تازہ ترین

پیر، 28 دسمبر، 2020

کو رونا ویکسین کے حلال یا حرام ہونے سے متعلق دار العلوم دیو بند نے کوئی فتوی جاری نہیں کیا ہے! مفتی ابو القاسم

 دیوبند، سمیر چودھری،(یو این اے نیوز 28 دسمبر 2020)  کرونا وائرس کی وجہ سے جہاں پوری دنیا جونجھ رہی ہے وہیں کرونا ویکسین بازار میں آنے سے قبل ہی تنازعات میں گھرنے لگی ہے۔ کرونا ویکسین کا استعمال حرام بتاتے ہوئے چل رہی بحث کے درمیان عالمی شہرت یافتہ تعلیمی ادارہ دارالعلوم دیوبند نے بیان جاری کرکے صاف کہا ہے کہ اس نے ویکسین کے حلال یا حرام ہونے سے متعلق کوئی فتویٰ یا بیان جاری نہیں کیا ہے۔



 دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے آج جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ کرونا وائرس کے خاتمے کے لئے جس ویکسین کی ایجاد اور استعمال کی خبریں بیرون ملک سے آرہی ہے وہ ویکسین ابھی ہمارے ملک میں عام طور پر مہیا بھی نہیں ہے۔ ویکسین تیار کرنے میں کن چیزوں کا استعمال کیا گیا، اس سلسلہ میں بھی کوئی یقینی طور پر ثبوت سامنے نہیں آئے ہیں۔ اس لئے ویکسین کے خلاف کوئی بیان یا فتویٰ دینا فی الوقت بے معنیٰ ہے۔ مفتی ابوالقاسم نعمانی نے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر دارالعلوم دیوبند کے نام سے ایک فتویٰ وائرل ہورہا ہے جس میں کرونا ویکسین کا استعمال کرنا حرام بتایاگیا ہے۔ ہم وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ کرونا ویکسین کا استعمال حرام یا حلال ہونے کے تعلق سے دارالعلوم دیوبند نے کوئی فتویٰ یا بیان جاری نہیں کیا ہے۔ 


واضح ہو کہ کرونا ویکسین تیار کرنے میں سور کی چربی کا استعمال کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر مخالفت اور حمایت میں گزشتہ کئی روز سے بحث جاری ہے، اتنا ہی نہیں ویکسین کے استعمال کو حرام بتاتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کے نام سے ایک جھوٹا فتویٰ بھی وائرل کیا جارہاہے جس سے ویکسین کو لے کر لوگوں میں شک وشبہ کی صورت حال بنی ہوئی ہے۔ دوسری جانب معروف عالم دین اور ماہنامہ ترجمان دیوبند کے مدیر اعلیٰ مولانا ندیم الواجدی نے کہا ہے کہ ویکسین جو مختلف ممالک میں تیار کی جارہی ہے اس کا فارمولہ ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے، جب تک یقین کے ساتھ یہ بات واضح نہیں ہوجاتی کہ اس میں کس چیز کا استعمال کیاگیا ہے 


اس وقت تک ویکسین کے استعمال کے جواز یا عدم جواز کا فتویٰ دینا صحیح نہیں ہوگا اس میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے اور جلد بازی میں فتویٰ دینے سے نقصان ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں یہ خبر بھی آئی تھی کہ ویکسین کی تیاری میں ترکی کے ایک مسلم جوڑے کا بھی ایک اہم کردار رہاہے، ہمیں یہ امید کرنی چاہئے کہ کوئی بھی مسلمان سور کی چربی پر مشتمل ویکسین کی تیاری میں حصہ نہیں لے سکتا۔ مولانا نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ویکسین کے سلسلہ میں جو خبریں آرہی ہیں وہ سوشل میڈیا کے ذریعہ آرہی ہیں، سوشل میڈیا کی زیادہ تر خبریں بے بنیاد ہوتی ہیں اس لئے دارالعلوم دیوبند نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ بہت مناسب اور مبنی بر احتیاط ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad