یاسر ندیم الواجدی ہمارے گزشتہ مضمون سے اقتباس:
صحابہ کرام کے بارے میں امت میں یہ عقیدہ کبھی نہیں رہا کہ وہ معصوم عن الخطاء ہیں، بتقاضائے بشریت ان سے گناہ کا صدور ممکن ہے، عام ضابطہ یہ ہے کہ اگر کسی عادل سے گناہ سرزد ہو جائے اور وہ توبہ کرلے تو اس کی عدالت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
دوسرا اقتباس:
علامہ تفتازانی اپنی کتاب شرح عقائد میں لکھتے ہیں کہ "صحابہ پر نکتہ چینی کرنا اگر قطعی دلیلوں کے خلاف ہے تو کفر ہے ورنہ تو بدعت وفسق"۔
تیسرا اقتباس:
قاضی ابوبکر بن العربی لکھتے ہیں کہ: "گناہ عدالت کو ختم کرنے والے نہیں ہیں جبکہ ان سے توبہ کر لی جائے"۔ (الکفایہ 105)
ہم تو خود ہی کہہ چکے ہیں کہ صحابہ معصوم نہیں ہیں، معترض میاں وہ جزوی واقعات نکال کر لے آئے جن سے کچھ صحابہ کا گناہ میں مبتلا ہونا پتہ چلتا ہے۔ اور ان سے ثابت کچھ نہیں ہوتا۔ بلکہ خود معترض کی ذکر کردہ ایک روایت جس میں عبد اللہ الحمار پر شراب پینے کی وجہ سے حد جاری کی گئی اور کچھ لوگوں نے ان پر لعن طعن کرنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان پر لعن طعن نہ کرو میں اتنا جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں۔
لیکن اس حدیث کے باوجود یہ شرذمہ بہت سے صحابہ پر لعن طعن کرتا ہے۔ بتائیے یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت ہوئی یا نہیں؟ اس حدیث سے دلیل دینے کا کیا فائدہ ہوا جب اس پر عمل کرنے کے لیے آپ کا گروہ تیار نہیں ہے۔ سارا تنازعہ تو اسی بات کا ہے کہ آپ کو چند صحابہ پر لعن طعن کرنا ہے۔
جن مفسرین کے نزدیک "إن جائكم فاسق" والی آیت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ان کے نام تو معترض نے ذکر کر دیے حالانکہ تفسیر میں ہر طرح کی روایات موجود ہوتی ہیں ، لیکن ان مفسرین کے نام گول کر گئے جنہوں نے اس کا انکار کیا ہے۔ رازی، ابن عاشور، محب الدین الخطیب نے اس قصے کا صراحتًا انکار کیا ہے،
ابن کثیر نے اس قصے کے بارے میں شک کا اظہار کیا ہے اور مشہور محقق شیخ احمد شاکر نے مختصر تفسیر ابن کثیر سے اس قصے کے ثابت نہ ہونے کی بنا پر اس کو حذف کر دیا ہے، معترض اس تفصیل کا تقیہ اس لیے کر گئے کہ ان کے مقصد کے خلاف ہے۔
یہ پوری بحث یہاں سے چلی ہے کہ الفئة الباغية کا مصداق کیا ہے اور قاتل عمار کون ہے۔ مسٹر معترض اسی حدیث کو پھر اپنی دلیل بناکر اٹھا لائے کہ دیکھو معاویہ کی جماعت نے عمار کا قتل کیا لہذا وہ باغی ہوئے اور بغاوت حرام ہے۔ یہ دلیل کچھ ایسی ہوگی جیسے کوئی یہ دعوی کرے کہ زمین اس کے سر کے اوپر ہے اور دلیل طلب کیے جانے پر یہ کہے: اس لیے کہ زمین اس کے سر کے اوپر ہے۔
محَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا
اور اس جیسی آیات کو معترض میاں عام مانتے ہیں، کہتے ہیں کہ "ان میں صحابہ کے لیے کوئی خاص آفر نہیں ہے"۔ لہذا ان سے عدالت صحابہ کا عقیدہ ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ تو ایک کام کیجیے! "صاحب فتنہ" سے کہیے کہ لفظ معه حذف کرانے کی کوئی مہم چھیڑیں، ایک ڈیڑھ لائیو کنسرٹ اس پر بھی کریں تاکہ یہ آیت عام ہوسکے۔
جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تمام صحابہ سے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وكلا وعد الله الحسنى، تو کہتے ہیں کہ بخاری میں روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے کچھ صحابہ کو جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ اس دلیل کا جواب بھی ہم ویڈیو میں دے چکے ہیں۔ کامن سینز کی بات ہے کہ اگر اس روایت میں اصحاب رسول ہی مراد ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے کچھ صحابہ جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے، کیونکہ حدیث کے مخاطب تو صحابہ ہی تھے۔
نیز یہ روایت مختلف طرق سے حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس حدیث کے دوسرے طریق میں انهم ارتدوا على أدبارهم کی صراحت آئی ہے۔ گویا یہ حدیث مرتدین اور بدعتیوں سے متعلق ہے۔ اگر حضرت معاویہ آپ کے نزدیک مرتد ہیں تو کھل کر اس کا اقرار کیجیے اور اگر بدعتی ہیں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ ان سے صلح پر کیوں راضی ہوگئے تھے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ سے کیوں صلح کرلی تھی؟
اس کے جواب میں "صاحب فتنہ" والی تاویل نہ کی جائے، اس کا جواب دیا جا چکا ہے۔
ہونا یہ چاہیے تھا کہ ہمارے دلائل کا جواب دیا جاتا اور یہ ثابت کیا جاتا کہ عدالت صحابہ عقیدہ کا مسئلہ نہیں ہے اور صحابہ پر لعن طعن کرنا از روئے شرع جائز ہے۔ ہو یہ رہا ہے کہ وہ قصے ذکر کیے جارہے ہیں جن سے عدالت صحابہ مجروح نہیں ہوتی۔ اتنا کہنا کافی نہیں ہے کہ "ہمارے نزدیک عدالت کا مطلب یہ ہے۔۔۔"۔ آپ کے نزدیک عدالت کا مطلب کچہری ہو، ہمیں اس سے کیا لینا دینا، یہ بتائیے کہ متقدمین سے لیکر متاخرین تک عدالت صحابہ کا کیا مطلب ہے۔
تو آپ کے اس مضمون کا اس کے علاوہ کیا فائدہ ہوا کہ آپ نے ایک عدد اور مضمون لکھ لیا، وہ دلیل ہی کیا جس کا جواب پہلے دیا جاچکا ہو۔ اب بتایا جائے کہ اس مباحثے میں علمیت کہاں رہ گئی۔ تدفین کا عمل ختم ہوا۔
نوٹ ۔اس تعلق سے مفتی صاحب کے فیس بک وال پر جاکر انکی لکھی ہوئی سبھی تحریریں پڑھ سکتے ہیں

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں