بھوگاؤں ،مین پوری،حافظ محمد ذاکر(یواین اے نیوز9جنوری2020) گرام موٹا میں پردھانی کے انتخاب سے قبل اپنے اپنے وقار کی جنگ میں اندھا دھند فائرنگ اورپولس پر قاتلانہ حملے کے انیس ملزموں کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے، گاؤں والون کے درمیاںاس وقار کی جنگ میں تین کاریں اور ایک موٹر سائیکل جھلس گئیں،پولس نے بائک اور کار کو سیز کردیا ، پولیس نے فائرنگ میں استعمال ہونے والا ایک لائسنسی رائفل اور ایک پستول بھی برآمد کیا، پولیس نے تمام گرفتار شدہ ملزموں کو قتل کرنے کی کوشش سمیت فساد برپا کر نے وغیرہ جیسے سنگین دفعات میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے،گرفتار تمام ملزمان کا جیل بھیجنے سے قبل ان کا طبی معائنہ کرایا گیا ہے۔
گرفتار ملزموں میں ایک نوجوان بی جے پی یووا مورچہ کا ضلع نائب صدر بھی ہے،واضح ہو کہ بدھ کے روز تھانہ بھوگاؤں علاقے کے دیانت نگر موٹا میں موجودہ پردھان جگویرویر سنگھ اور سابق پردھان کنور پال سنگھ میں اگلی پردھانی کے انتخاب سے قبل بالادستی کی جنگ کےلئے شام تین بجے کے قریب زبردست فائرنگ ہوئی تھی، اسی دوران موجودہ پردھان جگویر سنگھ کے بیٹے سمت پرتاپ سنگھ کی موٹر سائیکل کو آگ کے حوالہ کردیا گیا تھا ، تقریبا ایک گھنٹے تک دونوں فریقوں کے مابین لڑائی اور افراتفری کا سلسلہ جاری رہا، کئی راؤنڈشدید فائرنگ بھی ہوئی، فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی پولس چوکی گرام موٹا کے انچارج راہول کمار پولیس فورس کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ، پولیس کو دیکھ کر دونوں فریقوں نے سرکاری کاموں میں رخنہ دالتے ہوئے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی ۔
چوکی انچارج کی اطلاع پرقصبہ بھوگاؤکوتوالی کے انسپکٹر پہوپ سنگھ اورقصبہ بیورکوتوالی کے انچارج جسویر سروہی مزید پولیس فورس کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے، پولیس فورس کی زیادہ تعداد دیکھ کر ملزمان نے دہشت گردی کرتے ہوئے تین کاروں سے فرار ہو نے کی کوشش کی، پولیس نے اپنی طاقت کا استعمال کرتے اور اپنی جان بچاتے ہوئے تینوں کاروں کو اپنی تحویل میں لے لیا، پولیس نے بنٹی عرف بیجیندر سنگھ ولد اشوک پال ساکن گاؤں کچیلا پولیس تھانہ دنہار کے قبضہ سے ایک 315 بور رائفل اور کارتوس برآمد کرلیا، پولیس کے مطابق برآمد شدہ رائفل کا تعلق تھانہ بچھواں کے گاؤں ٹھٹھکرا کے پردھان راجکمار سنگھ کی ہے ، اور گرام پردھان (سابق)کنور پال سنگھ کے بیٹے دگمبر سنگھ کے قبضہ سے ایک لائسنسی پستول 32 بور اور بڑی تعداد میں زندہ کارتوس اور دو میگزین بھی برآمد کی ہے ، اس واقعہ سے گاؤں میں دہشت کا ماھول قایم ہو گیا تھا ،لوگ اپنے اپنے گھروں میں چھپ کر بیٹھ گئے تھے، گاؤں میں خوف کے پیش نظر کسی بھی ممکنہ واقعے سے بچنے کے لئے پولیس نے بڑی تعداد میں اضافی پولیس کے دستے تعینات کردیئے ہیں

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں