تازہ ترین

اتوار، 27 دسمبر، 2020

ایم آئی ایم لیڈرکی_فائرنگ میں ایک مسلمان کی موت, غنڈوں اور بدمعاشوں کےساتھ ملکر کوئی سیاسی انقلاب نہیں آنے والا :

   یہ سطریں بہت ہی غم کےساتھ لکھ رہا ہوں، گزشتہ دنوں عادل آباد میں مجلس اتحاد المسلمین کے صدر فاروق کی طرف سے غنڈہ گردی اور لوگوں پر کھلے عام فائرنگ کا معاملہ پیش آیا تھا، سید منان، محتشم سمیت تین لوگ زخمی ہوگئے تھے، جن میں سے ایک ضمیر الدین ۵۵ سالہ کی آج موت واقع ہوگئی، 



ضمیر عادل آباد میونسپلٹی کے سابق کاؤنسلر رہ چکے تھے، عادل آباد کی ایک ذمہ دار شخصیت نے مجھے فون پر بتایاکہ: ضمیر، مجلس کے لیڈر فاروق کی گولی باری سے لوگوں کو بچانے اور فریقین میں جھگڑے سے علیحدگی کی کوشش بھی کررہےتھے اسی بیچ فاروق نے ضمیر کو بھی گولی مار دی، وہ کئی دن سے ہسپتال میں تھے، NiMS، نظام انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں زیرعلاج تھے لیکن آج ان کی موت ہوگئی _


 مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اویسی صاحب جوکہ پورے ہندوستان کے مسلمانوں میں ایک نئی سیاسی لیڈرشپ جنم دینے کے علمبردار ہیں، جن کی پارٹی ایم۔آئی۔ایم یا مجلس ملک بھر میں سیکولر جماعتوں کو یہ وارننگ دیتی ہے کہ وہ لوگ مسلمانوں کے ٹھیکیدار نہیں ناہی مسلمانوں کے ووٹ ان کی جاگیر ہیں، لیکن مجھے اب لگتا ہیکہ یہ بات اویسی برادران کو خود بھی اور ان کے پارٹی کے سیاستدانوں کو بھی سمجھ لینی چاہیے کہ وہ بھی مسلمانوں پر نا ہی مسلط ہیں ناہی ان کے زمیندار ہيں 

 آج سے پہلے ہم نے اویسی صاحب اور ایم۔آئی۔ایم کی سیاست پر عوامی سطح پر خوش گمانی کی ہے، لیکن آج کے واقعے نے دل پر بھاری بوجھ رکھ دیا ہے، گرچہ مجلس کی  گزشتہ کئی انتخابات میں سیاسی پالیسیوں سے متفق نہیں تھا، لیکن اس پر ہم نے کچھ کہا نہیں… ہم ہمیشہ سے مجلس کی ترقی اور خیرخواہی کےحق میں رہے لیکن یہ پارٹی بھی عام سیاسی جماعتوں کی طرح چلنے لگی ہے، جس کا احساس مسلمانوں کے ہی مخلص اہل علم و دانش کو اب شدت سے ہونے لگا ہے_

 یہ بات بالکل بھی سمجھ میں نہیں آسکتی کہ مجلس کے ہیڈکوارٹر حیدرآباد سے قریب عادل آباد جیسی جگہ پر مجلس کا صدارتی عہدیدار اس قسم کا غنڈہ انسان تھا وہ اویسی صاحب کی ناک کے نیچے اس عہدے پر تھا اور اویسی صاحب کو اس کی خبر نہیں تھی، ایسے غنڈہ صفت بدمعاش کو پارٹی میں صدر بناکر سیاسی طاقت فراہم کردی آپ نے، اور اس نے مسلمانوں پر ہی فائرنگ کردی، ایک کلمہ گو کا قتل کردیا، ہم پر کیا سنگھیوں اور ہندوتوا کے دہشتگردوں کے مظالم کم تھے جو پارٹی میں غنڈے پال کر کمزور مسلمانوں کے لیے نئی مصیبت کھڑی کررہےہیں، اگر آپ کی ناک کے نیچے ایک کرمنل ۔ ایک مجرم پارٹی کا صدر ہوسکتا ہے تو ملک بھر میں پارٹی کا کتنا اعتبار رہ جائےگا؟ آپ پورے ملک میں کیسے لوگوں کو سیاسی زمین فراہم کررہے ہیں؟ 


کرکٹ میچ میں بچوں کے آپسی جھگڑے کی وجہ سے ایک آدمی بندوق اور ہتھیار سے اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر حملہ کردیتا ہے، وہ کیسا بازاری غنڈہ ہوگا؟ وہ پارٹی میں صدر کی پوسٹ پر کیوں تھا؟ 

 

 اس سے پہلے کہ پاني سر سے گزر چکے اور بےقابو ہوجائے آپ صالح اور تعمیری سیاست کی طرف آئیے، ہم چاہتےہیں کہ کانگریس، سپا، بسپا، ترنمول، آر۔جے۔ڈی جیسی نام نہاد سیکولر جماعتوں اور ایم۔آئی۔ایم کی سیاست کے درمیان صرف نام و مذہب کا فرق نا رہے، بلکہ کام کا بھی فرق رہے، غنڈوں کے ساتھ کبھی کوئی تعلیمی انقلاب نہیں آئے گا، آپ تعمیری، تعلیمی اور صالح سیاست کیجیے… 


آپکے آس پاس لوگ آپکی منہ بھرائی کرتے رہیں گے، مجلس کے نام پر بھکتی کرنے والے بے اثر خالص جوشیلے لوگوں کی تعداد سے غلط فہمی میں نا پڑیں،  لیکن ہم آپکے منہ میں مٹی نہيں ڈالیں گے، مجلس کی سیاست کا یہ پہلو تکلیف دہ اور سنگین ہے، کہیں سیاسی متبادل کی جگہ قوم کو مزید سر درد نہ مل جائے_


ہمارا مطالبہ ہیکہ صرف رسمی کارروائی کی طرح پارٹی سے برخاست کرنا کافی نہیں ہے، فاروق جیسے غنڈے کے خلاف سزائے عمر قید یا اسلامی قانون کےمطابق ظالمانہ قتل کے بدلے یہاں کی عدالت میں سزائے موت کا مطالبہ لیکر آپ اپنی پارٹی کے غنڈے کے ہاتھوں مظلوم اور قتل ہونے والوں کا مقدمہ لڑیے، اگر واقعی آپ کا ایسے غنڈوں سے کوئی تعلق نہیں ہے _


: سمیع اللّٰہ خان26 دسمبر ۲۰۲۰ 

ksamikhann@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad