تازہ ترین

پیر، 5 اکتوبر، 2020

کیاسرد شبنم بھی گھرجلاتے ہیں؟

قسیم اظہر دریائے انقلاب میں شوراٹھا ہے ایک ایساشور جس نے ہزاروں چیخوں کاگلاگھونٹ دیاہے. ہزاروں اٹھنے والی آوازوں کو پست کردیاہے. ایک ہنگامہ ہے ایسا ہنگامہ جس نے ہزاروں خوشیوں کے چہرے سے ان کی خوشیاں چھین لی ہے کہ کیا سرد شبنم  میں بھی وہ قوت پیداہوگئی کہ وہ گھر جلانے لگے؟ کیاسورج کی شعاؤں میں بھی وہ زہر کامادہ سرایت کرچکاہے کہ اس کی کرنوں سے انسانیت اپنا گریبان چاکر کرنے لگے؟ کیارام راون بن گیا کہ بھارت میں آئے روز محافظ ڈاکو بننے لگے؟

بھارتی پولیس کی ثقافت ودیانت داری اور بہادری پر بننے والی دبنگ،سنگھم اور پولیس گیری وغیرہ جیسی فلموں کو دیکھ کر اگر آپ نے اصل معاشرے میں ان کی کیریکٹر کے لیے کوئی بہادری اور پبلک سیوک جیسی رائے قائم کرلی ہے توآپ اپنی اس سوچ کے ہر حروف کو مٹادیجیے. آپ ابھی اسی وقت فورا اس بھرم سے نکلیے. کہ یہ پولیس قوم کی محافظ ہے. 

کیوں کہ یہ حفاظتی دستہ جسے عوام کی زبان میں پبلک سیوک اور قانون کے حروف میں پولیس کانام دیاجاتاہے وہ در اصل ہندی فلموں کے وہی غنڈے ہیں جو اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے ظلم وستم کے تمام سرحدیں عبورکرنے کاہنر رکھتیہیں. جن کی ہر حرکت ان کے آقاء کے حکم کی محتاج ہوتی ہے.

زیادہ دور نہیں دماغ کی کھڑکی کھول کر آپ ماضی قریب میں جھانکیے تو آپ کو یہ حفاظتی دستہ کبھی کشمیر میں کشمیریوں کی زندگی کو تہس نہس کرتا اوران کی عورتوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرتا نظرآئے گا. کبھی دہلی میں جامعہ ملیہ کی لائبریری میں توڑ پھوڑ اور وہاں کے طلباء وطالبات کومشق ستم بناتانظرآئے گا. کبھی چوروں کی طرح اندھیری رات میں جے این یو میں گھس کر طلباء کے ساتھ مارپیٹ کرتانظرآئے گا توکبھی کھیتی کرنے والے غریب کسانوں پر بے رحمی سے لاٹھیاں توڑتانظر آئے گا۔

میں تمہید اس لیے باندھ رہاہوں کہ اس جماعت کا حقیقی چہرہ آپ کے سامنے آسکے.کیوں کہ شور و غوغا کے میدان میں ہم نے ہمیشہ اس جماعت کے کالیکرتوں کو نظر انداز کردیاہے. اور اب اس جماعت نے بے شرمی اور بے حیائی کی ساری حدیں پارکردی ہے. 

اس جماعت نے جو کچھ دنوں قبل  اپنے آقاؤں کے لیے اپنی وفاشعاری کا ایسا کردار پیش کیاہے کہ انسانیت نے شرم کے مارے اپنا منہ چھپالیاہے. واضح رہے کہ کئی روز قبل انسانی بھیڑیوں کی ایک جماعت  نے ہاتھرس کی ایک دلت بیٹی کی عصمت دری کرکے جنسی تشدد کا ایک ایسا گھٹیاکھیل رچاکہ جس سے اس معصوم نے اپنی زندگی سے ہاتھ دھولیا. پھرجب کانوں کان پورے ملک میں یہ خبر آگ کی طرح پھیلی تو ظلم کی انتہا کو دیکھ کر ہرکس وناکس کی روحیں کانپ اٹھیں. ہرشخص کے رونگٹے کھڑے ہوگئے. ایوان سیاست کی محرابوں میں زلزلہ آگیا جس سے پوراملک اس مظلوم بیٹی کے اہل خانہ کے غم میں ڈوب گیا.

  سیاسی طور پر مخالف پارٹی کے لیڈران بھی سڑک پر اترآئے. جن میں کانگریس کے لیڈر راہل اور پرینکا بھی ہاتھرس پہنچے اور اہل خانہ سے مل کر ان کے غم میں شریک ہونے کی کوشش کی مگر افسوس کہ اس پولیس نے راہل کو دھکے مارکر نیچے گرادیا اور ان کو آگے جانے اور اہل خانہ سے ملنے سے انکار کردیا. کچھ ایمان دار صحافیوں نے بھی جب معاملات کی چھان بین کرنے کے لیے آگے جانے کے لیے اپنے قدم اٹھائے تو انہیں بھی اس پولیس کی تشدد کانشانہ بنناپڑا۔

 یہ سب اپنی جگہ ہے مگر جب اس بیٹی کی ڈیتھ باڈی کو گھرلایاگیا تو پولیس کے ظلم وبربریت کاسلسلہ بڑھتا ہی چلاگیا کہ ابھی آخری رسومات کی باری بھی نہیں آئی تھی اورپولیس نے بچی کے گھروالوں سے رات ہی آخری رسومات کو انجام دینے پر مجبور کیا. اب چوں کہ ہندودھرم میں رات کو انتم سنکار نہیں کیاجاتا. جس کی وجہ سے اہل خانہ کے لوگوں نے پولیس سے بچنے کے لیے دروازے کوبندکرلیا. تاکہ وہ اپنی بچی کی باڈی کو دن میں ہلدی وغیرہ لگاکر  مکمل رسوم ورواج کے ساتھ اسے اس دنیاسے رخصت کرسکے۔

لیکن ہواکیا_؟ یہ وردی کے نشے میں چور اور یوگی کی طاقت میں بے لگام پولیس نے بغیر اہل خانہ کے ہی آدھی رات گزرے اس دلت لڑکی کی بے جان جسم کو اس طرح نذرآتش کردیا جیسے وہ کوئی لاوارث لاش ہو. اس سے بڑا غمناک منظر اور اس سے بڑا اندوہناک واقعہ ایک ماں باپ کے لیے کیاہوسکتاہے کہ ایک تو پوراگھرانہ اپنی بیٹی کی عصمت دری اور اس کے ساتھ جنسی تشدد کے بعد اس کی ہلاکت کے غم میں نڈھال ہوچکاہو ہو پھر اوپر سے ظلم کی انتہا کرتی پولیس نے اپنے آقاؤں کے اشارے پر بچی کی نعش بھی گھروالوں کے حوالے نہ کیاہو. جناب یہ وحشت واریت کا سلسلہ یہیں نہیں تھمتا.یہ تو کم ہے اور آگے چلیے تو پولیس بیان دے رہی ہے کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی کے ساتھ کوئی عصمت دری نہیں ہوئی.

آخر خاکی کے تیور کھادی کے سامنے اتنی تیزی سے  کیوں بدل گئے کہ مخالف لیڈر کو دھکیکھانے پڑے؟ آخر کس بڑے اور شکتی شالی راون نے اس پر ہاتھ رکھ دیاکہ وہ صحافیوں کو بھی تشدد کانشانہ بنانے لگے؟ آخرایسی کون سی مصیبت آن پڑی کہ پولیس نے اس مظلوم خاندان کے ساتھ ایسا غلط اور انسانیت کو شرمسار کرنے والا رویہ اختیارکیا؟یہ پولیس تو قوم کی محافظ بن کر اس کی ہر دکھ درد میں ساتھ رہنے کاحلف لیتی ہے. لیکن یوگی کے راج میں ایساکیوں؟  

یہ یوپی پولیس ہی کی بات نہیں بلکہ پورے بھارت کے اکثر علاقوں کی پولیس. اب پولیس ہی نہیں رہی بلکہ وہ غنڈوں موالیوں اور بے رحم درندوں والاکام کررہی ہے. یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو چوروں سے کم اور پولیس سے زیادہ خوف محسوس ہونے لگا ہے. اور موجودہ حکومت میں پولیس کے بدلتے تیور  دیکھ کر ایساہی لگتاہے کہ وہ حکومت کے کوٹھے پہ رقص کرنے والی محض طوائف بن چکی ہے.
#پولیس_

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad