تازہ ترین

بدھ، 30 دسمبر، 2020

سیمانچل وکوسی کے مسائل کے حل کیلئے سماجی شخصیات کی مشاورتی میٹنگ ضلعی سطح پر مشاورتی کمیٹی کا قیام،فریق بننے کے بجائے رفیق بن کرکام کریں:شاہنوازبدرقاسمی

 ارریہ، (یو این اے نیوز 30دسمبر 2020)ملی،سماجی وعلاقائی مسائل کے عملی حل اور منصوبہ بندی کیلئے گزشتہ روز مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ میں سیمانچل کے کشن گنج، پورنیہ، کٹیہار،ارریہ اور کوسی کمشنری کے سہرسہ، سوپول اور مدھے پورہ ضلع کے درجنوں علماء، دانشوران اور سیاسی وسماجی کارکنان کی ایک خصوصی مشاورتی میٹنگ ہوئی جس میں کئی اہم فیصلے لئے گئے۔



میٹنگ میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی کہ کوسی اور سیمانچل کے مابین باہمی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے بہت سے مسائل حل نہیں ہوپاتے ہیں،اگر ہم لوگ مل جل کر مشتر کہ طور پر کام کریں گے تو بڑی کامیابی مل سکتی ہے۔اس موقع پر اتفاق رائے سے ایک مشاورتی کمیٹی کاقیام بھی عمل میں آیاجس میں تمام اضلاع کے پانچ پانچ افراد پرمشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی،جن کے مشورے سے ان ساتوں اضلاع میں مرحلہ وار تحریک کے طورپر مقامی لوگوں کو جوڑنے اور کام کو مزید منظم کرنے کی بھر پور کوشش کی جائے گی۔اس میٹنگ کا آغاز مفتی محمد اطہرالقاسمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا،صدارت مولاناشاہدعادل قاسمی پرنسپل مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ نے کی۔



اس موقع پر مشاورتی میٹنگ کے کنوینر شاہنواز بدر قاسمی نے کہاکہ آج جس کمیٹی کی تشکیل ہوئی ہے اس کاکسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ کوئی تنظیم اور جماعت نہیں بلکہ ایک تحریک ہے ہم بلاتفریق مذہب ومسلک کسی بھی معتبرتنظیم اور جماعت کو سپورٹ کرسکتے ہیں بشرطیکہ وہ اچھائی اور ہمارے مشن کے ساتھی ہوں،ہم لوگ اب علاقائی سطح پر فریق بن کرکام کرنے کے بجائے رفیق بن کرکام کرنے کاعہد لیاہے۔



شاہنوازبدر نے کہاکہ بہارمیں اقلیتی کے مسائل دن بدن بڑھتے جارہے ہیں ایسے میں علاقائی سطح پر ایک پریشرگروپ کی سخت ضرورت محسوس ہورہی تھی ہم اس تحریک کے ذریعہ اس کمی کو پر کرنے ہر ممکن کوشش کریں گے۔انہوں نے مشاورتی میٹنگ میں شریک ہوئے تمام حاضرین کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ اب بہار کی تعمیر وترقی اور خوشحالی میں ہمیں اپنارول طے کرناہوگاتاکہ سماج کے ہر طبقہ کو اچھے کاموں کیلئے بیدار کیاجاسکے اور نئی نسل کوتعمیری کاموں کیلئے تیارکیاجاسکے۔شیخ الحدیث مولاناعارف قاسمی نے کہاکہ کاموں کو مزیدمنظم بنانے کیلئے آج جو کمیٹی بنائی گئی ہے ہم اس کی بھرپور تائید کرتے ہیں اس کی کمی برسوں سے محسوس کی جارہی تھی


 الحمدللہ اس تحریک سے سیمانچل اور کوسی کے لاکھوں لوگوں کو فائدہ ہوگاہمیں بڑھ چڑھ کراس میں حصہ لیناچاہئے۔مفتی اطہر القاسمی نے کہاکہ زندہ قوم کی یہ علامت ہے کہ وہ مسائل کے حل کیلئے تئیں نہ صرف سنجیدگی سے غورکرتی ہے بلکہ اس کے حل کیلئے تگ ودوکرتی ہے۔مولاناخالدانور کشن گنج نے کہاکہ یہ ایک مستحن قدم ہے ہم تمام لوگوں کو ایک ساتھ جوڑکر بیٹھناہوگاتب ہی ہم اپنے مسائل کو مضبوطی سے حل کراسکیں گے۔


مولاناشاہدعادل قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں اس تحریک کے مختلف پہلووں پرتفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اسے ایک خوش آئند اور تاریخی قدم قراردیااور کہاکہ سیمانچل اور کوسی کے ملنے سے ایک نئی طاقت کے ساتھ کام کرنے میں مدد ملے گی۔



ان کے علاوہ سینئر صحافی مولاناعبدالواحد رحمانی، مفتی انعام الباری، قاضی عتیق اللہ رحمانی، مولاناطارق انورپورنیہ، تنزیل الرحمن کشن گنج، مولانامناظر نعمانی، مشتاق اعظم کٹیہار، ابوسالک ندوی، مفتی ہمایوں اقبال،ارشدانورالف،شاہجہاں شادفاربس گنج،قاری نوراللہ نعمانی سہرسہ، پر مکھ شمیم سوپول،پرمکھ مولاناعمران،مصورعالم چترویدی،مولاناعمرفاروق کاشف،ظفراقبال مدنی سوپول،مولاناشبیرمدھے پورہ،مولانامحبوب،صحافی عبدالغنی، عارف اقبال،مولاناعبدالوارث،مولانااورنگ زیب کلیم سمیت درجنوں شرکردہ شخصیات موجودرہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad