تازہ ترین

منگل، 29 ستمبر، 2020

غیر مسلموں میں دعوت دین وقت کا اہم تقاضہ

ذوالقرنین احم
ہندوستان میں مسلمانوں کے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں ملک کی سرزمین ہمارے لیے ایسی قانون سازی کے ذریعے تنگ کی جارہی ہے جسکا مقصد صرف مسلمانوں کو ختم کرنا ہے انہیں اپنے عقیدے سے دور کرنا ہے۔ انہیں دین بیزار کردینا ہے۔  دن بدن غیر مسلم فتنہ پرست عناصر میں مسلمانوں اور اسلام سے نفرت بغض و عداوت، ظلم و تشدد، فرقہ وارانہ فسادات، اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنا، اسلاموفوبیا میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جو نفرت کی ایک نئی تاریخ رقم رہے ہیں۔ ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب ملک کو آزاد کرانے میں مسلمانوں نے غیر مسلم انصاف و حق پسند افراد کو ساتھ لے کر آزادی کی تحریک شروع کی اور انگریزوں کو ملک سے نکال باہر کیا۔ مسلم تنظیموں اور مسلم قائدین نے آزادی کے قبل سے ہندوستان میں جو بھی اپنے‌مذہب کے تعلق سے دعوت دین، اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی سرگرمیوں کو انجام دیا اسکا دائرہ کار بہت حد تک صرف مسلمانوں تک محدود رکھا ہے۔  اور آج بھی علمائے کرام، مذہبی جماعتیں، تنظیمیں، تحریکیں، مسلمانوں کے اندر ہی کام کررہی ہے۔


مسلمانوں میں دین کا کام کرنے سے بلکل نہیں روکا جارہا ہے لیکن اپنے مذہبی تنظیمی، تحریکی ،جماعتی، سرگرمیوں کے دائرے کو وسیع کرنے کی 
طرف متوجہ کرنا ہے۔ مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے۔ کائنات کو وجود اللہ تعالیٰ نے بخشا ہے۔ اور ایک اللہ کی طرف متوجہ کرنے کیلے بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ راست پر لانے کیلے کم و بیش سوا لاکھ انبیاء کرام علیہم السلام کو دنیا میں مبعوث فرمایا۔ آخر میں رحمت اللعالمین حضرت محمد ﷺ کو نبی و رسول بناکر بھیجا گیا جو خلا نبی کریم ﷺ کے تشریف لانے سے قبل پیدا ہوا اس میں انسانیت اپنے سچے خدا کہ بھول چکی تھی اور جہالت کی زندگی گزار رہی ہے تھی ظلم و جبر، قتل و غارتگری، نا انصافی حرام خوری کا بازار گرم تھا۔  ایسے حالات میں آپ ﷺ نے دین کی دعوت اہل مکہ قریش مکہ، سرداران مکہ کو پیش کی جو دور اتنی جہالت کا تھا جس میں بچیوں کو زندہ درگور کردیا جاتا تھا شراب عام تھی، سود عام تھا


، جس کے پاس جتنی پرانی شراب ہوتی تھی وہ اتنا ہی معزز خاندان کا سمجھا جاتا تھا۔ لیکن آپ ﷺ نے ایسے حالات میں اہل مکہ کو دین کی طرف بلایا اور ایک اللہ کی عبادت کرنے اور آپ ﷺ کو آخری رسول تسلیم کرنے کی دعوت پیش کی۔ جس میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہا نے انکی دعوت پر لبیک کہا اور ان چند افراد کی جماعت نے اور دیگر لوگوں کلمہ کی دعوت پیش کی جس سے ایک بڑی تعداد وجود میں آئی اور آپ ﷺ کے اخلاق و کردار، تعلیمات کو دیکھ کر لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔

یہ تھا نبی کریم ﷺ کی دین اسلام کی دعوت غیروں میں پیش کرنا آج ہمارے ملک کے حالات جس قدر مسلمانوں کیلے ناسازگار ہوتے جارہے ہیں اسکی سب سے بڑی بھول ہماری تنظیموں اور علمائے کرام سے یہ ہوئی کہ انھوں نے غیر مسلموں میں دین اسلام کی دعوت کو پیش کرنے کو اپنا میشن نہیں بنایا اپنے تنظیمی ،تحریکی ،جماعتی ایجنڈے میں دعوت دین کے عنوان کو شامل کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ اور اس کا خمیازہ آج کی‌ نوخیز نسل بھگتنے پر مجبور ہے۔ ہم نے دیکھا کس طرح سے مسلمانوں کو کرونا وائرس کی وبا کے نام پر بدنام کیا گیا اسلام کو نشانہ بنایا گیا اسلاموفوبیا پھیلا کر غیر مسلموں میں اور بھی نفرت کی آگ کو بھڑکایا گیا ہے۔ جس کے اثرات بڑے بڑے شہروں سے لے کر دیہات، گلی ،محلوں، بازاروں تک دیکھنے کو ملے ہیں اس نفرت کا اتنا نقصان مسلمانوں کو ہوا ہے اور آگے بھی مستقبل میں بھگتنا پڑ سکتا ہے‌۔ اسکی خاص وجہ یہ ہے کہ ہم نے ہمارے تعلق سے اسلام کے تعلق سے جو غلط فہمیاں پیدا کی گئی ہے اسکے ازالہ کیلے اجتماعی طور پر کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا ہے۔ اور نا ہی کوئی لائحہ عمل ہمارے پاس تیار ہیں سوائے کچھ تحریکی جماعت کے۔ جن کے منشور میں غیر مسلموں میں دعوتی کام کو انجام دینا شامل ہیں۔




آج ضرورت اس بات کی ہے جیسے تبلیغی جماعت سب سے بڑی جماعت بن کر ملک میں مسلمانوں میں دعوتی اصلاحی کام کرہی ہے۔ لیکن اس 
تحریک کا کام صرف مسلمانوں تک ہی محدود رہا ایسا نہیں ہے کہ اسکے ذریعے غیروں میں دین اسلام کی دعوت نہ کے برابر پہنچی ہو لیکن تبلیغی جماعت کے ایجنڈے میں غیر مسلموں میں دعوت دین کو اگر شامل کرلیا جاتا تو ملک میں آج جو حالات ہوئے تبلیغی جماعت اور امیر جماعت حضرت مولانا سعد صاحب پر جو میڈیا کے ذریعے جھوٹے الزامات لگائے گئے اس کا دفاع خود ملک کے غیر مسلم افراد کرتے کہ جماعت اور تبلیغ کے ساتھی کبھی ایسے نہیں ہوسکتے ہیں جو میڈیا میں جھوٹ پھیلایا گیا۔ اب بے حد ضروری ہے کہ اس عظیم کام کے دائرے کو وسیع کیا جائے اور دین اسلام کے فطری آفاقی مذہب کی دعوت کو غیر مسلموں میں پیش کیا جائے ۶ نمبر کو ساتھ نمبر کردیا جائے  اور اس میں غیروں میں دعوت الاللہ کا کام منظم طریقے سے انجام دیا جائے۔


مزید یہ کہ برادران وطن کو دین کی دعوت دینے میں صرف غلطی تبلیغی جماعت والوں کی نہیں ہے بلکہ اس میں دیگر تمام جماعتیں بھی برابر کے شریک ہے جنہوں نے دین اسلام کی دعوت کو محدود رکھا اور اپنے ہی حلقوں میں اصلاح معاشرہ کا کام کرتے رہے ہیں۔ آج اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ امت محمدیہ کا ہر شخص دین کا داعی اس وجہ سے ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حجتہ الوداع کے وقت خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ جو حاضر ہے وہ غائبین تک دین کی دعوت کو پہچائے اسی طرح ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا میری طرف سے پہنچاوں خواہ ایک آیت کیوں نہ ہو، اس حدیث کی روشنی میں ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ دین اسلام کی دعوت کو ہم تمام انسانیت تک پہچانے کو اپنا میشن بنائے اور اسے اپنے ذمہ داری سمجھ کر انجام دے۔ جو ہمارے پاس امانت ہے اسے غیروں پہنچانا بے حد ضروری ہے۔



مدراس اسلامیہ کے منتظمین سے بھی بڑی غلطی ہوئی ہے کہ انہوں نے مدرسہ کے نصاب تعلیم میں دین اسلام کی دعوت کو پہچانے کے تعلق سے کوئی نصاب تیار نہیں کیا کاش اگر مدارس آج سے ستر سال قبل یہ کام انجام دیتے تو ہمارے مدارس سے فارغ ہونے والا ہر عالم و حافظ دین کا داعی بن کا غیروں میں دین اسلام کی دعوت پیش کرنے کے طریقہ سے واقف ہوتا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ تحریکی افراد فارغین مدارس اور ائمہ اکرام حفاظ کرام کیلے غیر مسلموں میں دعوتی خدمات کے عنوان پر تربیتی پروگرام منعقد کرتے ہیں۔ جو بے حد ضروری بھی ہے لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہمارے طلبا جب مدرسے فارغ ہوتے تو وہ اس ہنر سے واقف ہوتے کہ غیر مسلموں کو دعوت دین کیسے پیش  کرنا ہے۔ آج ملک کے تمام مدارس کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ مدرسہ کے نصاب میں ایک سبجیکٹ غیر مسلموں میں دین کی دعوت کے عنوان کو شامل کریں۔ اس سے بہت بڑا فائدہ حاصل ہوگا۔ نفرتیں ختم ہوگی مذہبی شدت پسندی کا خاتمہ ہوگا۔ اسلاموفوبیا کے ذہنی بیماروں فرقہ پرست عناصر میں کمی ہوگی اور اللہ نے چاہا تو اس شعر کے مصداق ہوگا۔



ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
29 SEP 2020

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad