تازہ ترین

پیر، 28 دسمبر، 2020

تبلیغی جماعت گودی میڈیا کے وائرس کی کہانی

آج مہاڑ شہر سے کھیڈ جاتے ہوئے ایس۔ٹی بس میں دو خواتین ایک مرد کے ساتھ بس میں سوار ہوئیں،میں جامعہ اسلامیہ کانبلہ مہاڑ میں اپنے بھائی کو مل کر لوٹ رہا تھا،


 

دونوں خواتین ہماری اگلی سیٹ پر براجمان ہوئیں اور ان کے ساتھ والے مرد ہمارے برابر کی سیٹ پر تشریف فرما ہوئے، آگے بیٹھی ہوئی دونوں میں ایک قدرے عمر دراز تھیں، انہيں بیٹھنے کےبعد جیسے کچھ احساس ہونے لگا اور بار بار پیچھے مڑ کر دیکھنے لگیں، پھر اپنے ساتھی کو انہوں نے بیگ سینیٹائزر نکال کر دیا، مرد نے خود کو اور سیٹ کو سینیٹائزر پروف کیا، لیکن غالباﹰ اس سے بھی انہیں اطمینان نہیں ہوا، اور شکّی محترمہ نے بالآخر مراٹھی میں اپنے صاحب سے کہا " اَ وو پھڑھ چی سیٹ کھالی آہے تمی پڑھے بَسا " اور پھر وہ سیٹ تبدیل کر کے کرونا سے بچنے کے لیے آگے چلے گئے، کیونکہ ان کی باتوں سے میں نے اندازہ لگا لیا کہ وہ مجھے " تبلیغی جماعتی " سمجھ رہےہیں، 


 شروعات میں مجھے اندر ہی اندر غصہ آیا اور میں زیرلب بڑبڑایا گودی میڈیا " جہنم میں جاؤ " بعدازاں مجھے سمجھ آیا کہ اس گودی میڈیائی زہر کو انجوائے کرنا چاہیے، کیونکہ ہمارے یہاں مہاراشٹر ۔ کوکن میں ایسا مذہبی منافرت کا ماحول الحمدللہ بالکل نا کے برابر ہے، اس طرح سفر بھی کٹ جائےگا اور شاید کچھ کام بھی ہوجائے، لیکن اب گھر گھر ٹی۔وی تو موجود ہی ہے جس کےذریعے ، ارنب گوسوامی، آج تک، زی نیوز اور دیگر گودی۔میڈیا والے زہر پھیلاتے رہتےہیں، تو اس طرح کچھ لوگوں میں تھوڑا بہت "زہریلا وائرس " گھس جاتا ہے


 بہرکیف، کچھ دیر بعد، میں نے اپنا فون نکالا اور یونہی دکھاوے کے لیے فون کان سے لگایا اور قدرے زور سے سنانے کے لیے بات کرنے لگا 


جس میں پہلے میں نے یہ سوال پیدا کیا کہ سامنے والا فون پر کہہ رہا ہو کہ فلاں جگہ کسی مسلمان کو تبلیغی جماعت سے ہونے کی وجہ سے کرونائی سمجھ رہے ہیں 

جس کے جواب میں، میں نے تقرير شروع کی: " ایسا کچھ نہیں ہے، کرونا وہاں بھی پھیلا ہے جہاں کبھی تبلیغی جماعت گئی ہی نہیں، اور پھر میں نے ممبئی ہائیکورٹ کے ججز کا ججمنٹ بتایا، دہلی ہائیکورٹ کا بتایا جنہوں نے تبلیغی جماعت کو باعزت بری کیا، اور پھر انڈین ایکسپریس کے حوالے سے بات کی کہ اس نے امیت۔شاہ اور کیجریوال سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے، تبلیغی جماعت کو سازشی طورپر بدنام کرنے کی وجہ سے، (جبکہ انڈین ایکسپریس نے مطلق جماعت کو بدنام کرنے والوں سے معافی کا مطالبہ کیا ہے) لیکن پھر بھی میں نے سیاسی طورپر تبلیغی جماعت کے خلاف سازش کرنے والے سیاستدانوں کا نام بھی لیا اور میڈیا کے طوائفوں والے کردار پر بولتا رہا، اور میڈیا کے زہر کی وجہ سے مرنے والو کا ذکر کیا، پھر مجھے احساس ہونے لگا کہ شاید کال لمبی ہورہی ہے تو مصنوعی طورپر فون رکھ دیا "


 بس کے اکثر مسافروں نے میری بات سنی تھی، میری بائیں جانب کی سیٹ والی لڑکی نے مجھے دیکھا اور پھر اس نے مجھ سے بات شروع کردی، یہ لڑکی اسٹوڈنٹ ہے اور سَنگھ۔مخالف ہے، لیفٹ کے کمیونزم کی طرف رجحان ہے، اس نے اپنی بات میں ایک زبردست طنز کسا کہ یہ بھکت لوگ تبلیغی جماعت کو کرونا وائرس کا بم بول رہے تھے لیکن بہار الیکشن کی بھیڑ ہو یا کسان آندولن کی بھیڑ ہمت ہے تو ان داتا کو کرونا بم بول کر بتائیں، میڈیا وائرس کے متاثرین بغلیں جھانک رہےتھے، کسی ایک مسافر نے بھی میری مخالفت نہیں کی، محسوس ہوا کہ صحیح بات مضبوط معلومات کےساتھ پہنچائی جائے تو بھکتوں اور گودی میڈیا سے وائرس زدہ بھیڑ کو سانپ سونگھ جاتا ہے، خیر، سے کھیڈ آگیا اور بس سے اترتے وقت قطار میں، میں نے زیرلب بڑبڑاتے ہوئے کہا تبلیغی جماعت والوں کے لیے کمبخت سرکار نے الگ سے کوئی لائن نہیں بنائی 😄 



 متاثرین خود کو وِلن کی طرح محسوس کرتے ہوئے نکل لیے…اور میں کھیڈ سے چپلون کے لیے بس کا انتظار کررہا ہوں _

✍: سمیع اللّٰہ خان

۲۸ دسمبر ۲۰۲۰ 

ksamikhann@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad