تازہ ترین

جمعہ، 24 جنوری، 2020

عظیم الحق صدیقی اور سید شارق حسین کا سی اے اے کی حمایت کرنا پڑ رہا ہے بھاری ، مدرسہ اسلامیہ اصغریہ کا ان سے کوئی تعلق نہیں

 رپورٹ دانیال خان.دیوبند ۔(یو این اے نیوز 23جنوری2020)شہریت ترمیمی قانون کی حمایت میں گزشتہ جمعہ کو دہلی میں ہوئے مسلم راشٹریہ منچ کی علماء کانفرنس کے پروگرام میں اسلامیہ ڈگری کالج کے چیئر مین عظیم الحق صدیقی اور مدرسہ تعلیم القران کے مہتمم سید شارق حسین کے شامل ہونے کا معاملہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے،شہر کی عوام اس قدر غصہ میں ہے کہ ان دونوں کو قوم کا غدار اور آر ایس ایس کا دلال کہنے سے بھی نہیں چوک رہی ہے،حالانکہ شہر کے لوگوں نے دونوں کا پتلہ بھی گزشتہ دنوں نذر آتش کیا تھا اور شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف شہر میں وقفہ وقفہ سے ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں ان دونوں کو مستقل نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے

 ساتھ ہی انکے اداروں کا بائکاٹ بھی جاری ہے۔بتایا جاتا ہے کہ دونوں افراد خود بھی یہی چاہتے ہیں کہ معاملہ گرم رہے تاکہ اسکا سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے لیکن اسکا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ ان دونوں حضرات کا تعلق دیوبند کے قدیم دینی ادارہ مدرسہ اسلامیہ اصغریہ سے بتاکر مدرسہ کی ساکھ خراب کررہے ہیں،جس پر مدرسہ اسلامیہ اصغریہ دیوبند کے مہتمم مولانا سید جمیل حسین نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان دونوں حضرات کا مدرسہ اسلامیہ اصغریہ دیوبند سے کوئی تعلق نہیں ہے،نا ہی یہ مدرسہ میں کسی عہدہ پر فائض ہیں اور نہ ہی یہ حضرات مدرسہ کمیٹی میں شامل ہیں،

اس لئے ان دونوں حضرات کو مدرسہ کا حصہ نہ سمجھا جائے ساتھ ہی خبروں میں،احتجاج میں اور دوسری تجاویزی تحریروں میں مدرسہ اسلامیہ اصغریہ کی شمولیت نہ کی جائے ادارہ دیوبند ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کے جزبات کا احترام کرتا ہے اور آپکے سامنے یہ وضاحت پیش کرنا چاہتا ہے کہ ہمارا نظریہ اس پر مختلف ہے،انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ دیوبند کی روایات کا سب سے قدیم ادارہ ہے جس کی بقاء  و  تحفظ کی ذمہ داری ہماری ہے اور ہم اسی لئے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ اس سلسلہ سے اس ادارہ کو منصوب نہ کیا جائے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad