نئی دہلی ۔اسماعیل عمران ،(یو این اے نیوز 2دسمبر 2020) اردو ادب زبان کے معروف شاعر 70 سال سے زائد عمر کے شاعر رہبر گزشتہ کئی دنوں سے علیہ چل رہے تھے اہل خانہ نے علاقے کے ماہر ڈاکٹروں سے علاج کیا لیکن دن بدن انکی طبیعت بگڑتی گئی اطلاع کے مطابق گزشتہ دس روز قبل اہل خانہ نے رہبر جون پوری کو لکھنؤ کے لوہیہ اسپتال میں ایک بہتر علاج کےلئے داخل کرایا مگر جانبر نہ ہوسکے ۔
رہبر کے انتقال کی خبر رات دس بجے سے سوشل میڈیا پر بھی رنج و غم کا اظہار کیا جارہا ہے بعض صارفین نے ان کے مختلف اشعار شیئر کئے ،رہبر جونپوری کو عصر حاضر کا ایک بہترین اردو ادب کا شاعر کہا جاتا ہے ،وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں ،انکی شاعری اور تصنیف معاشرتی اور وطن پرستی گنگا جمنا تہذیب کا عکس پیش کرتی ہے۔ جون پور کے مشہور اور تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے شاعر عرفان جونپوری نے اپنے فیسبک کمنٹ میں لکھا کہ رہبر صاحب جون پور کی نمائندگی کرتے تھے،
اسی طرح سپریم کورٹ کے وکیل زیڈ کے فیاض نے رہبر جون پوری کے وفات پر اپنے فیسبک پر لکھا کہ رہبر جونپوری سے میری ملاقات 20 سال قبل ممبئی کے ایک مشاعرے کی صدارت کے دوران ہوئی ،وہ لکھتے ہیں مجھے اچھی طرح سے یاد ہیکہ رہبر صاحب نے جب اپنی مشہور نظم آواز زنجیر پڑھی تو سامعین پر چھا گئے،اور مشاعرہ لوٹ لیا تھا،انہوں مزید لکھا کہ وہ نظم کے ایک کامیاب ترین شاعر تھے،انکی نظمیں واقعات کی عکاسی کرتی ہیں،انہوں انفرادی انداز میں منظوم تاریخ اسلام بھی لکھی جو ان کس انتہائی بڑا کارنامہ ہے وہ ایک انتہائی شریف النفس اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے،
قارئین کے خدمت میں رہبر جون پوری صاحب کے چند اشعار بطور تعزیت پیش کیا جاتا ہے
،،ماحول تیرگی کا مقدر بڑھا گیا
گھر کا چراغ گھر کے اجالے کو
کو کہا گیا،،
،،ظلم وتشدد کے شیدائی شاید تجھ کو علم نہیں
تیرے بھی سپنے ٹوٹیں گے میرے ہر اک خواب کے ساتھ ،،
،،دنیا کے لئے تحفہ ہے نایاب ہے عورت
افسانہ ہستی کا حسیں باب ہے عورت ،،
اک لمحہ حیات کی تزئین کےلئے
صدیوں سمٹ سمٹ کے بکھرتا پڑا مجھے،،
،،رہبر یہ شرپسند کہاں اور کہاں وہ رام
وہ بے نیاز عیش وطزب زر کے یہ غلام ،،
واضح رہے رہبر جون پوری صاحب کئی کتابوں کے مصنف تھے ۔جن میں درج ذیل کتابیں بہت مشہور اور علمی و ادبی حلقوں میں پسند کی جاتی ہیں
آواز زنجیر،اشک سحر،رقص ابلیس،بولتے حروف،متاع فکر،موج سراب ، وغیرہ جیسی کتابوں کے نام قابل ذکر ہیں
مرحوم کے جسدخاکی کو لکھنؤ سے صبح 6 بجے انکے آبائی گاؤں جیگہاں لایا گیا،انکی تدفین آج 2بجے دن میں گاؤں کی قبرستان میں کی جائے گی،مرحوم کے پسماندگان میں چار لڑکے اور لڑکی ہے ،اللہ تعالی مرحوم شاعر کی بال بال مغفرت فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطاء کرے اور مرحوم کا نعم البدل عطاء کرکے آمین

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں