تازہ ترین

جمعہ، 17 جنوری، 2020

مٹے نامور کیسے کیسے!

سچی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر۔  مولانا عبدالماجد دریابادی رح1945/05/29

کہتے ہیں کہ ولادت مسیح سے ڈیڑھ ہزار سال قبل جب قوم اسرائیل کے تعاقب میں، بحر قلزم میں فرعون مصر کی فوج در فوج ڈوبی ہے، تو خود شہنشاہ مصر بھی غرق ہونے سے نہ بچ سکا، معمولی سپاہیوں کی طرح وہ بھی ڈوبا۔ یہ اور بات ہے کہ غرقابی کے بعد اس کی لاش سطح سمندر پر تیر آئی، اور بعد کو محفوظ کر لی گئی، اور تو اور، خود قرآن مجید نے قصہ کے اسی جزو، یعنی فرعون کی غرقابی کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے، اور توریت کے بیان کی تصدیق کی ہے۔ قرآن کے لفظ، لفظ پر ایمان یہ بالکل درست ہے، لیکن کچھ کھٹک سی کبھی کبھی ہوتی رہی، کہ عام لشکری اگر ڈوبے تھے تو خیر، لیکن فرعون کی شخصیت تو بہت اونچی بڑی پر جلالت تھی، وہ سب کے ساتھ کیسے غرق ہو گیا اس کے بچنے بچانے کی کوئی صورت نہ نکل سکی؟ اس " بے سامان نہیں" " باسامان" فرعون کی حفاظت کا کوئی بھی سامان نہ ہو سکا؟کھٹک ہٹلر کے انجام نے بالکل مٹا دی، اس سے بڑھ کر " باسامان" شخصیت آج یورپ بھر میں کسی کی تھی؟ روئے زمین پر کسی کی تھی؟ تدبیر، عزم، اقبال مندی، قدم قدم پر چومتی تھی، جدھر نظر اٹھا کر دیکھ لیا میدان صاف تھا۔ مشکلات کے پہاڑ، بات کی بات میں پانی تھے۔ کیسے کیسے زبردست حریفوں میں آج اسے گرایا، کل اسے اٹھایا گیا۔ سکندر، ہنی بال، چنگیز، نپولین کسی کی بھی فتوحات اس کے سامنے لائی جا سکتی ہیں؟ کیسے کیسے ناموروں نامیوں کے نام اس نے گرد کر دیئے تھے۔ ایک آندھی تھا، بگولا تھا، بجلی کا کڑک تھا۔ ماضی قریب و ماضی بعید، ساری تاریخ میں نہ اپنا نظیر رکھتا تھا نہ جواب۔ آناً فاناً کیا نابود ہوا، گویا کبھی تھا ہی نہیں! مٹے گا، مرےگا یقین ہی نہیں آتا ۔  کیسے یقین آئے؟ دیوتا تھا دیوتا۔ دیوتا کہیں مرا کرتے ہیں؟ سب کو مار کر نہ مرتا، اور اگر کہیں مر ہی جاتا، زمین آسمان لرز اٹھتے، مرکز کائنات جنبش میں آ جاتا ! ہزاروں لاکھوں انسان ہیں کہ موت کی خبریں، اطلاعیں پڑھتے ہیں مگر یقین کسی طرح نہیں کرتے۔  اللہ کی قدرت و مشیت جیسے کسی کے یقین و عدم یقین کی پابند ہے۔ہٹلر کی موت فرعون کی موت پر ایمان تازہ کر گئی، حفاظت کا سامان آج اس کے لئے اٹھ رہا تھا؟ کل اس کے لئے کچھ اور اٹھ رہا ہوگا؟ لیکن ہر تدبیر کے آگے اور ہر تدبیر کے اوپر، اور اس سے برتر، ایک تقدیر بھی ہوتی ہے، تدبیر، تدبیر کا توڑ کر سکتی ہے تقدیر کا نہیں۔  کل جب وقت آیا، تو جو سب سے بڑا کہلاتا تھا، وہ چھوٹے سے چھوٹوں کی طرح پانی کے موجوں کا شکار ہو گیا، آج جب حکم پہنچا تو جو سب سے بڑا سمجھ لیا گیا تھا، تو چھوٹے سے چھوٹوں کی طرح بارود اور دھوئیں کی نذر ہو گیا۔وہی بے کسی، وہی بے بسی، جو کل بھی بندے کے لئے تھی آج بھی ہے!  خاک کا پتلا، اور دعوے بڑائی اور سرداری کا۔
زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے
واہ رے احکم الحاکمین! دیکھ لی دل کی آنکھوں نے بھی اور نظر کی آنکھوں نے بھی تیری بڑائی اور سرداری، بڑائی صرف تیرے لئے ہے، اور سرداری صرف تجھی کو حاصل ہے، اس کے سوا جو کچھ ہے جھوٹ ہے، اور دنیا کا سب سے بڑا فریب ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad