جس طریقے سے انفورسمنٹ ڈائرکٹریٹ نے ایک قانونی و جمہوری طور پر سرگرم عمل تنظیم کے دفاتر اور اس کے لیڈران کے گھروں پر چھاپے ماری کی ہے، اس سے ہم تمام دستخط کنندگان حیران ہیں۔ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے آٹھ دفاتر اور اس کے چیئرمین و جنرل سکریٹری سمیت کئی قومی لیڈران کے گھروں پر بغیر کسی سبب کے بیک وقت چھاپے ماری کی گئی۔
یہ شاید پہلا موقع ہے جب ای ڈی نے ملک میں اس طرح سے کسی سماجی تحریک کو نشانہ بنایا ہے۔ حکام ضوابط کی پابندی کئے بغیر ہی ایسے وقت میں اچانک گھروں میں گھس آئے، جبکہ وہاں صرف خواتین اور بچے موجود تھے اور وہ گھنٹوں تک وہیں رہے، جس کی وجہ سے گھر میں موجود افراد کافی پریشان ہو گئے۔ یہ بی جے پی حکومت کی بڑھتی تاناشاہی کی ایک اور علامت ہے کہ وہ سیاسی حریفوں اور مخالفت کی آوازوں کے خلاف مرکزی ایجنسیوں کو اپنے پیادوں کی طرح استعمال کر رہی ہے۔
جب جب ہاتھرس معاملے یا کسان تحریک کی شکل میں عوام کا غصہ پھوٹتا ہے، تب تب بی جے پی حکومتیں اس میں پاپولر فرنٹ کا نام گھسیٹ کر ایک جھوٹا ماحول تیار کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ مرکزی حکومت کا اصل مسئلے سے ملک کا دھیان بھٹکانے کا خاص طریقہ رہا ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں سے تنظیم ایسے متعدد الزامات کے نشانے پر رہی ہے اور ہر بار اس کا دامن بالکل صاف رہا ہے۔ ایک شفاف تنظیم ہونے کی حیثیت سے پاپولر فرنٹ نے پہلے ہی حکام کو کہہ رکھا ہے کہ وہ ہر طرح کی تفتیش کے لئے آزاد ہیں۔ لہٰذا یہ تنظیم کو بدنام کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔
بی جے پی حکومت اب پوری طرح سے بے نقاب ہو چکی ہے کہ اسے اپنی پالیسیوں پر ذرا بھی تنقید اور کسی بھی طرح کی مخالفت قطعی برداشت نہیں ہے اور وہ اس چیز کو خود کے لئے محفوظ نہیں سمجھتی۔
ہم مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جمہوری طریقے سے کام کرنے والی سماجی تحریکات اور حقوق انسانی کے کارکنان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا بند کرے۔ ساتھ ہی ہم حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے مفاد کی تکمیل کے لئے مرکزی ایجنسیوں اور آئینی اداروں کے غلط استعمال سے باز آئے۔
دستخط کنندگان:
٭ مولانا ولی رحمانی- جنرل سکریٹری، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
٭ جسٹس بی جی کولسے پاٹل- سابق جج، ممبئی ہائی کورٹ
٭ نوید حامد- آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت
٭ حضرت سجاد نعمانی- رکن، مجلس عاملہ کمیٹی، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
٭ حضرت سید سرور چشتی- خادم درگاہ اجمیر شریف
٭ مولانا عمرین محفوظ رحمانی- قومی سکریٹری، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
٭ ایم کے فیضی- قومی صدر، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا
٭ مجتبیٰ فاروق- ڈائرکٹر، رابطہ عامہ و رکن مرکزی مجلس شوریٰ، جماعت اسلامی ہند
٭ لینن رگھوونشی- گوانگجو انعام یافتہ برائے حقوق انسانی
٭ بجیندر سنگھ- سابق اے ڈی جی پی، یوپی
٭ محترمہ راج بالا شرما- نائب صدر، برہمن سبھا، ہریانہ
٭ نتّھو سنگھ- نائب صدر، جاٹ مہاسبھا
٭ ڈی سی کپل- صدر، آل انڈیا دلت مسلم یونائیٹڈ مورچہ
٭ نندتا نارائن- معاون پروفیسر، سینٹ اسٹیفن کالج، دہلی یونیورسٹی
٭ نشانت ورما- معروف قومی سیاسی تجزیہ کار
٭ بٹّو کے آر، ڈبلو ایس ایس
٭ مانک سماجدار- جنرل سکریٹری، بنگلہ دیش بھارت پاکستان پیپلس فورم (ہند)
٭ تارہ رائے- ڈیموکریسی کلیکٹو
٭ کے کے رائے- ایڈوکیٹ، ہائی کورٹ، الٰہ آباد
٭ گوپال مشرا- سماجی کارکن و صحافی
٭ رمیش کمار- ایڈوکیٹ، ہائی کورٹ، الٰہ آباد
٭ راجیو یادو- جنرل سکریٹری، رہائی منچ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں