تازہ ترین

پیر، 28 دسمبر، 2020

سیاسی رنجش کی بنیاد پر ہمارے مکان کو گرایا جارہا ہے ،معراج ۔ گاؤں کی خواتین نے سنبھال مورچہ،تحصیلدار کو الٹے پاؤں واپس جانا پڑا!

 دیوبند، سمیر چودھری (یو این اے نیوز 28 دسمبر 2020)قبضہ ہٹانے کے لئے علاقہ کے گاؤں جھبیرن پہنچی ریونیو محکمہ کی ٹیم کو خواتین کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا،خواتین نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے رونیو محکمہ کی ٹیم پر سنگین الزامات بھی لگائے جس کے بعد ٹیم بیک فٹ پر آگئی اور اسے بے رنگ لوٹنا پڑا،رونیو محکمہ کے افسران کے مطابق اعلی افسران کی ہدایت پر سرکاری آراضی پر بنے ہوئے مکان کو توڑنے کے لئے ٹیم گاؤں میں پہنچی تھی



اسی درمیان گاؤں کی خواتین نے جمع ہوکر رونیو محکمہ کی ٹیم کی مخالفت شروع کر دی اور خواتین ٹیم کے آگے لیٹ گئیں، گزشتہ دیر شام تحصیل دار دیوبند ہر ش چاؤلہ کی قیادت میں ریونیو محکمہ کی ٹیم مذکورہ گاؤں میں پٹّے کی زمین پر تعمیر کئے گئے مکان کو گرانے کے لئے پولیس فورس کے ساتھ گئی تھی، گاؤں میں زبردست پولیس فورس اور ریونیو محکمہ کی ٹیم کو دیکھ کر لوگوں میں افراتفری کاماحول پیدا ہوگیا، خواتین نے مورچہ سنبھالا اور محکمہ ریونیو کی ٹیم کی اس کارروائی کی مخالفت شروع کردی، خواتین نے نعرے بازی کرتے ہوئے محکمہ ریونیو کی ٹیم کے سامنے لیٹ گئیں۔ خواتین نے ریونیو محکمہ کے افسران کو کورٹ کے اسٹے کی کاپی دکھاتے ہوئے کارروائے نہ کرنے کا مطالبہ کیا،الزام ہے کہ مزکورہ زمین پر گزشتہ بیس سالوں سے مکان بنا ہوا ہے لیکن سیاسی رنجش کی بنیاد پر مکان کو توڑا جا رہا ہے،


الزام ہے کہ ریونیو محکمہ کے افسران ان سے پانچ لاکھ روپیہ کی رشوت مانگ رہے ہیں،جھبیرن گاؤں کے پردھان عارف تیاگی کا کہنا ہے کہ گزشتہ 20سالوں سے یہ مکان پٹے کی زمین پر بنا ہوا ہے لیکن کچھ افسران مکان کو تڑوانے کی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔گاؤں کے باشندوں نے ٹیم کو گزشتہ 3دسمبر کے ایس ڈی ایم دیوبند کے احکامات دکھاتے ہوئے کہا کہ مکان کی تعمیری کام میں کسی طرح کا رخنہ نہ ڈالا جائے، رپورٹ میں صاف طور پرتحریر کیا گیا ہے کہ تعمیری کام میں کسی طرح کا ناجائز قبضہ نہیں کیا گیا اور پٹّے کی زمین پر ہی تعمیر کی گئی ہے۔ وہیں تحصیلدار ہرش چاولا نے بتایا کہ سرکاری زمین پر ناجائز طور پر قبضہ کر مکان تعمیر کیا جا رہا ہے، اعلی افسران کی ہدایت پر ٹیم مکان کو توڑنے کے لئے گاؤں میں گئی ہوئی تھی لیکن کچھ لوگوں نے بلا وجہ سرکاری کام میں رخنہ ڈالکر کام کو رکوا دیا،انہوں نے بتایا کہ پورے معاملہ کی رپورٹ اعلی افسران کو بھیجی جائیگی


۔دوسری جانب مذکورہ گاؤں میں پٹّے کی زمین سے قبضہ ہٹانے کے معاملے میں متأثرہ معراج نے گاؤں کے ایک شخص پر ووٹ کی سیاست کی وجہ سے افسران کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا، اس معاملہ میں ضلع مجسٹریٹ سے بھی شکایت کی گئی ہے۔ آج ضلع مجسٹریٹ کو ارسال کئے گئے شکایتی مکتوب میں معراج نے بتایاکہ 2003میں اس وقت کے گاؤں پردھان نیلم تیاگی نے مکان تعمیر کرنے کے لئے 90گز زمین انہیں دی تھی۔ 2005میں قبضہ دے کر اس پر کچا مکان بنایا گیا تھا، برسات میں مکان گرنے کی وجہ سے اب اسے پکاّ بنوارہا تھا۔ 


معراج نے الزام لگایا کہ گاؤں کے رہنے والے ایک شخص ووٹ کی سیاست کی وجہ سے افسران کو گمراہ کرکے اس کے مکان کو تڑوانے کی کوشش کررہا ہے، جب کہ اس پر عدالت سے اسٹے بھی لیا ہوا ہے۔ معراج کا الزام ہے کہ گزشتہ کل تحصیل کی ریونیو ٹیم مکان توڑنے کے لئے پہنچی تھی جس پر اس کی جانب سے اسٹے کا دکھایا گیا لیکن افسران اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ معراج نے ضلع مجسٹریٹ سے پورے معاملے کی تحقیق کراکر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad