تازہ ترین

منگل، 17 نومبر، 2020

پیغمبر اعظم کی شان میں فرانسیسی صدر کی گستاخی پر جمعیۃ علماء مہراج گنج نے جوائنٹ مجسٹریٹ کو سونپا میمورنڈم

مہراج گنج ۔(یو این اے نیوز 17نومبر2020)    فرانسیسی صدر کیطرف سے پیغمبر اعظم کی شان میں گستاخی اور شارلی ابدو میگزین میں چھاپے گئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون کے خلاف پوری دنیاکے مسلمان غم وغصہ میں ہیںاور اس توہین رسالت اور کروڑوں مسلمانوں کی ایذا رسائی پر وہ سخت نالاں ہیں ، اور اس واقعہ کی بھر پور مذمت کرتے ہیں،







 آج اسی حساس مسئلہ کو لیکر جمعیۃ علماء ہند (ارشد مدنی ) اکائی مہراج گنج کی ایک احتجاجی میٹنگ مکھیالیہ مسجد شہر مہراج گنج میں منعقد ہوئی، بعد ازاں جمعیۃ کے صدر مولانا الطاف احمد ندوی اور جنرل سکریٹری مولانا محی الدین قاسمی ندوی کی قیاد ت میں ایک وفد نے جوائنٹ مجسٹریٹ /ایس،ڈی، ایم صدر کے معرفت عزت مآب صدر جمہوریہ ہند، وزیر اعظم ،صوبائی گورنر ،وزیر اعلیٰ ، کو عرض داشت پیش کرکے حکومت ہند کو فرانسیسی صدر کے خلاف مذمتی بیان جاری کرنے اور فرانس کی حرکت پر اپنے دیئے گئے تائید ی بیانات کو واپس لینے پر زور دیا۔


     جمعیۃ علماء مہراج گنج کے جنر ل سکریٹری مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے کہا کہ: رسول کی شان میں اہانت آمیز خاکوں اور فرانسیسی صدر کے بیان کو لیکر پوری دنیا میں احتحاج ہورہے ہیں، دنیا کا ہر شخص جانتا ہے کہ مسلمان اپنے اوپر ہر طرح کا ظلم اور اذیتیں برداشت کر سکتا ہے، مگر نبی کی شان میں معمولی گستاخی ، چہ جائیکہ آپ کا کارٹو ن ہو،اسے ہر گز ہرگز برداشت نہیں کرسکتا ،اسے کیسے برداشت ہوسکتا ہے کہ کسی کالج کا ٹیچر حضور کو دہشت گرد کی شکل بنا کر طلبہ کے سامنے پیش کرے، اور اسی پر بس نہیں بل کہ اس ملک کا صدر اسلام اور پیغمر اسلام کی شان میں گستاخانہ کلمات کے ذریعہ کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کرے۔

  

   مولانا ندوی نے فرانسیسی صدر کے بیان اور وزیر اعظم ہند کے ذریعہ فرانسیسی صدر کی حمایت کے بیان میں اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا،اور کہا ہمارے وزیر اعظم نے ملک کے ٣٣ کروڑ مسلمانوں کے جذبات کا ذرا بھی خیال نہیں کیا۔ حکومت ہند کو چاہئے کہ اس حساس مسئلہ کے خلاف ایسا قدم اٹھائے، جس سے مسلمانوں کو سکون ملے۔ آپ نے آزادی اظہار رائے کی سخت تردید کرتے ہوئے کہا کہ ،


 آزادی اظہار رائے کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ کسی مذہب اور مذہبی پیشواؤں کا کارٹون بناکر اس کا مذاق اڑایا جائے ، عالمی برادری کی خاموشی کا نتیجہ ہے کہ اب آئے دن میڈیا میں اسلام اور پیغمر اسلام کے بارے میں نفرت انگیز اور قابل اعتراض مواد شائع ہوتے رہتے ہیں، اس پر عالمی برادری کی بااثرشخصیات کو سجیدگی سے سوچنا چاہئے، اور مضبوط قانون وضع کرنا چاہئے۔ 

   

 میمورنڈم دینے کے وقت وفد میں مولانا فخر الدین قاسمی، مولانا طاہر القاسمی، مولانامحمد نسیم قاسمی، مولانا شبیر احمد قاسمی، مولانا شفیع اللہ قاسمی، حافظ محمد رضوان،سماجی کارکن بھائی شمس الہدی خان، مولانا عبد المنان ندوی وغیرہ موجود تھے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad