تازہ ترین

منگل، 29 ستمبر، 2020

زرعی بل سے کسانوں کی حالتِ زار مزید ابتر ہوگی،بڑے پیمانے پر بڑھے گی بے روزگاری: پاپولر فرنٹ

پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی قومی مجلس عاملہ کے اجلاس میں پاس کردہ قرارداد میں یہ کہا گیا کہ پارلیمنٹ میں پاس کردہ زرعی بلوں سے کسانوں کی حالتِ زار مزید ابتر ہو جائے گی۔


زرعی اصلاحات کے تینوں بلوں سے ملک کی بڑی آبادی کی زندگی متاثر ہوگی، کیونکہ بھارت کی نصف سے زائد آبادی کی روزی روٹی کھیتی باڑی پر منحصر ہے۔ اس کے باوجود بلوں کو کبھی بھی کسانوں کے سامنے نہیں رکھا گیا، اور نہ ہی اس تعلق سے ان کے لیڈروں سے کوئی رابطہ کیا گیا۔ یہ مودی حکومت کی کورونا کو اپنے تاناشاہی اقدامات کے نفاذ کے لئے حیلہ بنانے کی ایک اور مثال ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک کے کسانوں کو حکومت کی طرف سے مزید تعاون اور اپنی روزی روٹی کے تحفظ کی سخت ضرورت ہے، ان بلوں کے سبب ان سے وہ معمولی تعاون بھی چھن جانے کا خطرہ ہے جو انہیں اب تک حاصل تھا۔ اے پی ایم سی اور حکومت کی طرف سے دی گئی کم سے کم تعاون کی قیمت(ایم ایس پی) کے خاتمے سے، اب کسانوں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت حاصل کرنے کے لئے بڑے بڑے کاروباریوں کے ساتھ خود ہی جدوجہد کرنی پڑے گی۔ یہ طے ہے کہ اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری بڑھ جائے گی۔ 

اس سے صرف کاروپوریٹ اور بڑے کاروباروں کا نفع ہوگا۔ مودی حکومت نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسی مضحکہ خیز اصلاحات کے ذریعہ ہماری معیشت کو پوری طرح سے تباہ کر دیا ہے،جنہیں بڑے سنگہائے میل کی طرح پیش کیا گیا۔ ملک کو ان کے اثرات سے ابھرنے میں دہائیاں بیت جائیں گی۔ پاپولر فرنٹ مرکزی حکومت سے ان بلوں کو واپس لینے کی اپیل کرتی ہے، جن کی وجہ سے زراعت اور کسانوں کی زندگیوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

بل پاس کرنے کے لئے مودی حکومت کے پُرفریب طریقے جمہوریت کے لئے خطرہ

ملک بھر کے کسانوں، اپوزیشن پارٹیوں حتیٰ کہ این ڈی اے کی اتحادی پارٹیوں کی شدید مخالفت کے باوجود جس جلدبازی اور فریب کے ساتھ راجیہ سبھا میں زرعی بل پاس کئے گئے وہ بھارت کی جمہوریت کے لئے خطرہ ہے۔ حکمراں اتحاد کے پاس راجیہ سبھا میں اکثریت نہیں ہے۔ حزب اختلاف نے بجا طور پر ووٹوں کی تقسیم یا دونوں بلوں کو سیلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ لیکن ڈپٹی چیئرپرسن نے ووٹنگ کرانے کا فیصلہ کیا۔ راجیہ سبھا کی لائیو کاروائیوں کے آڈیو ٹیلی کاسٹ کی آواز بند کر دی گئی اور ارکان پارلیمنٹ جو کچھ کہہ رہے تھے اس سے ناظرین کو محروم کر دیا گیا۔ ان تمام باتوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کو جمہوری اقدار سے کوئی سروکار نہیں ہے اور یہ کہ مودی حکومت اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے کیسے کیسے پرفریب طریقے اپنا رہی ہے۔

سیاسی حریفوں کے خلاف مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کا غلط استعمال بندکرو

ایک دوسری قرارداد میں، اجلاس نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے سیاسی حریفوں کو خاموش کرنے کے لئے تفتیشی ایجنسیوں کا غلط استعمال کرنا بند کرے۔

قومی تحفظ کے مسائل اور مالی جرائم کی تفتیش کے نام پر، این آئی اے، ای ڈی اور سی بی آئی جیسی مرکزی تفتیشی ایجنسیاں بی جے پی کے سیاسی مفاد کی تکمیل کا کام کر رہی ہیں۔ اپوزیشن لیڈران اور بی جے پی کی مخالفت کرنے والے افراد اور جماعتوں کو سیاسی اشتعال انگیزی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کیرالہ اور مغربی بنگال جیسی غیربی جے پی ریاستوں کو دہشت گردی کا اڈہ بتایا جا رہا ہے۔ 


واضح رہے کہ این آئی اے پر پہلے ہی مسلمانوں کے خلاف تعصب اور سمجھوتہ ایکسپریس، مالیگاؤں اور اجمیر درگاہ معاملوں میں جن میں سیکڑوں بے قصور لوگ مارے گئے تھے،ہندوتوا دہشت گردوں کو جیل سے نکلنے میں مدد کرنے کا الزام ہے۔ حکومتی ایجنسیوں کا اس طرح غلط استعمال ہونے سے جمہوری اداروں سے عوام کا یقین اٹھ جائے گا اور قانون کی حکمرانی کمزور پڑ جائے گی۔

اتر پردیش کی اسپیشل سکیورٹی فورس سے ریاست میں جمہوری حقوق کی خلاف ورزیوں کو مزید ملے گا بڑھاوا

ایک اور قرارداد میں، پاپولر فرنٹ کی این ای سی نے اترپردیش میں ایک اسپیشل سکیورٹی فورس کی تشکیل کے ریاستی حکومت کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا،جسے بغیر مجسٹریٹ کے وارنٹ کے کسی کی بھی تلاشی لینے اور اسے گرفتار کرنے کا اختیار ہوگا۔ اس فیصلے سے پولیس کی جاری زیادتیوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف سرکاری انتقام کے واقعات مزید بڑھ جائیں گے۔


 ایک ایسی ریاست میں جہاں حقوق انسانی کی خلاف ورزی، فرضی انکاؤنٹر، غیرقانونی گرفتاریاں اور بے قصور وں کے خلاف این ایس اے اور یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کا غلط استعمال معمول بن گیا ہو، وہاں ایسی فورس کی تشکیل شہری حقوق کی خلاف ورزی کا ایک اور ہتھیار ثابت ہوگی۔ پاپولر فرنٹ شہری سماج سے اس فیصلے کے خلاف اپنی آواز بلند کرنے کی اپیل کرتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad