مرثیہ بموقع وفات حسرت آیات حضرت مولانا عبداللہ صاحب پھولپوری رحمۃ اللّٰہ علیہ
از: مفتی حفیظ اللہ حفیظ قاسمی بھیونڈی
الہی! رحم کر، پھرآج یہ کیسی خبر آئی.
جسے سنتے ہی آنکھیں نم ہوئیں، آوازبھرّائی.
تھی برحق پیش گوئی مردحق آگاہ"نعمت"کی.
کہاتھا جس نے یہ سَن ہے،سَنِ صبروشکیبائی.
جنازوں پرجنازے اہل علم وفن کے اٹّھیں گے.
مراثی کہتے کہتے روپڑے گی خامہ فرسائی.
اِدھر اک مرگ کاماتم مکمل ہو نہ پائے گا.
اُدھر آواز گونجے گی فلاں رخصت ہوابھائی.
گیا پھرآج اک شیخِ طریقت "شیخ عبداللہ"
بجاکرتی تھی "بیتِ علم وفن" میں جس کی شہنائی.
وہ جس کے سازپر طلبہ مسلسل رقص کرتے تھے.
وہ جس کی دُھن پہ ساری مستیاں لیتی تھیں انگڑائی.
ہمیشہ جس نے ہرمردہ دلی کوزندگی بخشی.
خدامستی پہ جس کی ایک دنیاتھی تماشائی.
کمالِ فنِِّ تحریر وخطابت جس کو حاصل تھا.
مسلّم اہل فن تک کوتھی جس کے فن کی گہرائی.
جوسینے میں بسا رکھتا تھا یوں قرآن وسنت کو.
کہ جلوہ گر رہی کردار میں دونوں کی پرچھائی.
جوطلبہ کے لئے یکساں سراپا مہروشفقت تھا.
یہ"بیتِ علم وعرفاں" جس کی نسبت پرتھاشیدائی.
وہی جس کے تبسم پریہ گلشن مسکراتا تھا.
وہ بلبل، غنچہءوگل جس کے یکساں تھے تمنائی.
جو مستغرق رہا کرتاتھابس یادِ الہی میں.
مریضانِ محبت کی جوکرتاتھا مسیحائی.
جوسرافگندگی سے بندگی کا ناز اٹھاتا تھا.
نہیں تھی جس کے معمولات میں ادنی سی خودرائی.
جسے محبوب تھی تازندگی آہِ سحرگاہی.
سرفرازی کاباعث بن گئی جس کی جبیں سائی.
گیا وہ بزم سے اٹھ کر تومحفل ہوگئی سونی.
مرے آقا تواپنافضل فرماکردے بھرپائی.
سراپا زندگی جس کی تواضع سے عبارت تھی.
تھی سرتاسر فقط راحت رساں جس کی شناسائی.
جوحضرت "شیخِ ہردوئی" کی نسبت سے مجلی تھا.
رہی صدرشک یکساں جس کی جلوت اورتنہائی.
مبارک روح نے رختِ سفرباندھا ہے "مکہ" سے.
گیا آغوشِ الفت میں جہاں سے مردِ سودائی.
یہ "اہلِ علم و اہلِ تزکیہ" سب کا خسارہ ہے.
کرے اب کون دردِ دل کادرماں اور شنوائی.
سراپا غم ہیں"اہلِ بیت"و"بیتُ العلم والعرفاں.
نگاہیں ڈھونڈتی پھرتی ہیں بس گھبرائی گھبرائی.
مرے مولی تواپنے فضل سے جنت عطا کرنا.
جسے ہم "پھول پوری" کہہ رہے تھے،تھا وہ صحرائی.
"حفیظ"!اب باندھ رکھیو،آپ اپنا بوریا بستر.
نہ جانے کب کہاں آئے اجل، کس نے خبرپائی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں