تازہ ترین

منگل، 20 اکتوبر، 2020

فکر سرسید کے علمبردار، راشد کمال سامانی ایڈوکیٹ کے انتقال سے ملت کا عظیم نقصان

 فکر سرسید کے علمبردار، راشد کمال سامانی ایڈوکیٹ کے انتقال سے ملت کا عظیم نقصان


آنند نگر مہراج گنج (عبید الرحمن الحسینی) میاں صاحب اسلامیہ انٹر کالج کے منیجر وشہر گورکھپور کی ملی وسماجی شخصیت راشد کمال سامانی ایڈوکیٹ نیز مدرسہ کاملیہ مفتاح العلوم کے سابق صدر المدرسین مولانا لیاقت علی اشرفی کے انتقال پردارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ میں سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال رکھتے ہوئے ایک تعزیتی نشست آج بعد نماز ظہر مسجد” النور،، میں ادارہ کے سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں مرحومین کے لئے آیات کریمہ پڑھ کر ان کے حق میں ایصال ثواب کیا گیا۔



ادارہ کے سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ : ایڈوکیٹ راشد کمال سامانی کے انتقال سے مجھے شدید صدمہ ہوا ہے، مرحوم سے میرے دیرینہ تعلقات تھے، جب کبھی کالج میں کوئی جلسہ،  یا ملی مسائل کو لیکر کوئی میٹنگ ، یاافطار پاٹی کا انعقاد ہوتا، تو مجھے ضرور مدعو فرماتے، وہ مردم شناس ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے، وہ پاک طینت، صاف دل، بے حد حساس اور ملت کے مسائل کو لیکر سرگرم رہتے تھے، وہ ایک فعال وباوقار منیجر اور بہترین قانون داں ہونے کے ساتھ ماہر تعلیم بھی تھے، یہی وجہ تھی کہ آپ ملت کے معصوم بچوں کو ابتدائی سے لیکر ہائر ایجوکیشن تک انہیں تعلیم سے آراستہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی، اپنے شاندار اور کارہائے نمایاں کی بنیاد پر تقریباً تین دہائیوں تک منتظمہ کمیٹی کے سکریٹری کے عہدہ پر فائز رہے، اس دوران جس رفتار سے کالج نے تعمیر وترقی کا سفر طے کیا وہ حیرت انگیز ہے، 


خوبصورت گیسٹ ہاوس و آڈیٹوریم کے علاوہ ایک معیاری انگریزی اسکول کی بلڈنگ کی تعمیر آپ کی بے لوث خدمت، محنت اور جدوجہد کی جیتی جاگتی مثال ہے، ہر شخص اس بات کا معترف ہے کہ مرحوم نے اپنے خون جگر سے نہ صرف اس کالج کی آبیاری ولالہ زاری کی ، بل کہ خلوص اور لگن سے اس کی ایسی نگہ داشت کی کہ یہ کالج زمانے کی دست بُرد سے محفوظ رہتے ہوئے، شاہراہ ترقی پر گامزن رہا، مرحوم کی انہی ساری خوبیوں اور تڑپ کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ اللہ کی طرف سے آپ کو دل درد مند عطا کیا گیا تھا، مرحوم بلاتفریق مذہب وملت ہر ایک کے دکھ درد میں شریک ہونا اپنا دینی وانسانی فریضہ سمجھتے تھے ۔


دارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ کے موقر رکن شوریٰ ومیاں صاحب اسلامیہ انٹر کالج کے اردو لیکچرر مولانا طارق شفیق ندوی نے اس سانحہ ارتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ : شہر گورکھپور ایک سچے اور مخلص ملی قائد سے محروم ہوگیا، منیجر راشد کمال سامانی نہایت ہی نیک دل ونرم خو اور بااخلاق تھے، آپ نے ادارہ کے تمام افراد کے ساتھ خواہ تدریسی عملہ یا غیر تدریسی، ہمیشہ مشفقانہ و مخلصانہ برتاو رکھا، جو کبھی فراموش نہیں کئے جاسکتے،


 ادارہ کا ان پر بڑا اعتماد تھا، چوں کہ اس کی تعمیر وترقی کی راہ میں جس آبلہ پائی اور جانفشانی کا مظاہر ہ کیا، وہ کسی شہادت کی محتاج نہیں، کالج کے درودیوار اور اس کا تعلیمی معیار ہی کافی ہے۔بلاشبہ اللہ نے آپ کو تحریکی ذہن کا انسان بنایا تھا، آپ کی کارکردگی اور کالج کی تئیں شبانہ روز محنت کا نتیجہ ہے کہ مشرقی اتر پردیش میں ایم ، ایس ، آئی کو تعلیمی معیار کی بلندی ومرتبہ حاصل ہے،یقینا بام عروج تک پہنچانے میں آپ کا زبر دست رول رہا ہے، اللہ آپ کے درجات کو بلند فرمائے، اور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے،آمین۔


دارالعلوم فیض محمدی کے ناظم اعلیٰ مولانا سعد رشید ندی نے مولانا لیاقت علی اشرفی کے انتقال کو پوری ملت اسلامیہ کیلئے عموماً وتعلیمی حلقوں کے لئے خصوصاً ایک دل دوز سانحہ قراردیا ہے ، آپ نے کہا کہ مولانا مرحوم ویسے تو زندگی کے متنوع شعبہ میں کارہائے نمایاں خدمات انجام دیا مگر آپ کی توجہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ ملت کو یہ احساس دلانے میں بھی ہمیشہ رہی کہ تعلیم سے منہ موڑنے کے نتائج بہت ہی بھیانک ہوتے ہیں۔ اس کے لئے وہ ہمیشہ رواں دواں رہے۔


دارالعلوم کے مہتمم مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے اظہارتعزیت کرتے ہوئے کہا کہ: مولانا لیاقت علی اشرفی ایک جید عالم دین تھے، انہوں نے پوری زندگی اپنے خطابات کے ذریعہ تعلیم کو عام کرنے کی پرُزور وکالت کی اور اپنی فکر کو عملی جامہ پہنانے کے لئے عرصہائے دارز تک مدرسہ کاملیہ کلہوئی بازار درس وتدریس کے مقدس پیشہ سے وابستہ رہے، اور جب بھی موقع ملا آپ نے تعلیم کے تئیں ملت کو بیدار کرنے کے ساتھ ملت کے فعال ومتحرک شخصیات کو بھی دینی درسگاہیں کھولنے کی ترغیب دی، واضح رہے کہ دارالعلوم فیض محمدی، ہتھیا گڈھ کا قیام بھی آپ ہی کی تحریک وترغیب کے سبب ہوا، خدا سے دعاء ہے کہ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔آمین۔


اس تعزیتی نشست میں مفتی احسان الحق قاسمی ، ڈاکٹر مولانا محمد اشفاق قاسمی، شیخ الحدیث مولا نا افضال احمد قاسمی ،مولانا محمد صابر نعمانی،مولانا محمد یحی ندوی، مولانا شکراللہ قاسمی، مولانا وجہ القمر قاسمی، حافظ ذبیح اللہ ، حافظ عبداللہ ، محمد قاسم، حافظ محمد ناظم حلیمی، ماسٹر فیض احمد، ماسٹر محمد عمر خان، مولانا محمد قیصر فاروقی، ماسٹر جاوید احمد و ملا محمد مسلم ، مولانا زبیر احمد غیر ہ موجو دتھے ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad