تازہ ترین

جمعرات، 30 نومبر، 2017

آہ آج ہم پھر سے یتیم ہوگئے۔


آہ آج ہم پھر سے یتیم ہوگئے۔
تحریر،ریحان اعظمی
مفتی محمد عبداللہ صاحب پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کی خبر آج بروز جمعرات صبح سعودی عرب کے وقت کے مطابق قریب ساڑھے آٹھ بجے بذریعہ واٹ سپ سے ملی، یقین نہیں ہورہاتھا۔ کچھ دیر بعد کچھ احباب سے اس خبر کی تصدیق کی تو مولانا محبوب عالم قاسمی صاحب استاد مدرسہ عربیہ بیت العلوم سرائے میر نے بذریعہ ایک آڈیو میسیج دیا کہ ہاں یہ خبر صحیح ہے۔یہ سنتے ہی گویا پورا بدن کانپ کر تھرا اٹھا ایسا محسوس ہواجیسے ہمارے جسم سے روح ہی پرواز کرگئی ہو۔کچھ دیر غموں سے نڈھال بیٹھا رہا پھر سوچا  مفتی صاحب سےمتعلق کچھ باتیں آپ کے گوش گزار کردوں۔مفتی صاحب کسی تعارف کے محتاج تونہیں ہیں،لیکن پھر بھی آپ کو بتادوں کہ مفتی صاحب کا آبائی گاؤں چھاؤں تھا وہاں سے انکے دادا حضرت مولانا عبد الغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ نے ہجرت کرکے پھول پور مستقل سکونت اختیار کرلی تھی اسی نسبت سے آپ کو پھولپوری کہا جاتاہے۔مولانا پھولپوری کے دوفرزند تھے،ایک بڑے بابو اور ایک چھوٹے بابو کے نام سے جانے جاتے تھے،(چھوٹے بابو کانام ابوالبرکات تھا)حضرت پھولپوری کے پاکستان ہجرت کرجانے کی وجہ سے آپکے دونوں صاحب زادگان یہیں پھولپور میں ہی رہے،اور چھوٹے بابو(ابوالبرکات) کی اولاد میں سے اکلوتے بیٹے مفتی عبداللہ صاحب تھے،مفتی صاحب کی پیدائش آزادی کے بعد 1960ء میں اعظم گڑھ کے ایک گاؤں آنوک میں ہوئی۔آنوک آپ کا نانیہال تھا۔بتایا یہ بھی جاتاہے کہ جب آپ کی ولادت کی خبر حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کو پہنچی تو آپ نے برجستہ کہا تھا کہ یہ لڑکا بڑا ہوکر عالم اسلام کی پیاس کو بجھائےگا،اور میرا جانشیں ہوگا۔آپ کے دادا کی یہ بات حرف بحرف سچ ثابت ہوئی،مفتی صاحب کی ابتدائی تعلیم وہیں پھولپور کے مدرسہ میں ہوئی اسکے بعد مدرسہ عربیہ اسلامیہ بیت العلوم میں پھر مظاہرالعلوم سہارنپور سے فراغت حاصل کی،اس وقت بیت العلوم کی نظامت مولانا سجاد صاحب مظاہری رحمہ اللہ کررہے تھے،انکے بعد مولانا سالم صاحب کی نظامت میں وہیں پر درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے،مولانا سالم صاحب کے بعد آپ کو وہاں کی نظامت کی ذمہ داری سونپی گئی،آپ کے نظامت میں بیت العلوم میں تعمیراتی کام بہت بڑے پیمانے پر ہوا مدرسے کے نام مدرسے سے متصل زمین بھی خریدی گئی،مفتی صاحب نے تقریبا بیس پچیس سال تک اس فرائض کو انجام دیتے رہے،آپ شوگر کے مریض ہوگئے تھے،اسی سال آپ کو پہلا ہارٹ اٹیک آیا  ممبئی میں علاج ہوا اور بحمد اللہ ٹھیک ہوگئے تھے،چار روز قبل عمرہ کرنے مکۃ المکرمہ گئے ہوئےتھے،اور وہیں لبیک کی صدا بلند کرتے ہوئے ہمیشہ ہمیش کے لئیے اپنے ہزاروں فرزندوں کو روتا بلکتا یتیم بناکر چلےگئے (پیدائش 1960ءوفات 30نومبر2017) کسی کو کیا خبر تھی کہ یہاں کے بیت اللہ کی نہیں بلکہ رب کریم نے اپنے گھر بیت المعمور کی زیارت کے لئیے بلایا تھا۔(انا للہ وانا الیہ راجعون)مفتی صاحب سے مجھے کبھی پڑھنے کا شرف تو حاصل نہیں رہا البتہ میں جس مدرسے میں پڑھا اور پڑھایا اسکے مفتی صاحب سرپرست ضرور رہے،مفتی صاحب سے کئی بار ملاقات ہوتی تھی کیونکہ ہمارے گاؤں میں انکا آنا جانا کافی ہوتاتھا،جب کبھی ملاقات ہوتی تو بڑے ہی خندہ پیشانی سے ملتے،ایک مرتبہ گاؤں کے مدرسے میں کسی طالب علم کا ختم قرآن تھا،وہاں تشریف لائے ہوئے تھے،پروگرام کے اختتام پر مجھ سے ملاقات ہوئی کافی دیر تک باتیں ہوتی رہیں،مفتی صاحب مجھ سے ایسے بات کررہے تھے جیسا میرا کوئی بڑا بھائی بات کررہاہو۔انکے جانے کے بعد کئی لوگ مجھ سے پوچھتے بھی رہے کی کیا باتیں ہوئیں،میں نے کہا کچھ تو حالات حاضرہ پر تھیں اور کچھ پڑھائی اور شادی بیاہ سے متعلق تھیں۔مفتی صاحب صرف درس و تدریس سے پیاس نہیں بجھاتے تھے بلکہ آپ اپنے دادا حضرت پھولپوری اور اور محی السنہ حضرت ہردوئی کی طرح تصوف کے ذریعے اپنے بے شمار مریدین کی پیاس بجھاکر راہ راست پر لاتے تھے،مہینے کےآخیرمیں پھولپور خانقاہ میں اجتماع ہوتا تھا،وہاں سے تمام لوگ روحانی فیض حاصل کرتے تھے۔باآخر آج یہ یہ فیض ہمیشہ ہمیش کے لئیے ختم ہوگیا۔مفتی صاحب کی کل آٹھ اولاد ہیں جن میں پانچ لڑکے تین لڑکیاں ہیں۔اہل خانہ کے ساتھ عمرہ پر گئے ہوئے تھے۔اور جسد خاکی کووہیں مکۃ المکرمہ میں تدفین کیاجائے کا انشاء اللہ۔اللہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے،آمین،انکے اہل خانہ سمیت انکے روحانی بیٹوں کو بھی صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad