تازہ ترین

منگل، 17 نومبر، 2020

گل ناز اور ویشالی ضلع کا درد ناک واقعہ .

_جاوید اختر ذکی خان  ایک مسلم دوشیزہ جس پر مٹی  کا تیل ڈال کر نذر آتش کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔اور مجرم کی شناخت کپڑوں سے آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔دو درندوں نے اس لڑکی کو زندہ جلا کر مار ہی ڈالا۔۔۔۔وہ تڑپ تڑپ کر مر گئی ۔۔۔۔کہی کچھ بھی نہیں بدلا۔۔۔۔کہی ڈیبیٹ نہ ہوئی کہی دنگل کا سیٹ نہیں لگا۔۔۔۔۔کہی بھارت نے نہیں پوچھا۔۔



۔۔۔سب کچھ ایک منظم طریقے سے ترتیب دیا جا رہا ہے۔۔۔۔اور آپ خاموش ہی رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کسی کے  سمندری ذات میں سونامی نہیں آتی۔۔۔۔۔کیونکہ غیرت اور جزبوں کا آتش فشاں اب Extinct  ۔۔۔ہو چکا ہے۔۔۔۔جب فریدہ باد میں دو مسلم لڑکوں نے ایک غیر مسلم دوشیزہ کو گولی ماری تو پورے ملک میں اسکی مذمت کی گئی۔۔۔۔۔لوگ ان دونوں نوجوان کو سزا دلانے کی مانگ کرنے لگے۔۔۔۔پر بہار میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔ملک ایک اندھے کنوے کی طرف بڑھ چکا ہے جہاں دبیز اندھیرا ہے۔۔۔۔۔بس سیاسی نظام ۔۔۔۔۔اور مذہب کا وہ گندا کھیل کھیلا جا رہا ہے جہاں ہر طرف اقلیت نشانے پر آرہے ہیں۔۔


۔۔چھوٹی بچیاں محفوظ نہیں ہیں انکے ساتھ زیادتی کر کے انکے جسم کے اندرونی اعضاء کو یہ درندے کھا جا رہے ہیں ۔۔۔کیا اس ملک میں مذہبی جنونیوں نے خود کو سب سے اوپر بیٹھا رکھا ہے۔۔۔۔ملک کے ہر محکمے میں بیمار ذہنیت کے لوگ قابض ہو گئے ہیں ۔۔۔۔۔تاکہ ہندو راشٹر کا کھیل کھیلا جا سکے۔۔۔۔ہر طرف نفرت سیاسی نفرت کی فضا بھر رہی ہے اور یہ نفرت سب آلودگی سے زیادہ مہلک ہے جھارکھنڈ میں ایک مولانا کو القاعدہ کا ممبر بتا کر ایک سال تک جیل میں سڑا دیا گیا ۔


۔۔کل انہیں ضمانت ملی پر کیا وہ ایک سال کے اذیت کا اندازہ اس ملک کی پولیس اور سسٹم لگا سکتی ہے ۔۔ملک کے جیلوں میں کتنے بے گناہ سڑ رہے ہیں . کوئی یہ جاننا بھی نہیں چاہتا ہے کہ انکی غلطی فقط ان کا مسلمان ہونا ہی ہے .؟

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad