تازہ ترین

جمعہ، 17 جنوری، 2020

شہریت ترمیمی ایکٹ،این پی آر اور این آر سی کو لیکر سماجوادی پارٹی تزبزب کی شکار ہے: منصور انور خان

رپورٹ  دانیال خان دیوبند ۔(یو این اے نیوز 17،جنوری 2020شہریت ترمیمی ایکٹ،این پی آر اور این آر سی کے خلاف جس طرح سے تمام مذاہب کے لوگ،مرد و خواتین،چھوٹے بچے اور بچیوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتیں میدان عمل میں رہکر حکومت سے آر پار کی لڑائی لڑنے میں مصروف ہیں وہیں سماجوادی پارٹی اس معاملہ میں تزبزب کی شکار ہے ان خیالات کا اظہار سول کورٹ دیوبند کے ایڈوکیٹ منصور انور خان نے کیا،

انہوں نے سماجوادی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ جب 20 اپوزیشن جماعتیں کانگریس صدر سونیا گاندھی کی دعوت پر پالیمنٹ انیکسی میں شریک ہوئی تھیں،ایسے اہم مسئلہ اور نازک وقت میں سماجوادی پارٹی کا اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ میں نہ پہنچنا بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی ہمیشہ سے مسلمانوں کو ٹھگنے کا کام کرتی چلی آ رہی ہے جب بھی مسلمانوں کوپاپرلیمنٹ میں آواز اٹھانے کے لئے سماجوادی پارٹی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو وہ اپنے سیاسی مفاد کو پورا کرنے کے لئے بیک ڈور سے مرکزی حکومت سے بات شروع کر دیتی ہے

 جس کی کئی مثالیں موجود ہیں منصور انور خان نے سی اے اے ایکٹ پر جاری احتجاجی مظاہروں کو عوام کا حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا دستور یہی کہتا ہے کہ مذہب کے نام پر کسی پر قانون کو نافذ نہیں کیا جا ؒسکتا،ملک کے قانون اور دستور کے تئیں تمام لوگ برابری کے حقدار ہیں۔سی اے اے قانون صرف اقلیتوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ملک کی ۵۸ فیصد لوگوں کی شناخت کا معاملہ ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad