تازہ ترین

جمعہ، 4 دسمبر، 2020

اصلاح معاشرہ کونسل “کے زیر اہتمام جماعت اسلامی ہند و جمعیت العلمإ ہند ضلع جونپور کے اشتراک سے اصلاح معاشرہ کا تیسرا پروگرام اختتام پذیر

جونپور ،اسماعیل عمران ،(یو این اے نیوز 4دسمبر 2020)شاہ گنج تحصیل حلقہ کے تھانہ کھیتا سراٸے کے تحت موضع مجھورا میں ” اصلاح معاشرہ کونسل “ کے زیر اہتمام جماعت اسلامی ہند و جمیعۃ العلمإ ہند کے اشتراک سے اصلاح معاشرہ کے پروگرام کا انعقاد گاؤں ہی کے نثار احمد کے گھر پر منعقدہ کیا گیا  ۔پروگرام کی صدارت جماعت اسلامی ٕ کی نماٸندگی کر رہے،مشرقی یوپی زون کے شوریٰ کے ممبر جلال الدین سرور صاحب نے اور



جماعت اسلامی ہند کے ضلع صدر مولانا عبد اللہ فاروق صاحب  نے پروگرام کی نظامت کے فراٸض انجام دٸیے۔جمیعۃ علماء ہند کی نمائندگی کرتے ہوئے  ڈاکٹر مولانا عبدالوحید قاسمی نے اپنا خطاب  قرآن کریم کی ایک آیت  ،اِنَّ اللّٰہَ لایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِأنفُسِہِمْ وإذَا أرَادَ اللّٰہُ بَقَوْمٍ سوئًا فَلاَ مردَّ لَہٗ ومَالَہُمْ مِنْ دُوْنہٖ مِن وَال (رعد:۱۱)  اور ایک شعر پڑھ کر شروع کیا 


خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا،،


مولانا نے کہا کہ ہمیں اپنے رسول مُحَمَّد ﷺ کی طرز زندگی پر چلنا ہوگا۔انھوں ﷺ نے انسان کو نہ صرف عبادت سکھاٸی بلکہ ایک طرز زندگی دی۔ہم اسوہ رسول ﷺ پر چل کر دنیا میں سرخرو ہوسکتے ہیں اور آخرت بھی سنورے گی۔انھوں نے انسانوں کیساتھ حسن سلوک کرنے پر زور دیتے ہوٸے کہا کہ اگر ہمارے نوجوان یا ہم سے کم عمر لڑکے سلام نہیں کرتے تو ہمیں چاہٸے کہ ہم سلام میں پہل کریں۔ایسا کرنے سے ہمارے نوجوانوں میں سلام کرنے کی عادت پڑے گی۔انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہمارے معاشرہ میں پھیلی براٸی پر ہم قابو پاسکتے ہیں اگر ہم حسن سلوک کرنا اپنی عادت بنا لیں۔۔غیبت سے بچیں ۔۔


کسی بھی انسان کے اچھے کاموں کی کھلے دل سے تعریف کریں ۔۔خیر سگالی کے طور پر رسول ﷺ اور صحابہ کرام کی سنت پر عمل کرتے ہوٸے ایک دوسرے کو تحاٸف دینے کی کوشش کریں۔۔اس سے آپس میں محبت پیدا ہوگی اور کسی بھی طرح کی کدورت اگر دل میں ہوگی تو دور ہوجاٸے گی۔انھوں مزید کہا اپنے آپسی جھگڑے کورٹ کچہریوں میں لے جانے کے بجائے آپس میں بیٹھ کر اپنے بڑوں کے ذریعے حل کریں ،ہمارے لئے اسی میں بھلائی ہے ،نوجوان اپنے تعلیمی مشن کو بہت ہی سنجیدگی کے ساتھ طے کریں  


،آج جس غفلت میں ہماری پوری امت مسلمہ سو رہی ہے،سمجھ میں نہیں آرہا ہے کیا کیا جائے کہاں سے کیا جائے،تقریں ہوتی ہیں ،تقریر وقتی طور پر ہوئی چلی گئیں۔ تحریکیں چلنی چاہیے ،کام ہونا چاہیے،اسکے لئے ہم سب لوگوں کو صدق دل سے کھڑا ہونا چاہیے،تعلیم کے تعلق سے مولانا  نے کہا اسوقت پوری دنیا میں سب سے بڑا فراڈ اور دھوکہ تعلیم کے راستے سے  ہورہا ہے 


کروڑوں اربوں روپیہ تعلیم کے نام پر خرچ ہورہا ہے ،قوموں کا سب سے بڑا بجٹ دفاع کے بعد تعلیم کے نام پر ہورہا ہے ،انہوں نے کہا کہ جون پور ضلع میں پرائمری اسکول  کی تنخواہ پر حکومت کا 70کروڑ روپیہ خرچ ہورہا ہے ،اور نتیجہ آپ لوگوں کے سامنے ہے ۔مولانا نے ایک کالج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کالج کے ایک ذمہ دار نے مجھے بتایا کہ گزشتہ دس سالوں میں ایک بچہ میرے یہاں سے   اس لائق نہیں ہوسکا کی اسکا داخلہ مسلم یونیورسٹی میں ہوسکے


 اس موقع پر جماعت اسلامی کے مشرقی یوپی زون کے شوریٰ کے ممبر جلال الدین سرور نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے  معاشرہ  میں نوجوانوں کو تعلیم پر بھی زور دینے کی ضرورت ہے ۔انھوں نے تعلیم کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوٸے کہا کہ اب صرف روایتی تعلیم کا دور نہیں رہا۔دنیا کافی بدل گٸی ہے ۔نظام تعلیم بھی بدل گیا ہے اب ہم کو ایک طے شدہ پروگرام کے تحت تعلیم حاصل کرنا ہوگا ۔۔تعلیم کا مقصد طے کرنا ہوگا۔۔زندگی کے کس شعبے میں طلبہ کو دلچسپی ہے اسی طرف اس کی تعلیم ہونی چاہٸے۔۔ہمارے طلبہ اور ان کے سرپرست کو چاہٸے کہ طلبہ کی صلاحیت کے اعتبار سے پہلے سے ہی اس بات کا تعین کرلیں  کی  ہمارا ٹارگیٹ کیا ہوگا۔ہم تعلیم کے میدان میں کیا کچھ کرنا چاہتے ہیں وہ پہلے سے طے ہونا چاہٸے اور اسی ٹارگیٹ کو سامنے رکھکر تعلیم میں آگے بڑھنا ہوگا


 ۔جس سے آپ کی تعلیم بامقصد ہوسکے۔ انہوں نوجوان سے کہا آپ کو اس وقت ایڈمنسٹریشن کے اعلی عہدے پر فائز ہونے کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے اور یہ کام اسی وقت ہوسکتا ہے جب آپ ایک گائیڈ لائن کے تحت اپنی تعلیم حاصل کریں گے ،اسکے لئے آپ اپنے بڑوں سے رابطہ کریں پروگرام میں موجود مولانا فاروق عبداللہ صاحب ،ڈاکٹر فخروالدین صاحب اور بہت سے وہ لوگ جنکو آپ جانتے ہیں کی وہ تعلیم کے میدان کے ایک باصلاحیت شخص کے مالک ہیں ان سے رابطہ کریں اور انکے بتائی ہوئی گائیڈلائن کے تحت تیاری کریں ،


کئی کتابوں کے مصنف عصر حاضر پر گہری نظر رکھنے والے ڈاکٹر فخرالدین قاسمی  اس موقع پر اپنی بات رکھتے ہوٸے کہا کہ ہمیں اپنے نوجوانوں کی اصلاح پر زیادہ زور دینے کی ضرورت ہے۔ہمارے نوجوان ہی قوم کے مستقبل ہیں اگر ان میں اچھے اخلاق اور اچھی تعلیم آگٸی تو معاشرے سے براٸی کا بہت حد تک خاتمہ ہوسکتا ہے۔انھوں نے سر پرستوں  والدین پر بھی زور دیا کہ ان کو بہت گہراٸی اور باریک بینی سے اپنے بچوں پر نظر رکھنی ہوگی متحد ہوکر سماج میں کام کرنے کی ضرورت ہے،کسی کام کے بہتر نتیجہ کے لئے پہلے سوچ کو بدلنا ہوگا ،رسول کریم کی طرف جو صحابہ قریب آرہے تھے انکے رویے میں تبدیلی آرہی تھی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات کہتے لوگ لپک کے لیا کرتے تھے صرف ان باتوں کو سن نہیں لیا کرتے تھے بلکہ انھیں ایک دوسرے تک پہنچاتے تھے،اور اس پر عملی طورپر عمل کیا کرتے تھے، جب تک ہم اپنے مزاج فکر  اور اپنے اندر کوئی تبدیلی نہیں لاتے  اور یہ امید رکھیں کی آپ کو رزلٹ اچھا مل جائے۔ایسا نہیں ہوتا ۔اسکے لئے ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہوگا ،مسلم قوم جن کو تعلیم کے نام سے جانا جاتا تھا 


جسکو نیک  اور اعلی اخلاق  و کردار  صاف ستھرے معاملات کے نام سے جانی جاتی تھی دوسروں کےلئے قربانی دینے والی جانی جاتی تھی، آخر کار یہ قوم آج بے شمار اچھے صفات سے کھا لی ہیں ،کیونکہ اس کا رستہ قرآن کریم سے ٹوٹ گیا ہے اس لیے آج قوم کو اپنے آپ کو بدلنا ہوگا ،نبی کے طریقے کو اپنانا ہوگا،تعلیم کے نام پر ہم کو سب کچھ قربان کرنے کی ضرورت ہے ،چیٹنگ کے راستے سے بچنے کی ضرورت ہے ،اورجنیلیٹی کی ضرورت ہے ،دنیا کے اندر قدر ہے تو صرف اورجنیلیٹی کی ہے ،اس کے علاوہ کسی چیز کی نہیں ۔آپ کو ڈی ایم ،ایس پی  ،بننے کے لئے 10 سے 18گھنٹہ پڑھنا ہوگا  تب جاکر کامیابی ملے گی ،آپ اپنی ایک شناخت بنائیں  ،نبی کے صحابہ کی اپنی اپنی ایک شناخت تھی،


آخر میں مولانا فاروق عبد اللہ صاحب نے  بڑوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا  کہ نوجوان ہی انقلاب لاتے ہیں ،بڑوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ  نوجوانوں سے کام کیسے لیا جائے، مولانا نے نوجوانوں کو  بھی مخاطب کرتے ہوئے  کئی اہم نکات پر روشنی ڈالی کامیابی حاصل کرنےکے لیے ہمارا کوئی ایک مقصد طے ہو ،اور ہمیں اپنے مشن اور مقصد سے کوئی  نہ ہٹا سکے ۔ یہ ہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کے اسوہ سے ملتا ہے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنا دعوتی مشن لیکر میدان میں اٹھے ،تو آپ کو کسی نے شاعر کہا کسی نے مجنوں کہا کسی نے کچھ سے کچھ کہا،طرح طرح کا لوگوں نے ٹائٹل دیا ،حضورنے کبھی ٹائٹل کو اپنا موضوع نہیں بنایا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اپنا کام کیا ،جسکے نتیجے میں کوئی ایسا چوپال  یا کوئی ایسی جگہ نہیں بچی جہاں پر آپ کے مشن کا اور آپ  کے پیغام کا تذکرہ نہ رہا ہو،ہم کوبھی یہی کرنا ہوگا،


انہوں نے اصحاب کہف  کا تذکرہ کیا ،نوجوان صحابی مصعب ابن عمیر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کرکے پروگرام میں موجود نوجوانوں کو انکی ذمہ داری کو سمجھانے کی کوشش کی ،مولانا فاروق  نے کہا جتنے بھی مسائل ہم پر جو آتے ہیں ،نئے نئے وجوہوں سے آتے ہیں ایک وجہ سے مسائل نہیں آتے ،اور اس کا حل بھی نئے نئے طریقوں سے ہونا چاہیے،


واضح ہوکہ اپنے علاقے بطور خاص اعظم گڑھ و جونپور کے قوم کے مواضعات میں ہورہے بگاڑ اور حکومت کی مسلمانوں کو طرح طرح سے پریشان کرنے کی کوشش ، جھوٹے مقدمات وغیرہ کے مدنظر کچھ روز قبل جمعت العلمإ و جماعت اسلامی کے رکن و عہدیداران و دیگر سرکردہ لوگوں نے مل کر ایک ” اصلاح معاشرہ کونسل “ کی تشکیل کی جس کا مقصد مسلم مواضعات میں اصلاح معاشرہ کا پروگرام چلانا ہے۔اس سلسلے میں کونسل نے کٸی مواضعات میں پروگرام منعقد کٸے۔


آج کے مذکورہ پروگرام میں بطور  خاص نثار احمد ۔اقرار احمد ۔حکیم الدین ،نیازالدین ،حسام الدین ،جمال الدین،ماسٹر ثناءاللہ ، احمد ،ابوصاد،پرویز احمد ،عبداللہ،نثار احمد ،صغیر احمد ،پرویز احمد، منے جی،وغیرھم کے علاوہ اچھی تعداد میں اہل موضع مجھوار نے شرکت کی جس میں نوجوانوں کی شمولیت زیادہ اور قابل تعریف تھی۔


آخر میں مولانا عبدالوحید قاسمی کی دعا کے بعد پروگرام کا اختتام ہوا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad