ایڈووکیٹ علی حسن مرحوم سادہ لوح انسان تھے: مولانا ابو سالک ندوی
بہادرگنج، کشن گنج (نامہ نگار) ایڈووکیٹ علی حسن کا دو روز قبل طبیعت بگڑنے سے انتقال ہوگیا ہے، آج ان کے مکان پر ایک تعزیتی نشست کا انعقاد ہوا جس میں علمائے کرام اور وکلا شریک رہے۔ اہل خانہ سے ملی جانکاری کے مطابق ایڈووکیٹ علی حسن کی پیدائش جھالا گاؤں میں 1930ء کو ہوئی، ایڈووکیٹ علی حسن 1982ء کو کشن گنج آئے اور یہیں سبھاش پلی میں رہائش پذیر ہوگئے۔ 1982ء سے ہی وکالت شروع کی اور پوری عمر کشن گنج میں لوگوں کو حق و انصاف دلانے کے لیے وکالت کی خدمت انجام دیتے رہے، 2013ء میں انہوں نے فریضہئ حج ادا کیا، 1928ء میں ایڈووکیٹ علی حسن کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا تھا
جس کے بعد سے انہوں نے اب تک دوسری شادی نہیں کی تھی اور خود اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی پرورش کی، انہیں تعلیم و تربیت سے روشناس کرایا۔ ان کی رحلت سے ان کے لواحقین ہی نہیں؛ بلکہ ان کو جاننے والا ہر شخص غمزدہ ہے۔ مرحوم کی نماز جنازہ انجمن اسلامیہ کشن گنج میں ضلع کے بزرگ عالم دین مولانا غیاث الدین قاسمی مہتمم مدرسہ فرینگورہ کشن گنج نے پڑھائی۔ اس موقع پر امن انسانیت فاو ئنڈیشن کے صدر مولانا ابوسالک ندوی نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ علی حسن ایک سادہ لوح اور ملنسار انسان تھے،
ان کی اچھائیاں یاد کی جاتی رہیں گی، انہوں نے کہا کہ ایڈووکیٹ علی حسن کو علمائے کرام سے خاص لگاو ئتھا، وہ دینی جذبہئ حمیت سے سرشار تھے، انہیں خیر کے کاموں میں حصہ لینا پسند تھا۔ مولانا ابوسالک ندوی نے بتایا کہ ایڈووکیٹ علی حسن ان کے خالولگتے تھے، ایڈووکیٹ مرحوم اپنے وارثین میں دو بیٹے (۱) منا (۲) شاداب اور دو بیٹیاں (۱) مسرت افشاں (۲) مسرور سیما قابل ذکر ہیں۔ تعزیتی نشست میں تمام جج و وکلا شریک رہے، جن میں اطہر، عماد اختر، صاحب بابو، سکندر، سیبو، شمشاد عالم، فیضی وغیرہ کے نام شامل ہیں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں