تازہ ترین

جمعہ، 11 دسمبر، 2020

موجودہ حکومت نے اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرکے ہمیں جیل بھیجا ،ہمارے ساتھ ہماری قوم کھڑی رہی ،عدالت پر ہمیں پورا بھروسہ تھا!جاوید صدیقی

 : ہمارے گاؤں میں 9 جون  کا معاملہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے انجام دیا گیا !جاوید صدیقی

جون پور ۔اسماعیل عمران ۔(یو این اے نیوز 11دسمبر 2020)ریاست کے دارالحکومت   لکھنؤ تک ہلچل مچا دینے والے دلت مسلم بھڈیٹھی فساد میں 8دسمبر کو سماجی وادی پارٹی کے لیڈر ،ملزم جاوید صدیقی کی این ایس اے کے تحت بندی کو ہائی کورٹ نے  غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انکو فورا رہا کرنے کا حکم دیا ،



جاوید صدیقی کو 9دسمبر کو  ضلع جیل سے انتظامیہ نے تمام کاغذی کاروائی کرنے کے بعد رہا کردیا ،جسکے بعد انکے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی،جون پور شہر سے لیکر انکے گھر تک  لوگوں نے راستے میں جم کر استقبال کیا ،انکے گھر پر ہزاروں لوگوں نے انکی رہائی پر جم کر جاوید صدیقی  زندہ باد کے نعرے لگائے


واضح رہے الہ آباد ہائی کورٹ نے جونپور کے بھڈیٹھی گاؤں کی بستی میں آتشزدگی اور فساد کے بعد ملزم بنائے گئے جاوید صدیقی کو قومی سلامتی ایکٹ کے تحت بندی کو غیرقانونی قراردیتے ہوئےمنسوخ کردیا ہے،دیگر کسی کیس میں مطلوب نہ ہونے کی شکل میں انہیں فوری طور پر رہا کرنے کی ہدایت عدالت عالیہ نے 8دسمبر کو دے دی تھی 


،واضح رہے گزشتہ 9جون کو سماج وادی لیڈر جاوید صدیقی پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ تھانہ سرائے خواجہ حلقہ کے موضع بھدیٹھی میں جاوید صدیقی اور ان کے ساتھیوں کے ذریعہ ہریجن بستی میں گھس کر مار پیٹ کی اور ہریجنوں کے گھروں کو نذرآتش کیا اور جانور سمیت سازوسامان  کو بھی جلا کر راکھ کردیا،اس پورے معاملے میں ریاست اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی ادتیہ ناتھ نے مداخلت کرتے ہوئے  پولیس محکمہ سمیت ضلع انتظامیہ سے ملزموں کے خلاف  سخت سے سخت  کارروآئی کرنے کا حکم دیا تھا ،


پولیس نے حکومت کی مرضی کے مطابق سخت قدم اٹھاتے ہوئے سپا لیڈر جاوید صدیقی سمیت 35 ملزمان کو جیل بھیج دیا تھا ،جاوید صدیقی اور  مذکورہ گاؤں کے ہی موجودہ پردھان  عمران کے خلاف  بحکم وزیراعلی کے این ایس اے کے تحت کارروائی کی گئی تھی، پیر کے روز الہ آباد ہائیکورٹ نے ان پر لگے قومی سلامتی دفعہ کو غیر آئین قرار دیتے ہوئے منسوخ کردیا،جس کے بعد 9 دسمبر کو رات  ضلع جیل سے رہا کردیا گیا،یو این اے نیوز سے بات کرتے ہوئے جاوید صدیقی نے کہا مجھے موجودہ حکومت کے اشارے پر زبردستی اس پورے معاملے کا سرغنہ بنا کر پیش کیا گیا ،آج ہم عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہیں کی عدالت نے مجھ پر غیر قانونی طریقے سے لگے این ایس اے کو منسوخ قرار دیا ،اور فوری طورپر رہا کرنے کا حکم دیا،


میری اس رہائی کے پیچھے میرے اپنے لوگوں کی دعائیں اور انکی کوششوں کا نتیجہ ہے جو آج میں 6ماہ کے بعد رہا ہوکر اپنوں کے بیچ ہوں ،انہوں ایک سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا اگر مجھے میری پارٹی  2022 میں اسمبلی انتخاب لڑنے کے لئے ٹکٹ دیتی ہے تو پوری طاقت سے ہم انتخاب لڑیں گے اور سیٹ بھی نکالیں گے۔ جب ان سے نمائندہ نے پوچھا کی اس پورے معاملے میں آپکی پارٹی کا آپ کے ساتھ کیا رول رہا ؟


جاوید صدیقی نے کہا میری پارٹی میرے ساتھ کھڑی رہی اور ہر ممکن میرا تعاون کیا ،انھوں نے کہا در اصل موجودہ حکومت اپنی طاقت کا غلط استعمال کرکے ہمارے مورل کو ڈاؤن کرنے کی کوشش کی اور مجھ پر این ایس سے لگا کر 6مہینہ تک جیل میں ر کھا لیکن ہم نے اور ہمارے لوگوں نے انکی غیرقانونی  حرکت کو عدالت میں چیلنج کیا اور آج ہم پر حکومت کے اشارے پر لگائے گئے این ایس اے کو الہ آباد ہائیکورٹ نے منسوخ قراردیتے ہوئے  غیرقانونی بتایا،اور رہائی کا حکم دیا،


انہوں کہا میرے علاوہ میرے گاؤں کے موجودہ پردھان پر بھی این ایس اے لگایا گیا ہے جنکی اگلی شنوائی 16 دسمبر کو ہونی  ہے ،بقیہ جتنے بھی لوگوں کو اس پورے معاملے گرفتار کرکے جیل  بھیجا گیا تھا ان سب کی ضمانت ہوچکی ہے اور وہ لوگ بھی اپنے گھر پر جیل سے رہا ہوکر آچکے ہیں،انہوں مزید کہا جس روز یہ حادثہ ہوا اس وقت  ہم اپنے گھر میں تھے پر ہمیں کیا خبر ایک معمولی سے معاملے کو حکومت سے لیکر  پولیس انتظامیہ تک  ہندؤ مسلم  کا رنگ دے دیگا۔ موجودہ حکومت نے اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرکے ہمیں جیل بھیجا ،ہمارے ساتھ ہماری قوم کھڑی رہی ،عدالت پر ہمیں پورا بھروسہ تھا!ہمارے گاؤں میں 9جون کا معاملہ مسلمانوں کو بدنام  کرنے کے لئے انجام دیاگیا تھا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad