مین پوری:حافظ محمد ذاکر ،(یو این اے نیوز 12دسمبر 2020)بر سر اقتدار بھارتی جنتا پارٹی مودی کی قیادت میں ملک میں متنازع بلوں کو بغیر سوچے سمجھے پاس کر رہی ہے۔حکومت یہ بھی خیال نہیں کر رہی ہے کہ ہمارے بنائے ہوئے قانون سے ملک کے لوگوں کو فائدہ بھی ہوگا یا نہیں،حکومت تو صرف تاناشاہی رویہ اختیار کئے ہوئے۔مودی حکومت ملک میں غیر ضروری نئےنئے قانون نافذ کر کے عوام کو مشکلوں میں ڈال رہی ہے۔
ان باتوں کا اظہارمین پوری کے معروف ہندی شاعر (کوی) صدر جمہوریہ سے اعزاز یافتہ دین محمد دین صاحب نے ہمارے نمائندے کے سامنے کئے،انہو نے کہا حالیہ میں کسانوں کے تعلق سے جو بل پاس کیا گیا ہے جسیزرعی قانون کہتے ہیں جو کسانوں کےلئے فائد مند نہیں بلکہ سراسر نقصان کا سبب ہے،بی جے پی حکومت کسانوں کوسرمایا داروں کا غلام بنا نے کا کام کر رہی ہے۔ نئے زرعی قانون سے کسانوں کی دوگنی آمدنی تو دور کی بات ہے،یہ کسان مستقبل میں بڑے سرمایا کاروں کے
اشاروں پر رقص کر تی نظر آئیگی۔جبکہ ہمارا ملک بھارت کی مضبوط معاشی حالت انہی کسانوں سے ہے،اسی (۰۸)فیصد کسانوں کی آمدنی سے ملک کو فائدہ حاصل ہوتا ہے،جبکہ نئے ذرعی قانون سے سرکاری منڈیا بند ہو جائیگی،سرمایا کار
سیدھے طور پرکسانوں سے فصلیں خریدیں گے،اور اپنے اپنے گوداموں میں فصلوں کا ذخیرہ یکجا کریں گے،اور پھر من مانی طور پر لوگوں کو مہنگی قیمتوں پرفروخت کریں گے۔جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں مہنگائی مزید اور بڑھ
جائیگی۔ایڈووکیٹ اے ایچ ہاشمی نے کہا کہ بی جے پی حکومت کا جو مشن ہے وہ نہایت خطر ناک ہے،ملک کے مظبوط ترین قانون کو یہ حکومت پس پشت ڈال کر منواسمرتی کے ضابطوں کو نافذ کر نا چاہتی ہے،ہزار سال سابقہ روایت پر اس ملک
کی عوام کو لیجا نا چاہتی ہے،جہاں صرف مخصوص لوگوں کو چھوڑ کر بقیہ سبھی عوام کو غلام بنا کر رکھنا چاہتی ہے۔یہ حکومت ایسے حالات پیدا کر رہی ہےکہ لوگ صرف دو وقت کی روٹی مل جا نے میں ہی اپنی ترقی اور اپنی عافیت
سمجھنے لگیں، مودی حکومت کسانوں کو دوگنی آمدنی کا جھانسہ دیکر ان کوایسے مقام پر لاکر کھڑا کر دیگی کہ سرمایا دار لوگ اپنی مرضی کے مطابق من مانے طور پر کسانوں سے فصل خریدیں گے، اس وقت کسانوں کی کوئی کہنے والا
بھی نہ ہوگا،ابھی تو کم ازکم کسان کے فصل کی قدرتی طور پر بربادی ہو نےپر حکومت مدد کر دیتی ہے،کسا نوں کا زرعی قرضہ بھی معاف کر دیتی ہے،جس سےکسان کی فصل کی بر باد سے کسان کی آنکھوں سے نکلنے والے کم ازکم آنسوتو
خوش ہوجا یا کرتے ہیں،مگر مستقبل میں کسانوں کے ساتھ کیا یہ سب ہوگا،قدرتی طور پر فصل کی بر بادی کا معاوضہ کون دیگا۔انہو نے کسان بھائیوں سے اپیل کی کہ وہ اس نئے زرعی قانون کو سمجھے اور مستقبل کے لئے
کوئی کالائحہ عمل تیار کریں،انہو نے حکومت سے اپیل کی کہ کسانوں کی جائز مانگوں کو تسلیم کریں،تاکہ” ان داتا “ کہے جانے والے کسان پریشان نہ ہوں

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں