۔ڈربن ۔(یو این اے نیوز 17 جنوری 2020) معروف مسلم اسکالر اور سماجی کارن 65سالہ یوسف دیداد پر بدھ کے روز ورولم مجسٹریٹ کورٹ کے باہر نامعلوم مسلح شخص نے اندھا دھند گولیاں چلائیں جس سے سر میں گولی لگنے آج سہ پہر کے وقت پیٹر مارٹزبرگ اسپتال میں علاج کے دوران انکا انتقال ہوگیا۔ یوسف دیداد کے لڑکے رئیس دیداد نے بتایا کہ اہل خانہ سمیت دوست لوگ انکے بیڈ کے پاس ہی کھڑے تھے تبھی جمعہ کے بعد 2:30 پر انھوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی اور اپنے مالک حقیقی سے جاملے
۔رئیس دیداد نے کہا اہل خانہ اور دوستوں کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں انکا اس دکھ کی گھڑی میں ساتھ دینے کے لئے اللہ تعالی انکی مغفرت فرمائے۔ واضح رہے اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہیکہ یوسف دیداد پر حملہ کرنے والا کون ہے اور جب ان پر گولی چلائی گئی تو وہ عدالت میں کیا کررہے تھے،پرائیویٹ سیکورٹی کمپنی ری ایکشن یونٹ جنوبی افریقہ کے ڈائریکٹر پریم بلرام نے بتایا کہ ایک شخص عام شہری کی طرح دیداد کی طرف گیا اور ان پر گولیاں چلانا شروع کردی اور گروم اسٹریٹ پاس کھڑی گاڑی میں وہ فرار ہوگیا
۔پہنچتے ہی متاثرہ شخص زمین پر چہرہ کے پڑا ہوا پایا ۔پولیس ترجمان کونال تھیمبیکا میبل نے بتایا کی دیداد اپنی اہلیہ کے ساتھ جارہے تھے اسی وقت انھیں گولی ماری دی گئی پولیس ترجمان نے کہا گولی مار نے کا مقصد ابھی واضح نہیں ہوسکا ہے اور مشتبہ شخص پولیس کی گرفت سے ابھی تک فرار ہے ۔ورولم میں واقع امام حسین مسجد کے چیئر پرسن آزاد سیدادا نے یوسف دیداد کو خراج تحسین پیش کیا انھوں نے کہا یوسف دیداد کو ہم 30سالوں سے جانتے ہیں ۔وہ ایک بڑی شخصیت کے حامل تھے سیداد نے کہا انکا تعلق ہر طبقے سے تھا
انھوں ہماری مسجد کا دورہ کیا اور ضرورت کے وقت ہماری مدد کی ۔دیداد کے سابق پڑوسی شوپنگ سنشنکرنے کہا کہ وہ ایک مشہور کمیونٹی کے کارکن تھے ۔جو ہمشیہ مدد کے لئے تیار رہتے تھے۔انہوں کہا کہ یوسف دیداد نے کبھی کسی کو مایوس نہیں کیا جو کوئی بھی انکے پاس مدد مانگنے آتا اسکی مدد ضرور کرتے اور کھالی ہاتھ وہ واپس نہیں لوٹتا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں