اللہ تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بین الاقوامی نبی اسی لئیے بناکر بھیجا تاکہ اب کوئی یہ نا کہہ سکے کہ میں نبی ہوں۔جو بھی دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔
کانپور(یواین اےنیوز30نومبر2017)اسوۂ پیغمبر ﷺ و صحابہؓ کو امت مسلمہ برادران وطن اور پوری انسانیت تک پہنچانے کے لئے جمعیۃ علماء شہر اور مجلس تحفظ ختم نبوت کانپور کی جانب سے یکم ربیع الاول سے پورے ماہ کو ’’ رحمت عالمﷺ مہینہ ‘‘ کے طور پر منایا جارہا ہے اسی سلسلے میں انجمن اسلامیہ بچہ کمیٹی کی طرف سے چھوٹا پھاٹک نواب صاحب کا احاطہ پٹکا پور میں اس کا 27واں سالانہجلسہ سیرت النبیؐ وسیرت صحابہؓ کا انعقاد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء اترپردیش کے صدر جانشین قاضی شہر کانپورمولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ جس کا جتنا بڑا مرتبہ ہوگا اتنی بڑی ذمہ داری ہوگی اللہ نے چیزوں کے نام اور ان کی ساری خاصیات کوحضرت آدم ؑ کو بتادی تھی اورفرشتوں سے سوال کرنے پر فرشتوں نے کہہ دیا کہ جتنی چیزوں کو آپ نے بتا دیا ہے وہی ہم جانتے ہیں اس سے علم مراد ہے ۔حضور ؐپر سب سے پہلے وحی آئی وہ پڑھنے کی ٓائی ۔ امت کو عزت تعلیم سے ملے گی مگر علم وہی کامیاب ہو گا جس سے رب کی معرفت جڑی ہوگی ۔آدمی امریکہ لندن سے پڑھ کر آیا بہت بڑا ڈاکٹر ہے وکیل ہے انجینئر ہے اگر اللہ کو نہیں پہنچانتا ہے تو وہ دو کوڑی کا ہے سب کو جانتا ہے مگر اللہ ہی کو نہیں جانتا ہے تو نہ تعلیم کام آئے گی اور نہ ہی وکالت اور نہ ہی مال ودولت کام آئے گی ۔ حضورؐ نے کسی علم پر پابندی نہیں لگائی ہے ہاں اتنا دین سیکھنا جس سے اللہ کی معرفت حاصل ہوجائے اتنا علم فرض ہے اللہ کو پہچانو صحابہ کو جانور رسولوں کو پہچانو اور عقائد کو درست رکھو ، خالق اور مخلوق کا فرق جاننا بہت ضروری ہے حضور ؐ کا مرتبہ سب سے بڑا ہے آپؐ کا مقام اور مرتبہ وہ ہے کہ زمین کے جس حصہ سے حضورؐ کا جسم اطہر لگا ہوا ہے وہ جگہ سارے جہان سے افضل ہے مگر اللہ ،اللہ ہیں اور حضورؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں یہ عقیدے کی بات ہے سارے نبیوں کے سردار اللہ کے بندے ہیں تو اور لوگ وہ بھی بندے ہیں اللہ کی معرفت نبی کی معرفت ہے، نبیؐ کو پہچان لو اللہ کو پہچان جاؤ گے ۔ اللہ نے اپنے نبیؐ کو قرآن پاک میں بارہا عبدیعنی بندہ کہہ کر پکارا ہے۔آپؐ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور آپؐ کے بعد اب کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا ہے اگر کوئی نبوت کا اعلان کرتا ہے تووہ دجال ہے کذاب ہے۔ دجال کے معنی مہافراڈی ، کذاب کے معنی مہا جھوٹا۔مدرسہ فاروقیہ کاکوری لکھنؤ سے تشریف لائے مولانا معاویہ عبدالرحیم فاروقی نے قرآن کی آیت پڑھ کر اس کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اللہ رب العزت نے بہت ہی محبت کے ساتھ ایک تقاضہ کیا ہے اے نبی آپ کہہ دیجئے اگر تمہیں اللہ سے محبت ہے تو میری اطاعت کرو۔ اللہ رب العزت اپنی محبت کا واسطہ دے کر حضورؐ کی اطاعت کرنے کو کہتا ہے اللہ سے اگر سچی محبت ہے تو اللہ کے محبوب سے محبت کرو ۔ انسان کو انسان کی محبت اندھا کردیتی ہے جس سے محبت ہوتی ہے اس کی برائی کوئی نہیں سنتا ہے ۔ دنیا کے محبوبوں کی طرح خدا کی محبت نہیں ہے ۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اسی نے زمین وآسمان کو پیدا کیا ہے اور ہر ہر چیز کو جاننے والا ہے ۔ اللہ کی قدرت کی نشانیاں عیاں ہیں۔ زمین میں کہیں بھی کوئی تبدیلی ہوتی ہے وہ صرف اللہ کی وجہ سے ہوتی ہے اللہ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل کردیتا ہے وہ اللہ ہم سے تقاضہ کر رہا ہے کہ میری محبت کا واسطہ ہے تم میرے محبوب کی اطاعت کرو یہ تقاضہ کوئی غلط تقاضہ نہیں ۔ ہم کو حسن اور خوبصورتی اچھی لگتی ہے آج کا نوجوان اللہ کے دشمنوں کی نقل کرتا ہے مرد ہو کر کان میں بالی پہنتا ہے اللہ نے حضورؐ کو پیدا کرکے ان کا خود محبوب ہوگیا اللہ کے محبوب کا حسن کیسا تھا ، حضورؐ کی آمد کا موقع ہے ، ولادت با سعادت کا وقت آنے والا ہے ان کی خوبصورتی کو دیکھو آپ ؐ کی زندگی کو دیکھو ، آپؐ کے قول کو دیکھو، آپؐ بہت با رعب تھے آپؐ کا چہرہ دمکتا تھا ۔ام المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں ایک رات سحری کے وقت میرے ہاتھ سے سوئی گر گئی بہت تلاش کیا مگر نہیں ملی اتنے میں حضورؐ کی آمد ہوئی آپ ؐ کے آنے سے آپ کی چمک کی وجہ سے سوئی مل گئی ۔ ہم لوگوں کو حضورؐ کی پیروی کرنی ہے ، آپ کی نقل کرنی ہے لیکن ہم لوگ غیروں کی نقل کرتے ہیں جب ہم آپ ؐ سے محبت کرنے لگیں گے تو آپ کی ہر ہر ادا پر فدا ہونے لگیں گے۔ حضرت جابر ابن سمرہؓ نے فرمایا کہ ایک رات کو ہم نے دیکھا کہ چودھویں رات کا چاند نکلا ہوا تھا میں نے حضورؐ کو دیکھا اور چاند کو دیکھا تو بے اختیار کہہ پڑا کہ میرے محبوب کا چہرہ چاند سے بہت حسین ہے ۔مولانا معاویہ نے مزید کہا کہ ہم کو اللہ کے نبیؐ کی اطاعت کرنی ہے اور اللہ کے بتلائے ہوئے طریقہ کے مطابق کرنا ہوگی اپنے اپنے طورسے نہیں حضورؐ کی اطاعت اس طرح کرنی ہوگی جس طرح سے تمام صحابہ کرام نے کرکے دکھائی ہے یہی ہمارے لئے سند ہیں ۔مولانا مفتی سید محمد عثمان قاسمی امام وخطیب بڑی مسجد شترخانہ گھنٹہ گھر نے کہا کہ اللہ نے آپؐ کو پورے عالم کے لئے رحمت بناکر بھیجا ، کائنات کے ذرہ ذرہ کے لئے رحمت ہیں یہ خطاب کسی اور کے لئے نہیں ہے صرف اور صرف حضورؐ کے لئے ہے آپ جانوروں کے لئے بھی رحمت ہیں ۔ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو بین لاقوامی طور سے نبی بناکر بھیجا گیا ہے ۔آپؐ خاتم النبیین ہیں اب آپ کے بعد جو بھی نئے نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا اور فریب کار ہوگا۔ جلسے کا آغاز حافظ محمد اشرف جامعی کی تلاوت سے ہوا اور نظامت کے فرائض مفتی اظہار مکرم امام وخطیب مسجد نور پٹکا پور نے انجام دئے نعت ومنقبت کا نذرانہ محمد نجیب ، محمد فیضان نے پیش کیا اور ملک رضوان ، شاہد وکیل، مشرف حسین، حاجی امتیاز عرف ببلو محمد اقبال ومحمد اکبر نے علماء کرام وشرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ جلسے میں قاری شمشیر عالم فرقانی، مولانا انیس الرحمن قاسمی، قاری عبدالمعید چودھری، مولانا حفظ الرحمن قاسمی، مولانا اخلاق جامعی، حافظ جمال الدین ثاقبی، حافظ ہارون، مولانا انوار عالم ندوی، حافظ حسن سمیت کثیر تعداد میں علماء کرام ، حفاظ اور لوگوں نے شرکت کی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں