(انوار الحق قاسمی ڈائریکٹر:نیپال اسلامک اکیڈمی)
جوں جوں بہار الیکشن کاوقت قریب آتاجارہاہے،ویسیویسیسیاسی پارٹیاں بڑے ہی شدومد کیساتھ اپنی سیاسی سرگرمیاں دیکھاتی نظر آرہی ہے،سیاسی قائدین ہردفعہ کی طرح اس دفعہ بھی عوام کوسبزباغ دیکھلارہیہیں،نیز خوب لمبے لمبے وعدے بھی کرتینظرآرہیہیں،جن وعدوں کاخیال تک بھی ان کیاقتدار میں آجانیکیبعد،کبھی ان کیاذہان میں،شایدہی آجائے کہ میں نیعوام سیکبھی ووٹ کی بھیک مانگتے وقت فلاں فلاں وعدے کیے تھے؛مگر وعدہ ایفاکرنا،بس ایک خواب وخیال ہے،جوبس خواب وخیال ہی کی حدتک ہے،اور ان کاحقیقت سیدور تک کابھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔
![]() |
ایسا میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ کوئی ایک الیکشن کیموقع سے نہیں؛ بل کہ ہرایک الیکشن کیموقع سیہرسیاسی بڑی چھوٹی پارٹی عوام کو بیوقوف بنانیکیلیے ایک دونہیں؛بل کہ بیشمار جھوٹے وعدے کرتی ہیں، اورپھراقتدارکی کرسی حاصل کرلینے کیبعد،اپنیساریوعدوں کواس طرح بھول جاتی ہیں کہ خیال ہوتاہے،کہ یہ وعدے ان کی زبان پرکبھی آئیہوں،یہ تودور؛بل کہ ان کیقلوب میں کبھی کھٹکیہوں،ان کابھی احساس، ان کیرویہ سینہیں ہوتاہے،جن کاگلہ اور شکوہ ہرہندوستانی ہرالیکشن کیموقع سیبکثرت کرتینظرآتیہیں۔
مگر بہار کی عوام بھی اب پہلیسیکافی بیدار اورچاق وچوبندہوچکی ہیں،اور انہیں ان کیہرایک وعدہ کی یاددہانی بھی دلارہی ہیں، کہ آپ فلاں وعدہ کی طرف بھی ایک نظر دوڑائیں کہ وہ وعدہ پورابھی ہوا؟یاصرف بس وعدہ ہی تک رہ گیا ہے؟ اس طرح بہار کی عوام سیاسی پارٹیوں کی اس دفعہ خوب جم کرقدم قدم پرگرفت کررہی ہیں، جس سیصاف معلوم ہوتاہیکہ اب کی بار بہار2020ء کاالیکشن اقتدار کی کرسی پرکسی نئے چہرے کودیکھناچاہ رہاہے۔
یہ ایک حقیقت ہے جس سے کسی فرد بشرکوانکار نہیں ہے کہ ہرمیدان میں ترقی سیبہت دور اگر کوئی صوبہ ہے،تووہ صوبہ بہار ہے،یہاں نہ اچھے تعلیمی مراکز ہیں، جن کانتیجہ یہ ہے کہ یہاں کے طلبہ اعلی تعلیم کیحصول کیلییدیگر صوبوں میں قائم اعلی مراکزکارخ کرتے ہیں، نہ معاش کاکوئی بہترین نظام ہے،اس لیے مجبورایہاں کیلوگ کسب معاش کے لیے دیگرصوبوں کاسفرکرتیہیں اور وہاں خوب محنت کرکیاپنی آل واولاد کی پرورش کرتے ہیں،اور نہ ہی یہاں ہرطرح کی فیکٹریاں ہیں، اسی طرح سڑکیں بھی ٹوٹی پھوٹی اور اونچی نیچی ہیں،کہ اگر ڈرائیور سیمعمولی غفلت بھی ہوئی،توسمجھییکہ حادثے کاوقوع یقینی ہے،اوراسی طرح بجلی کابھی مسئلہ ہے کہ اکثر مقامات تک بجلی نہیں پہنچی ہوئی ہے،جس کی وجہ سے لوگوں کو کافی دقتوں کاسامناکرناپڑرہاہے،نیز پانی کابھی اب تک کوئی معقول انتظام نہیں ہوسکاہے۔
یہی چند اور اہم وجوہات ہیں، جن کی بناآج صوبہ بہار دیگرصوبوں کے مقابلے میں بہت پیچھے ہے، اوردیگرلوگوں کی نظروں میں بہار والوں کی کوئی خاطر خواہ وقعت واہمیت نہیں ہے؛اس لیے کہ یہ لوگ ہرچیزمیں دوسروں کیمحتاج ہی ہیں، نہ کہ محتاج الیہ اور دنیامیں اسی کی عزت ورفعت ہوتی ہے،جومحتاج الیہ ہوتے ہیں، اور محتاج توخیرمحتاج ہی ہیاس کی کیااہمیت ہوگی؟۔
بہار اگر پیچھیہے،توبس وہ لالویادواورنتیش کمار کی دین ہے،یہ دونوں ایک جان اوردوقالب کیمانندہیں،معمولی فرقوں کے ساتھ تقریبادونوں ہی کابہار کیساتھ زمام حکومت ہاتھ میں لینیکیبعدایک ہی رویہ رہاہے،یعنی دونوں ہی گھپلہ باز انسان ہیں اور دھوکہ باز بھی کوئی کم نہیں ہیں، یہ لوگ مفاد پرست انسان ہیں،بس یہ اپنافائدہ سوچتے ہیں، عوام کاقطعی نہیں اور عوام کی کیا حالت ہے؟اس سیبالکل بے خبر رہتے ہیں؛ اس لیے بہار کی عوام ان دونوں کابالکل صفایا کرنا چاہتی ہیاور کسی نئے لیڈر کیہاتھ حکومت سپرد کرناچاہتی ہے۔
مجھے اس بات کا یقین کامل ہے کہ تعلیم یافتہ افراد بہت ہی سوچ سمجھ کر ووٹ دیں گے اور کسی کے بہلاویپھسلاوے میں کسی صورت میں نہیں آئیں گے اور وہ ہر ظالم وخائن کو اقتدار کی کرسی سے محروم کرکے کسی امانت دار شخص کے ہاتھ بہار حکومت کی باگ ڈور سپردکریں گے؛ مگر مجھے غیر تعلیم یافتہ افراد سے بہت ہی خدشہ لاحق ہے، کہ کہیں وہ بہلاوے اور پھسلاوے کے شکار نہ ہو جائیں، اور پھروہ ووٹ جو کہ ایک امانت ہے، اسے غیر امانت سمجھ کر غیر امین شخص کے حوالینہ کردیں،نتیجتاپھرکسی خائن ہی کی حکومت عمل میں آ جائے؛
اس لیے کہ غیر تعلیم یافتہ افراد سادہ لوح انسان ہوتے ہیں، انہیں ہر ایک اپنی چکنی چپڑی باتوں کے ذریعے باآسانی اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں اور پھر انہیں جب چاہیں اور جس طرح چاہیں اپنے مفاد کے لیے استعمال کر لیتے ہیں؛ اس لیے ہر علاقے کے تعلیم یافتہ افراد اپنے اپنے علاقے کیغیر تعلیم یافتہ افراد کی ذہن سازی کریں اور انہیں غلط اور صحیح کی پہچان کرائیں، تاکہ وہ کسی کیبہکاوے میں آکر غلط فیصلہ نہ کرلیں، جس کاخمیازہ پانچ سالوں تک پھربھگتنا پڑے۔
اگر ماحول سازگار بنایا گیا اور عوام کے دلوں میں نیا بہار بنانے کا جذبہ اور شوق بھی پیدا ہو گیا،اور ان کیجذبہ و شوق کے مطابق ووٹوں کا صحیح استعمال بھی کیا گیا، تو یقین کیجئے کہ -ان شاء اللہ العزیز -آنے والے پانچ سالوں میں بہار وہ بہار نہیں رہے گاجواب تک تھا،جس بہار میں حکومت پر جلوہ افروز انسان سے عوام اب تک دھوکہ ہی کھاتی آرہی تھی اورہرمیدان میں پستی زوال کے شکار ہونے کی وجہ سے عوام و خواص کی نظروں میں حقیر تھی، اب جب بہار ہرمیدان میں (یعنی اعلی تعلیمی مراکز کے قیام اور ان کے لیے اچھیاساتذہ کا انتخاب، ہر طرح کی فیکٹری کا وجود اورراستوں کی مرمت اور پیچنگ،بیروزگاروں کوروزگاری کاملنا، ہر ہرگھر تک بجلی کی سپلائی اور بیت الخلاء کی تعمیر،ہرکھیت تک سینچائی کاپانی، صاف شہر، صاف اور خوش حال گاؤں)ترقی کرے گا، تو پھر اہل بہار ایک نئی شان و شوکت کے ساتھ حیات مستعار بسر کریں گے اور ان کاایک نمایاں مقام بھی دیگرصوبوں میں مقیم افراد کے قلوب میں پیدا ہو جائے گا،اور اب یہ بھی کسی کے محتاج نہیں رہیں گے۔
اسی طرح اقتدار میں آنیوالی حکومت اپنیدور اقتدار میں صوبہ بہار سیمآب لینچینگ کینام سے،ظلم وستم کاایک نیاسلسلہ،جوچندسالوں سیبڑیہی زور شور کے ساتھ مروج ہیاس کابھی خاتمہ اگرکردے گی،تومیں کہتاہوں کہ اگر ایساہواتوصرف اسی کیخاتمیسیبہار میں ایک نمایاں تبدیلی پیداہوجائیگی۔
ماب لنچنگ کا نام ہی سن کر جسم کا ایک ایک عضو ڈراور دہشت سے کانپنے لگتا ہے اور کیوں نہ کانپے جب کہ اس میں کسی بے گناہ مسلمان کو محض اس بنیاد پر کہ وہ مسلم و مومن ہے،موقع پاتے ہی، انسان نما درندوں کی ایک جماعت سرعام ہاتھوں اور پیروں کو مضبوط رسی سے باندھ کر خوب زدوکوب کرتے رہتے ہیں۔
29اکتوبر 2020ء کاایک واقعہ ہے کہ صوبہ بہار کے ضلع پٹنہ کے مکامہ پولیس تھانہ علاقے میں ایک نوجوان پر15/درندوں نے مویشی چوری کاالزام عائد کرکے اس وقت تک اسے بری طرح خوب زد وکوب کرتیرہے،تاآں کہ وہ مظلوم اور بیگناہ شخص نے دم توڑ نہیں دیا۔
اس طرح کے ایک دونہیں؛بل کہ بیشمار واقعات ہندوستان کے ہر ایک صوبہ میں رونما ہونے لگے ہیں۔
اس لیے اس پردائمی قدغن لگانابہت ہی ضروری ہے، یاد رکھیں! کہ اس کیذریعہ صوبہ بہار میں ایک بڑاانقلاب بھی پیداہوگا۔ نیزآئے روزبالغہ عورتوں اور نابالغہ بچیوں کیساتھ واقع ہونیوالیعصمت دری کیواقعات پر بھی سخت پابندی عائد کرے،تاکہ عورتیں اوربچیاں بھی پرامن زندگی بسر کرسکیں۔ اس لیے اس کیلیے خوب سوچ سمجھ کر اپنیحق رائیدہی کااستعمال کریں اورمنصف وامین کواقتدار کیلیے منتخب کریں، تاکہ آئندہ پھرکبھی کف افسوس نہ ملنا پڑے۔
خدا نخواستہ جسیآج آپ منصف وامین سمجھ کرقتدار کی کرسی پربیٹھائیہیں،وہ سوء اتفاق کل ان لوگوں سے بھی بڑاظالم وخائن نکلا، اور بہار اس کے ذریعے مزید پستی وزوال کاشکارہوا،توپھر آپ اسے 2025ء کیالیکشن میں عمدہ سبق سکھلائیں اور اسے ہمیشہ ہمیش کیلییاقتدارسے محروم کردیں،پھرنئے وزیر اعلٰی کاانتخاب کریں، جوہرایک کیحق میں مفید ہو۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں