کشن گنج 4 اکتوبر (پریس ریلیز) آج ۴ اکتوبر کو راشٹریہ علماء کونسل کا یوم تاسیس ہے، آج ہی کی تاریخ یعنی ۴ اکتوبر ۸۰۰۲ء کو اعظم گڑھ کی سرزمین پر دانشوران ملک و قوم کی جانب سے راشٹریہ علماء کونسل کی مضبوط بنیاد رکھی گئی تھی۔ مولانا عامر رشادی مدنی، مولانا طاہر مدنی اور ان کے رفقائے کار نے مل جل کر اعظم گڑھ میں امن بحال کرانے میں اہم کردار ادا کیا اور ملکی سطح پر پارٹی کے لیے راہیں ہموار کیں،
جس کا نتیجہ یہ ہے کہ چودہ صوبوں میں پارٹی کی یونٹ بن چکی ہے۔ آج پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع سے راشٹریہ علماء کونسل بہار یونٹ کے صوبائی صدر فردوس احمد پرنس نے کہا کہ ہماری پارٹی کا شروع سے ہی مزاج گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینا رہا ہے، ہماری پارٹی نے بارہ سالہ دور سیاست میں کبھی”ہندو مسلم“ کے تعلق سے کوئی متنازع بات نہیں کی۔ پارٹی کے صوبائی نائب صدر توحید انصاری نے کہا کہ راشٹریہ علماء کونسل صداقت شعار محب وطن اور ایماندار لوگوں کی پارٹی ہے، ہم انیکتا میں ایکتا کی سیاست کے قائل ہیں۔
صوبائی سکریٹری ماسٹر سفیر الدین راہی نے کہا کہ راشٹریہ علماء کونسل نے بارہ سالوں میں اب تک جس جدو جہد اور قربانی کا مظاہرہ کیا ہے وہ اس پارٹی کا ہی خاصہ ہے،
ہماری پارٹی نے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور مسلمانوں کے سروں سے دہشت گردی کا جھوٹا داغ مٹانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پارٹی کے صوبائی انچارج اور یوتھ فرنٹ کے قومی نائب صدر مولانا آفتاب اظہر صدیقی نے بتایا کہ راشٹریہ علماء کونسل کا نعرہ ہی ”ایکتا کا راج چلے گا، مسلم ہندو ساتھ چلے گا“ ہے، ہماری پارٹی بھڑکاؤ بھاشنوں اور جذبات کو برانگیختہ کرکے بٹوارے کی سیاست نہیں کرتی؛ بلکہ ہم سیاست میں تمام مذاہب کو ساتھ لے کر چلنے اور ہر کسی کو سیاسی حصہ داری دینے کی بات کرتے ہیں۔
مولانا آفتاب اظہر نے یہ بھی کہا کہ راشٹریہ علماء کونسل نے اب تک جو حاصل کیا ہے وہ اعتماد اور سیاسی وقار ہے، ہم نے اپنے سر کو کبھی جھکنے نہیں دیا اور ضمیر کو کبھی بکنے نہیں دیا۔ ان کے علاوہ مولانا عبدالکریم جامعی، مولانا صائم قاسمی،مولانا منصور القادری، ڈاکٹر پرویز عالم، ماسٹرصدام حسین وغیرہ نے بھی قومی یکجہتی اور گنگاجمنی تہذیب کو فروغ دینے کی بات کی۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں