مفتی عبداللہ پھولپوری کا سانحۂ ارتحال مسلمانوں کے لئے ناقابل تلافی نقصان
مولانا اسرارالحق قاسمی نے بزرگ عالم اور بیت العلوم سرائے میر کے سرپرست کے انتقال پرتعزیت کا اظہار کیا
نئی دہلی(یواین اےنیوز30نومبر2017)معروف عالم دین ،عارف باللہ مفتی عبداللہ پھولپوری کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ممبرپارلیمنٹ اور بزرگ عالم دین مولانا اسرارالحق قاسمی نے کہا کہ ان کی وفات سے ہندوستان کے مسلمانوں کا علمی خسارہ ہی نہیں ہوابلکہ معرفت و سلوک کے طالبین کو بھی سخت نقصان پہنچا ہے۔انھوں نے کہا کہ مفتی صاحب ہندوستان کے ایک ایسے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے جو ایک عرصے سے علم و فضل اور تصوف و سلوک کے حوالے سے اپنی امتیازی پہچان رکھتا ہے ،ان کے داداحضرت مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری حکیم الامت حضرت تھانوی کے اجل خلفاء میں سے تھے اور انہوں نے مشرقی یوپی میں علم ودین کی اشاعت اور لوگوں کے قلوب کی اصلاح کے لئے اہم کارنامے انجام دئے۔مولانا نے کہا کہ مفتی عبداللہ پھولپوری نے جہاں مدرسہ بیت العلوم سرائے میر میں ایک موقر استاذ اور مدیر و منتظم کی حیثیت سے قابل قدر خدمات انجام دیں وہیں ان کے ذریعے سے ہزاروں لوگوں نے سلوک و معرفت کی منزلیں بھی طے کیں،وہ اپنے وقت کے اکابر اور اولیاء اللہ کے مقرب رہے،ان کی صحبت سے فیض حاصل کیااورپھر ان بزرگوں کے فیضان کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔مولانا قاسمی نے کہا کہ مجھ سے موصوف کے نہایت مخلصانہ تعلقات تھے اور مختلف مواقع پر بارہا ملاقات کا ملا،وہ نہایت مخلصانہ معاملہ فرماتے اور مختلف ملی و دینی مسائل پر وقیع گفتگو فرماتے۔واضح رہے کہ مفتی عبداللہ پھولپوری ان دنوں سفر عمرہ پر تھے،جہاں اچانک ان کی طبیعت بگڑ گئی،فوری طورپر انہیں ایک ہسپتال میں داخل کیاگیا مگر جانبرنہ ہوسکے اور وہیں وفات ہوگئی۔مولانا اسرارالحق قاسمی نے خبرملتے ہی ان کے پسماندگان سے رابطہ کرکے اظہار تعزیت بھی کیا اورمرحوم کے لئے مغفرت و بلندیِ درجات کی دعاء کی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں