دیوبند24/ اکتوبر(دانیال خان)بالی ووڈ کے مشہور صوفی سنگر ذیشان و فیضان صابری اور دہلی کے معروف شاعر و قلم کارڈاکٹر تابش مہدی کی دیوبند آمد پرجہان ادب اکیڈمی کے زیر اہتمام ایک شاندار ادبی محفل کا انعقاد محلہ قلع پر واقع اعظم صابری کی رہائش گاہ پر کیا گیا جس میں مہمان خصوصی کے طور پر استاذ شاعر شمیم کرتپوری نے شرکت کی،مشاعرہ میں شمع روشن ذیشان وفیضان صابری نے کی اورصدارت ڈاکٹر تابش مہدی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض دیوبند کے نوجوان شاعر و جہان ادب اکیڈمی کے صدر تنویر اجمل نے انجام دئیے۔
![]() |
| فوٹو۔ اعزاز دئے جانے کا منظر |
مشاعرہ کا افتتاح فیتہ کاٹکرمعروف شاعر دلشاد خوشترنے کیا۔اس دوران جہان ادب اکیڈمی کی جانب سے ذیشان و فیضان صابری اور ڈاکٹر تابش مہدی کو انکی ادبی خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا گیا۔اس موقع پر ڈاکٹر تابش مہدی نے کہا کہ جہان ادب اکیڈمی کے ذریعہ کی جا رہی ادبی خدمات قابل قدر ہیں۔ذیشان و فیضان صابری نے کہا کہ ان کے ذریعہ گائی گئی تنویر اجمل کی غزلوں کی البم کے ہٹ ہونے کے بعد اب کمپنی ان کی غزلوں کی دو اور البم انکی آواز میں بہت جلد ریلیز کرنے جا رہی ہے۔پروگرام کا آغازسہیل اکمل کی نعت پاک سے ہوا۔ اس موقع پر شاعروں نے اپنا کلام سنا کر خوب داد وصول کی۔ پسندیدہ اشعار قارئین کے لئے پیش ہیں:
کیا خبر کون کب لوٹ لے راہ میں
قافلے سے الگ مت رہا کیجئے
(ڈاکٹر تابش مہدی)
اپنے ہی پانوں پے خود ہم نے کلہاڈی ماری
راز کی بات پڑوسی کو بتا دی ہم نے
(شمیم کرتپوری)
ہاتھ سے ہاتھ ملانے والوں
دل ملاؤ تو بات بن جائے
(دلشاد خوشتر)
میں تنہا ہو کے بھی تنہا نہیں ہوا اجمل
وہ سایہ بن کے میرے ساتھ چلتا رہتا ہے
(تنویر اجمل دیوبندی)
کہاں جاتے ہو یوں پہلو بدل کے
ابھی کچھ شعر باقی ہیں غزل کے
(ڈاکٹرکاشف اختر)
ان کے علاوہ ذیشان صابری،اعظم صابری،فیضان صابری،ڈاکٹر عدنان انور،نفیس احمد نفیس،سہیل اکمل،نوشاد صابری،نواب اختر،فیروز صابری،محمد یوسف اور فیصل عثمانی وغیرہ نے بھی خوبصورت کلا م پیش کرکے حاضرین سے خوب داد وتحسین وصول کی۔ پروگرام کے آخر میں کنوینر مشاعرہ دلشاد خوشتر اور نائب کنوینر سہیل اکمل نے سبھی شعراء کرام اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں