دیوبند:دانیال خان(یواین اے نیوز 12جنوری2020)سماجی و ادبی تنظیم نیو جنریشن فاؤنڈیشن کی جانب سے دیوبند کے نوجوان شاعر تنویر اجمل دیوبندی کی یوم پیدائش کے موقع پر گیت غزل کا ایک شاندار پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔جس میں نیو جنریشن فاؤنڈیشن کے ممبران نے شاعر تنویر اجمل سے برتھ ڈے کیک کٹوا کر پروگرام کا آغاز کیا۔پروگرام میں گلو کاروں اور شعراء نے اپنے اپنے گیت پیش کر حاضرین کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔سنگر رضی عثمانی،اعظم صابری اور نفیس خان نے ایک سے بڑھکر ایک گیت سناکر خوب داد و تحسین وصول کی۔
بعد ازاں محفل میں رنگ بکھیرتے ہوئے تنویر اجمل دیوبندی نے حاضرین محفل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شاعری کسی بھی انسان کے لیے اپنے احساسات و جذبات اور مشاہدات و تجربات کی عکاسی کا نام ہے کوئی بھی انسان ہو وہ ہر وقت کسی نہ کسی چیز یعنی قدرت کی تخلیق کردہ اشیا کے مشاہدے میں یا اپنی ایجادات اور تخلیقات میں مصروف رہتا ہے اور سوچ میں گم رہتا ہے ہر انسان اپنے نظریے سے سوچتا ہے لیکن حساس لوگ کا مشاہدہ بہت ہی گہرا ہوتا ہے شاعری کا تعلق بھی حساس لوگوں کے ساتھ زیادہ ہے لیکن اِن مشاہدات و خیالات اور تجربات کے اظہار کرنے کا طریقہ سب کا الگ الگ ہے کچھ لوگ اس کو عام باتوں کی طرح سے یعنی گفتگو سے ظاہر کرتے ہیں۔
کچھ لوگ اس کو لکھ کر یعنی نثر کی صورت میں بیان کرتے ہیں جن کو مضمون، ناول نگاری، افسانوں اور کہانیوں کے زمرے میں رکھا جاتا ہے اور کچھ لوگ مختلف فنون جیسے مجسمہ سازی، سنگ تراشی، نقش نگاری اور فنِ مصوری کے ذریعے اپنے خیال کا اظہار کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کے خیالات کے اظہار کا ذریعہ شاعری ہوتا ہے۔اس دوران اپنی شاعری کا جلوہ بکھیرتے ہوئے شعراء نے اپنے خوبصورت کلام سے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔ محفل میں پسند کئے گئے چنندہ اشعار قارئین کی نذر ہیں۔
میرا وجود مٹانے سے مٹ نہیں سکتا
میرا وجود تو بنیاد ہے زمانے کی
(شمیم کرتپوری)
زہر کی بوتلوں میں تو دوائیں مل نہیں سکتی
کبھی مطلب پرستوں سے وفائیں مل نہیں سکتی
(تنویر اجمل دیوبندی)
زندگی تو عطا ہوئی ہے مگر
اپنی سانسوں میں اختار نہیں
(ڈاکٹر عدنان انور)
اس موقع پر نبیل عثمانی،اویس صدیقی،فیصل نور،وجاہت انور،افضل گور،عارف قریشی،انس چودھری،امران فاروقی،سلمان گور،عمر گور،ندیم احمد،حارث عثمانی اور محمد علی وغیرہ بطور خاص موجود رہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں