محمد انصار ندوی چندرسین پور مدھو بنی بہار
جشن یوم جمہوریہ اور جشن آزادی یہ دونوں ایسے ہیں جن کو قومی تہوار کا درجہ دیا جاتا ہے اس موقع پر ملک کے گوشے گوشے میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پررنگا رنگ تقریبات منعقد کی جاتی ہیں جس میں ملک کی آزادی کے جدوجہد میں شریک ہونے والے مجاہدین آزادی کا تذکرہ کر کےان کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔دوسری جانب ملک کے نو نہالوں کو اپنے آبا واجدادکی بے لوث قربانیوں اور جانفشانیوں سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ یہ ضروری بھی ہے تاکہ ہمارے بچے اپنے ملک کے تٸیں وقت پڑنے پر قربانی پیش کرنے کے لۓ ذہنی طور پر تیار ہوں۔ان تقریبات کے انعقاد کا ایک اہم مقصدحب الوطنی اور قومی یکجہتی کے جذبات کو فروغ دینا ہے۔جب ہم اپنے ملک کی آزادی کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلا نام شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کا ملتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے ملک کو برطانوی سامراج کی غلامی سے آزاد کرانے کے لۓ ظالم و جابر انگریزی حکومت کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا ۔ ان کا فتویٰ دینا تھا کہ بلا تفریق مذہب و ملت تمام ہندوستانیوں کے دلوں میں برطانوی سامراج کے خلاف نفرت وعداوت کی چنگاریاں شعلہ زن ہو گٸیں۔وہ کون سے اسباب ہیں جس نے شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کو انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کرنے کے لۓ آمادہ کیا؟ وہ ہے ”اسلام“ مذہب اسلام میں غلامی کا تصور نہیں، غلامی دنیا کی سب سے بڑی لعنت ہے ۔دنیا کے سچے وفطری مذھب نے غلامی کا تصور کہیں بھی پیش نہیں کیا۔مذھب اسلام کے تصور میں خدا کے ناٸب کا غلام ہونا ناممکن تھا ۔تو پھر مذھب اسلام کے متبعین ظالم وجابر قوم انگریزوں کی غلامی کیسے قبول کر لیتے؟ اپنی زباں بندی کیسے منظور کر لیتے؟ دیکھتے دیکھتے ظالم انگریزوں کے خلاف نفرت وعداوت کی آگ بھڑک اٹھی ۔ خوب بھڑکی، پھر اس آگ نے انگریزوں کے نشیمن کو جلا کر خاک کر دیا ۔تعجب ہے پھر بھی برادران وطن ملک کے مسلمانوں کو بدیسی،غدار، دہشت گرد اور نہ جانے کیسے کیسے القاب سے ملقب کرتے ہیں ۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ سید احمد شھیدؒ اور مولوی اسماعیل شھیدؒ کی قیادت میں وہابی تحریک شھر شھر، گاٶں گاٶں پھیل گٸ تھی۔یہ ان مجاھدین آزادی میں سے ہیں جنھوں نے سر سے کفن باندھ کر برطانوی حکمرانوں کے خلاف صف آرا ہو کر سدّسکندری ہونے کا ثبوت دیا ۔ شیرمیسور سلطان ٹیپوؒ،بنگال کے سراج الدولہ یہ کون ہیں؟ جنھوں نے ہندوستانیوں کو سر کٹانے کا حکم دیا لیکن کسی بھی قیمت پر سر جھکانے کو گوارہ نہیں کیا ۔ وہ سلطان ٹیپو جس کے مرنے کے بعد بھی انگریزوں کو اس کی لاش کے چھونے کی ہمت نہ ہوٸ صرف اس خوف سے کہ ٹیپو میں ابھی جان باقی ہے یہ تھے ٹیپو جن کی ہیبت سے انگریزوں پر لرزہ طاری تھا اور پھر ان کا وہ تاریخی جملہ یاد کیجۓ کہ”گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے“ یہ وہ جملہ ہے جس کی وجہ سے انگریزوں کے خلاف ہندوستانیوں کے دلوں میں نفرت و عداوت کی چنگاریاں بھڑکتے ہوے شعلوں میں تبدیل ہو گٸیں جسکی تپش آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے اگر ہندوستان کی جنگ آزادی کی تاریخ کاغیرجانبدارانہ مطالعہ کریں تویہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہو جاۓگی کہ اس ملک کو آزاد کرانے میں سب سے اہم رول اور کردار مسلمانوں بالخصوص علماۓکرام کا ہے اس لۓ کہ انگریزوں نے اس ملک کو مسلمانوں کے ہاتھوں سےچھینا تھا یہی وجہ ہے کہ ملک کے چھینے جانے کا سب سے زیادہ درداور کسک مسلمانوں ہی کے دلوں میں موجزن تھا اور انگریز حکمراں بھی صرف مسلمانوں کو ہی اپنا بڑا دشمن گردانتا تھا جس کا اندازہ 1857کے بغاوت کی ناکامی کی تاریخ سے لگایا جا سکتا ہے کہ انگریز سامراجوں نے کس طرح مسلمانوں کو اپنا اصلی دشمن مان کر تہہ تیغ کیا۔ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلمانوں بالخصوص علماۓکرام کےکردار کا تجزیہ کرنے کے لۓایک دفتر چاہیۓتاہم سرسری طور پر میں ملک کی آزادی میں شریک ہونے والے چند مجاھدین کا نام ”جو اپنی جگہ مستقل عنوان ہے“لیتا ہوا آگے بڑھتا ہوں تاکہ قارٸین ملک کی آزادی میں علماۓکرام کے کردار کو بھی اپنے مطالعہ کا موضوع بناٸ ں اس سلسلہ میں جہاں ایک طرف حریت پسند لیڈر سیدّاحمدشھید اور مولوی اسماعیل شھید اور انکے رفقا نظر آتے ہیں تو دوسری طرف تحریک ریشمی رومال سے منسلک افراد مولانا عبیداللہ سندھی،فتح محمد ،محمد عبداللہ،اور عماد علی کوبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا اس کے ساتھ ہی شیر دل نوجوان اشفاق اللہ خاں شھید آزادی کی علامت بن کر نظروں کے سامنے آجاتے ہیں یہ وہ حضرات ہیں جن کے خون کی سرخیوں نے تاریخ جدو جہد آزادی میں ایک نۓ باب کا اضافہ کیا ہے۔خاندان مغلیہ کاآخری چراغ بہادر شاہ ظفر کی شکل میں ہمیشہ کے لۓگل ہو گیا اس کے بعد جدوجہد کے طریقے بھی بدل گۓ۔نۓنۓ حربےآزماۓگۓ ستیہ گرہ،بھوک ہڑتال،جلسہ جلوس،پتھراٶ،جیل،مرن برت،مسلمان ہر موقع پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔مولاناحسرت موہانی ،حکیم اجمل،رفیع احمدقدواٸ،خان عبدالغفار اور دوسرے مسلم قاٸدین نہایت بےباکی اور نڈرپن کے ساتھ میدان عمل میں آۓ۔اگر ملک کے مٹھی بھر فرقہ پرست ان حضرات کی قربانیوں سے چشم پوشی کر لیں تو بھی ان کی ملک و ملت کے تٸیں قربانیوں اور بے لوث خدمات پر کوٸ حرف نہیں آسکتا ۔ پھر آپ اپنی نظر ایک عظیم ماں کے دو لاڈلے کی طرف کیجۓ جس میں ایک کا نام محمد علی جوھر اور دوسرے کا نام شوکت علی گوھر ہے کیا یہ دونوں ملک کے دو روشن ستارے نہیں ہیں؟ کیا فرقہ پرست ہمارے لیڈروں کی زبان سے نکلنے والے الفاظ بھول گۓ جس کو آزادی کی تاریخ نے اپنے آنچل میں محفوظ کر رکھا ہے ”میں اپنے غلام ملک میں واپس ہونانہیں چاہتا میرے وطن کو آزادی دی جاۓیامیرے قبر کے لۓزمین“تاریخ نے دیکھ لیا یہ کردار کا غازی اتنی غیرت والا نکلا کہ واقعی فلسطین کی سرزمین ہی اس کے لۓ مدفن بن گي ۔آج بھی مولانا محمد علی جوھر کے الفاظ ہماری رگوں میں بجلیاں بھر دیتے ہیں،اسیرمالٹا مولانا حسین احمد مدنیؒ اور مولانا محمودالحسن سے کون واقف نھیں؟کیا مولانا قاسم نانوتویؒ تحریک آزادی کے روشن باب نھیں ہیں۔ یہ وہ قاٸدین تحریک آزادی ہیں جن کے بغیر آزادٸ ہند کا تصور نہیں کیا جا سکتا ان تمام باتوں کے باوجود ایک المیہ یہ ہے کہ غیر تو غیر ھمارے مسلم بچے بھی اپنے اجداد کی ملک کے تٸین قربانیوں اور جانفشانیوں سے نا آشنا ھیں۔ھم پر یہ ذمہ داری عاٸد ہو تی ہے کہ ہم اپنی نٸی نسل کو آزادی کی جنگ لڑنے والے علماۓکرام کی قربانیوں سے واقف کراٸیں اور خوب دھوم دھام سے جشن یوم جمہوریہ اور جشن آزادی منانے کا اھتمام کریں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں