تازہ ترین

ہفتہ، 11 جنوری، 2020

ہندو جاگرن منچ کی شر انگیزی: جمعیتہ علماء ہند پر پابندی لگائے جانے کا کیا مطالبہ۔

دیوبند:دانیال خان(یواین اے نیوز10جنوری2020)ہندو جاگرن منچ کارکنان نے منچ کے علاقائی نائب صدر ٹھاکر سریندر پال سنگھ کی قیادت میں ایک میمورنڈم ایس ڈی ایم دیوبند راکیش کمار کے توصط سے ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ کو ارسال کر جمعیتہ علماء ہند (م) پر پابندی لگائے جانے،احتجاجی مظاہرہ کے دوران گرفتاری دینے والے افراد کو جیل بھیجے جانے سمیت جمعیتہ کے ناظم عمومی مولانا محمود اسعدمدنی پر این ایس اے لگائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ارسال کردہ میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ جمعیتہ علماء ہند نے شہریت ترمیمی ایکٹ کی مخالفت پورے ملک میں احتجاجی تحریک چلائے جانے کے لئے 13دسمبر کو ایک پوسٹر جاری کیا تھا۔

جس کی حمایت میں سب سے پہلے دیوبند کے جی ٹی روڑ پر واقع ہائی وے پر شہر کے لوگوں اور طلبہ مدارس نے روڑ جام کرتے ہوئے ہائی وے پر ہی نماز ادا کی تھی اور اسکے اگلے ہی روز جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علیگڑہ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے احتجاج کیا تھا ساتھ ہی جمعیتہ علماء ہند کارکنان دیوبند کے عیدگاہ میدان میں وقفہ وقفہ سے گرفتاریاں دے رہے ہیں،اتنا ہی نہیں مولانا محمود مدنی نے عوام کو اشتعال دلانے کے لئے سی اے اے قانون واپس نہ لینے پر حکومت و انتظامیہ کو ملک توڑنے کی دھمکی بھی دی تھی۔

میمورنڈم میں جمعیتہ علماء ہند پر ملک مخالف سرگرمیوں کو انجام دینے پر پابندی لگائے جانے،گرفتاری دینے والے افراد کو جیل بھیجے جانے سمیت محمود مدنی پر این ایس اے کے تحت کارروائی کئے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔میمورنڈم دینے والوں میں امت دھیمان،سمے سنگھ پنڈیر،وپن کانت کپل،نرپت سنگھ ایڈوکیٹ،سادھو رام پنوار،دنیش تیاگی،راجیش شرما،سنیل تیاگی ایڈوکیٹ،ٹھاکر ببل سنگھ ایڈوکیٹ اور ایشور اپادھیائے ایڈوکیٹ شامل تھے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad