مکرمی:مذہب کے نام پر وجود میں آیا پاکستان کبھی بھی اسلام مذہب کا محافظ نہیں بن سکا۔مہاجر،بلوچ اور بالخصوص شیعوں نے یہاں بہت زیادہ خون خرابے کا سامنا کیا۔شیعوں اور احمدیوں نے تو 1948 سے ہی زیادتیاں جھیلی ہیں۔پاکسان میں 20 فیصد شیعہ اور 80 فیصد سنی ہیں۔پاکستان سرکار نے 1949 میں ایک قانون پاس کیا کہ یہاں موجود شدت پسند بتا سکیں کہ کون شریعت پرعمل کرنے والا مسلمان ہے اور کون نہیں۔اقتدار کی تبدیلی کے دوران سب سے زیادہ شیعوں اور احمدیوں نے یہاں زیادتیاں جھیلیں ہیں۔
کیونکہ ان کی سوچ ان سے الگ تھی۔احمدیوں کے خلاف چلے تقریباً دس سال کمپین کے بعد1974 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا اور اسی کے ساتھ شیعوں کے خلاف مظالم بڑھ گئے۔اسی سرکاری فرقہ پرستی نے پاکستان میں شعیہ سنی کی کھائ کوبڑھاوا دیا اور جنرل ضیاء کی سرکار شیعوں پر مظالم میں اضافہ کیا۔1983 میں کراچی میں ہوئے شیعہ سنی فساد میں ہزاروں لوگوں کی جانیں چلی گئیں اود فساد کی آگ کی لپیٹ بلوچستان اور پنجاب میں بھی پھیل گئ۔پھر یہ دنگےمحرم کی کہانی بن گئے۔1988 میں اسامہ بن لادن کی سرپرستی میں گلگت میں سنی شدت پسند قبیلے نے شیعوں کو بے رحمی سے قتل کر ڈالا۔2003میں کوئٹہ کی شیعہ مسجد میں ہوئے بم دھماکے میں 53شیعوں کی جان چلی گئی۔
2004 میں کوئٹہ کے ہی لیاقت بازار میں ہوئے 42 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔مذہب کی بنیاد پر بنے ایک ملک میں اقلیتوں کی زندگی اجیرن بن گئ۔اس ملک میں طاقتور سنی تو فائدے میں رہے لیکن باقی سبھی کو پریشانیاں جھیلنی پڑیں۔اب وقت آ گیا ہیکہ ہندوستانی مسلمان اپنے بڑوں کو شکریہ کہیں جو آزادی کے دوران بھارت میں ہی رہے۔
شفیق الرحمٰن نئ دہلی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں