نئی دہلی(یو این اے نیوز 14اگست 2020)بنگلورو کے ایک ممبر اسمبلی کے بھانجے پی نوین کے ذریعہ فیس بک پر توہین رسالت پر مبنی مواد مشتہر کرنے کے نتیجے میں شہر میں کشیدگی پھیلنے اور ایک فرقہ کے جانی و مالی نقصانات کے واقعہ پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علماء حق نئی دہلی کے قومی صدر اور مشہور عالم دین مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے کہا کہ بنی آخر الزماں محمدﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنا اور ان کی توہین کرنا ملکی و عالمی قانون کی رو سے ناجائز اور قابل گرفت عمل ہے، جس کے خلاف مقامی انتظامیہ کو سخت نوٹس لے کر اس واقعہ کے پس پشت کام کرنے والے شر پسند افراد کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے، مگر مقامی انتظامیہ اور پولس کے ذریعہ توہین آمیزی کے مرتکب شخص پر ایف آئی آر درج کرنے اور اس پر قانونی کارروائی کرنے کے بجائے نہتے مسلم مظاہرین پر ایکشن لینا، جائز مطالبات کی حمایت میں پر امن احتجاجی مظاہرین پر گولیاں چلانا اور انھیں موت کے گھاٹ اتاردینامقامی انتظامیہ کیعصبیت اور صاحب اثر و رسوخ سیاسی افراد کے ساتھ ساز بازکو ظاہر کرتا ہے۔
مولانا قاسمی نے کہا کہ اگر مقامی انتظامیہ مسلمانوں کی شکایت پرفوری مقدمہ درج کرنے کے بعد گستاخ شخص کے خلاف قانونی کارروائی کی یقین دہانی کراتی تو اس قسم کا اندوہ ناک واقعہ رونما نہ ہوتا جس میں انسانی جانوں کے اتلاف کے ساتھ کروڑوں کی ملکیت کے نذر آتش ہونے کی خبریں مشتہر ہورہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ آخر ایک جمہوری ملک میں، جہاں ہر شخص کو عقیدہ و مذہب کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے، کیوں وقفہ وقفہ سے توہین رسالت کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ تسلیمہ نسرین سے لے کر کملیش تیواری تک گستاخان رسول کی ایک طویل فہرست ہے کہ کس طرح ایک مخصوص قسم کی ذہنیت رکھنے والے افراددانستہ طور پر شان رسول میں گستاخی کرنے کے بعد آسانی سے قانون کے شکنجے سے نکل جاتے ہیں اور مسلمان کف افسوس مل کر رہ جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت مسلمانوں کے دین و عقیدہ سے وابستہ معاملہ ہے، حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف غم و غصہ کا اظہار فطری معاملہ ہے،ایک مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے، مگر وہ توہین رسالت پر مبنی ادنی سے ادنی گستاخی کو برداشت نہیں کرسکتا۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی حکومت اس قسم کے شر پسند عناصر پر کڑی نگاہ رکھے اور ریاست میں امن و امان اور اور تحمل و رواداری کے جذبے کو پروان چڑھانے میں کلیدی رول ادا کرے۔
مولانا قاسمی نے کہا کہ اس واقعہ میں جو لوگ جاں بحق ہوئے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ ان کے متعلقین اور پسماندگان کو معقول معاوضہ ادا کرے، ان کے پسماندگان میں سے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دے۔جو املاک تباہ ہوئی ہیں، حکومت ان کاحرجانہ ادا کرے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ پورا سانحہ محکمہئ پولس کی لاپرواہی اور تساہلی کے سبب رونما ہوا ہے، اس لیے متعلقہ پولس افسران کے خلاف کارروائی کرنا اور خاطی افسران کو ان کے جرم کی پاداش میں ملازمت سے برطرف کردینا چاہیے۔ تاکہ مستقبل میں نقض امن کے مرتکب اور یک طرفہ کارروائی کرنے والے افسران ہوش کے ناخن لے سکیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں