تازہ ترین

جمعرات، 24 دسمبر، 2020

نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے ویکسین لگوائی، عوام کیلئے پورا پروگرام ٹی وی پر براہ راست نشر

امریکہ میں کورونا کے خلاف جنگی پیمانے پر اقدامات ، ویکسی نیشن کے عمل میں تیزی، بائیڈن کی اہلیہ جل بائیڈن سمیت کئی اہم شخصیات نے بھی ویکسین لگوائی۔ مارکیٹ میں ویکسین کی خوراکیں جلد بڑھانے کی کوشش۔ ڈونالڈ ٹرمپ اب تک ویکسین لگوانے کے معاملے میں خاموش ۔ کورونا ریلیف پیکیج منظور ہونے کے بعد جلد ہی عوام کو امدادی رقم ملنے کی امید۔ پیکیج کو معیشت کو پٹری پر لانے کی ایک کوشش قرار دیا گیا

نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن ریاست ڈیلاویئر میں ویکسین لگواتے ہوئے ( تصویر : ایجنسی



امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کو حسب اعلان کورونا وائرس  سے تحفظ کی خاطر  ویکسین لگا دی گئی ہے۔ بائیڈن کو ویکسین لگانے کا منظر  ٹی وی پربراہ  راست نشر کیا گیا تاکہ عوام کو یقین دلایا جا سکے کہ ویکسین محفوظ اور مؤثر ہے۔جو بائیڈن کو ریاست ڈیلاویئر کے مقامی اسپتال میں `فائزراور `بائیو این ٹیک کی تیار کردہ ویکسین لگائی گئی۔


اس موقع پر بائیڈن نے کہا کہ ویکسین لگوانے کے عمل کو دکھانے کا مقصد یہ ہے کہ جب( سبھی کیلئے) یہ دستیاب ہو تو عوام اسے لگوانے کے لئے تیار ہوں۔ اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ واضح رہے کہ فی الحال صرف ۲؍ کروڑ ویکسین ہی عوام تک پہنچی ہیں۔ اس لئے یہ ہر جگہ دستیاب نہیں ہیں۔ امریکی حکام نے کہا ہے کہ  ویکسین کی مزید خوراک جلد تقسیم کیلئے تیار کی جائیں گی۔

 نو منتخب صدر سے قبل اُن کی اہلیہ جل بائیڈن کو بھی اسی اسپتال میں کورونا ویکسین لگائی گئی۔ امریکہ میں گزشتہ دو ماہ کے دوران کورونا وائرس کےمعاملات میں تیزی سے اضافہ ہواہے اس کی وجہ سے  حکام تشویش میں مبتلا ہیں اور انہوں نے اپنی جانب سے اقدامات کو تیز کر دیا ہے۔ 



 جو بائیڈن  جنہوں نے الیکشن میں کورونا وائرس کے  خلاف سخت اقدامات کا وعدہ کیا تھا ، الیکٹول کالج میں اپنی جیت کے فوراً بعد سے ہی کورونا کے خلاف سرگرم ہو گئے ہیں۔  خود بائیڈن اور ان کی اہلیہ  کے علاوہ کئی اعلیٰ امریکی عہدے داروں نے بھی کورونا ویکسین لگوا لی ہے جن میں نائب صدر مائیک پینس، ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی اور سینیٹ میں ری پبلکن اکثریتی رہنما مچ مکونل بھی شامل ہیں۔


 امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تاحال یہ نہیں بتایا  ہے کہ وہ یہ ویکسین کب لگوائیں گے۔ خیال رہے کہ صدر ٹرمپ اکتوبر میں کورونا وائرس کا شکار ہو کر چند روز اسپتال میں بھی زیرلاج بھی  رہ چکے ہیں۔ لیکن  انہوں نے اب تک ویکسین نہیں لگوائی ہے نہ ہی اس تعلق سے کوئی اعلان کیا ہے۔ حالانکہ دونوں ہی ویکسین کی تیاری  اور  انہیں مختلف ریاستوں تک پہنچانے میں انہی کے انتظامیہ کا اہم کردار رہا ہے۔  


 پیر سے امریکہ میں دوا ساز کمپنی `ماڈرنا کی تیار کردہ ویکسین کی ترسیل کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔ امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ریگولیٹری ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے جمعہ کو `ماڈرنا کے ہنگامی استعمال کی منظوری دی تھی۔امریکہ میں فرنٹ لائن پر کام کرنے والے طبی ورکروں، نرسنگ ہوم میں مقیم ضعیف افراد کو ترجیحی بنیادوں پر ویکسین لگائی جا رہی ہے البتہ اعلیٰ حکومتی عہدے دار اور اہم شخصیات اس لئے ویکسین لگوا رہی ہیں کہ عوام میں ویکسین سے متعلق پائے جانے والےخدشات دُور کئے جا سکیں۔

 

 واضح رہے کہ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا کورونا مرکز بنا ہوا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق امریکہ میں اب تک  ایک کروڑ ۸۴؍ لاکھ  ۷۳؍ ہزار  ۷۱۶؍ افراد کورونا وائرس میں مبتلا ہیں۔ ان میں سے  ۳؍ لاکھ ۲۶؍ ہزار  ۷۷۲؍ افراد ہلاک  ہو چکے ہیں۔ جبکہ پوری دنیا کی بات کریں تو اب تک  ۷؍ کروڑ ۷۸؍ لاکھ ۲۵؍ ہزار ۶۹۴؍ افراد کورونا کی زد میں آ چکے ہیں ۔ جبکہ دنیا کے مختلف ممالک میں اب تک  ۱۷؍ لاکھ ۱۱؍ ہزار  ۶۱۵؍ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔


 یورپ میں یوں بھی کورونا کی لہر دوبارہ تیز ہو چکی ہے، ایسی صورت میں  برطانیہ میں کورونا کی ایک نئی قسم کا انکشاف ہوا ہے  اور عالمی سطح پر کم از کم پروازوں کے معاملے میں دوبارہ لاک ڈائون جیسا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad