مسلم سماج اب کسی بھی سیاسی پارٹی کے فرش یا کر سیاں نہیں اٹھائیگا:حافظ رضوان
حافظ محمد ذاکر .بھوگاؤں،مین پوری مجلس اتحاد المسلمین کے نئے صدر محمد عمر عرف گڈو کا آج بعد نماز جمعہ کثیر مجمع میں شاندار استقبال کیا گیا،بعد نماز جمعہ محلہ محمد سعید مدینہ مسجد کے قریب حافظ محمد رضوان انصاری کے مکان پر استقبالیہ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔جس میں کثیر تعداد میں نوجوانوں نے شر کت کی اور نئے صدر کا گلاب پوشی کے ساتھ استقبال کیا،اس موقعہ پر نئے صدر محمد عمر عرف گڈو نے کہا کہ میں پارٹی اور پارٹی کے صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی کے ہر حکم کو بجا لانے کا عہد لیتا ہوں
،اور پارٹی کی تمام پالیسیوں کو ایمانداری کے ساتھ عام عوام تک پہچا نے کا عہد لیتا ہوں،ضلع اور خصوصاًاپنے قصبہ بھوگاؤں میں پارٹی کی بنیادوں کو مضبوط کرونگا،انہو نے کہا سبھی پارٹیوں نے چاہیں وہ کانگریس ہو،سپا، ہو،بسپا ہو سبھی نے مسلم سماج کا سیاسی استعمال یعنی ووٹ حاصل کیا ہے،اب مسلم سماج میں سیاسی شعور پیدا ہو گیا ہے،وہ اب اپنی قیادت کو خود مضبوط کریگا،اتر پردیش میں کثیر تعداد میں مسلم ووٹ ہو نے کے باوجود کوئی سیاسی منچ نہیں ہے،یہ بڑے ہی افسوس کی بات ہے
،مختصر سی قوموں نے اپنے اپنے سیاسی منچ تعمیر کر لئے،مگر مسلم قوم ہی ایک ایسی قوم ہے جو آزادی سے ابھی تک کوئی مضبوط سیاسی منچ کی تعمیر نہ کر سکی،مگر اب ایسا نہیں ہو گا،کیونکہ مسلم سماج کو اب اویسی صاحب جیسا قد آور نیتا مل گیا ہے،جو سڑک سے لیکر سنسد(پارلیا منٹ)تک بے باک ہو کر پسماندہ سماج کے حق کی بات کرتا ہے۔ پارلیامنٹ میں اویسی کی تقریر یہ واضح کرتی ہے کہ ملک کا لیڈر ایسا ہی ہو نا چاہئے،جس کی گفتگو کے سامنے سب کے سب طفل مکتب نظر آتے ہیں،نئے صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم سماج اب کسی بھی سیاسی پارٹی کے فرش یا کر سیاں نہیں اٹھائیگا۔میڈیا اہلکار کے ایک سوال کے جواب میں محمد عمر عرف گڈو نے کہا کہ یہ بات سہی ہے کہ اس سے قبل کچھ زور آور لوگوں نے پارٹی کے نئے کارکنان کو دھمکا یاتھا،
جس کی وجہ سے پارٹی کے کارکنان نے اپنا عہدہ بھی چھوڑ دیا تھا،اور پارٹی کی تشہیر وغیرہ بھی روک دی تھی۔مگر میں ایسا ہر گز نہیں کروناگا،میں ذمہ داری کے ساتھ پارٹی کی تشہیر کرونگا،مجھے کسی کا کوئی خوف نہیں ہے۔میں اب اویسی کی فوج کا ایک ادنیٰ سپاہی ہوں،مجھے کمزور نہ سمجھا جائے
۔انہو نے کہا کہ اس سر زمین بھوگاؤں پر آج سے کئی سال پہلے ہم نے ہی یہ نعرہ دیا تھا ”جے بھیم جے میم “ ایک سوال کے جواب میں انہو نے کہا کہ اتر پردیش ہی نہیں بلکہ پورا ملک بد عنوانیوں کی زد میں ہے،ملک میں قانون کی بالادستی کا نفاذ ہونا چاہئے،
آج ملک میں غریبوں،کسانوں،مزدوروں کولوٹا جارہا ہے، ماسک کے نام پر لوگوں پر تشدد کیا جارہا ہے۔اتر پردیش میں معصوم بچیوں کا جنسی اتحصال کے بعد قتل کیا جارہا ہے۔کیا یہی ایک اچھی حکومت چلانے کا نام ہے،؟
اس موقعہ پر عرشل انصاری،اویس انصاری،حافظ محمد رضوان،حافظ محمدعمر صوفی جی،زین العابدین،قریشی،حافظ محمد سمیع الدین،محمد عابد ہاشمی،رضوان علوی،کے علاوہ نصف سیکڑے کے قریب لوگ موجود تھے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں