حضرت صاحب پر واقعہ کے مطابق اورجائزتنقید بھی کردیا تو یہ بھکت حضرات انصاف کےساتھ غور کرنے کے بجائے اس تنقید کرنے والے ہی کو گستاخ زندیق گمراہ اورنعوذباللہ کافر تک کہہ دیتے ہیں ۔دشمن لوگ کسی سے صرف اختلاف ہی نہیں رکھتے بلکہ آنکھیں بند کرکے اس سے دشمنی کرتے ہیں، دشمن لوگوں کی نفسیات بھکتوں سے بالکل الٹی ہے یعنی یہ جس سے دشمنیرکھتے ہیں اس کے معاملے میں سلیقے اورطریقے سے بھی عاری ہوجاتے ہیں اورغصے میں امت کی ناک پر بیٹھی مکھی کو ہاتھ سے ہٹانے کے بجائے پتھر کی چٹان سےکچلنا چاہتے ہیں۔سمجھنے اور غور کرنے کی بات تو یہ ہے کہ اندھا پن بہرحال اندھا پن ہے چاہے کسی کی عقیدت میں ہو یا نفرت میں۔
اور اور ان دونوں قسم کے اندھے پن کا قومی نقصان یہ ہے کہ نا اہل قیادت ہمارے سروں پر مسلط ہوجاتی ہے اور اپنی نا لائقی اور غیر دور اندیشی سے قوم کو مسائل کے بھنور میں پھنسا دیتی ہے۔۔۔ان سب کے باوجود اس کو گدی سےہٹاپانا تقریباً ناممکن ہوجاتا ہے کیونکہ عقیدت میں اندھے لوگ تو نااہلوں کی ڈھال بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور نفرت ودشمنی میں اندھے حضرات بھی ٹھنڈے دل ودماغ سے کوئی کامیاب منصوبہ بندی نہیں کرپاتے، اندھ بھکتی میں مبتلا لوگوں کو دھیرے دھیرے سمجھانے کے بجائے یکبارگی بھڑکادیتے ہیں۔اعتدال پسندی ضروری ہے اپنے طرز عمل میں، یاد کیا جاۓ کہ ھدایت کی دعا جو اللہ نے ہم کو سکھائی ہے "اھدنا الصراط المستقیم" کہ اے اللہ مجھے صراط مستقیم پر چلا۔تو اس سے مراد راہ اعتدال ہی ہے۔یقین جانئے ہم میں اعتدال پیدا ہوگا تبھی نااہل موروثی قیادت سے ہماری جان چھوٹے گی وگرنہ ہر شاخ قیادت پر ایک الو بیٹھا ہوگا اور انجام گلستاں کیا ہوگا؟یہ سوچ کر بھی راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں