نئی دہلی۔(یو این اے نیوز 23جنوری 2020)عدالت عظمی نے آج جمعرات کے روز ایک ہی اہل خانہ کے سات لوگوں کے قتل کے گناہ گار عاشق جوڑے شبنم سلیم کی پھانسی کی سزا کے خلاف نظر ثانی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ رکھا ہے ۔جج بونڈے نے کہا کہ پھانسی کی سزا پر عمل کے معاملات کو کبھی نہ ختم ہونے والے مقدمات میں نہیں پھنسایا جاسکتا ۔
واضح رہے 14 اپریل 2008کو امروہہ کے باؤن کھیڑی گاؤں میں رات کے وقت شبنم اپنے عاشق سلیم کے ساتھ ملکر اپنے سات ماہ کے بھتیجے سمیت اہل خانہ کے سات افراد کو موت کی نید سلادیا تھا ،ان سات لوگوں میں اسکے اپنے والدین اور دو سگے بھائیوں اور ان دونوں کی بیویوں ،پھوپھی زاد بہن کے ساتھ ساتھ سات مہینے کے بھتیجے کو بھی قتل کردیا تھا۔کیونکہ سلیم اور شبنم ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے ،اور نکاح کرنا چاہتے تھے لیکن شبنم کے اہل خانہ نے اس نکاح کے سخت خلاف تھے
۔شبنم نے پہلے اترپردیش کے راجیہ پال اور ملک سابق صدر پرنب مکھرجی کو اپنے جرم کو معاف کرنے کی عرضی دی تھی جسکو راجیہ پال اور ملک سابق صدر پرنب مکھرجی نے خارج کردیا تھا ۔سبنم کو اپنے اہل خانہ کے سات لوگوں کے قتل کے جرم پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے ۔جسے جمعرات کو سپریم کورٹ نے سات لوگوں کے قتل کے گناہ گار عاشق جوڑے شبنم سلیم کی پھانسی کی سزا کے خلاف نظر ثانی کی عرضیوں پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں