تحریر:انوار الحق قاسمی نیپالی
واٹس ایپ نمبر:9779811107682+
ماہ محرم الحرام کی تاریخی اور شرعی فضائل کو پس پشت ڈال کر محض اس مہینہ کی حرمت وعظمت کی کڑی نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، جگر گوشہ بتول، نوجوانان جنت کے سردار حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم شہادت سے جوڑنا اور ماہ محرم الحرام کے پورے ایام میں عموما اور یوم عاشورہ میں خصوصا: نوحہ و ماتم سینہ کوبی، شمشیرزنی، چیخ چیخ کر یا حسین کے نعرے بازی اور تعزیہ نکالنا وغیرہ، ایک بہت بڑی جہالت اور نادانی ہے۔
ضرورت ہے کہ ماہ محرم الحرام کی عظمت و حرمت کا پس منظر، شرعی اہمیت اورحضرت حسین رضی اللہ عنہ کے میدان کربلا میں جہاد کی اصل محرکات اور ان کی شہادت سے حاصل شدہ سبق کی معرفت اور علم کی؛ تاکہ اس موقع سے انجام دی جانے والی بدعات و خرافات سے بعدالمعرفت قطعی اور دائمی گریز کیا جاسکے۔
ماہ محرم الحرام کی عظمت و حرمت کی کئی بڑی اور اہم وجہیں ہیں، جن میں سے چند کے تذکرہ سے قارئین کو اس کی عظمت و حرمت کا اندازہ بخوبی ہو جائے گا، اس لییراقم چند بڑی اور اہم وجہیں رقم کئے دیتا ہے۔
پہلی وجہ تو ایک خود فرمان خداوندی ہے: منهااربعة حرم. چار باعظمت مہینوں میں سے ایک عظمت والا مہینہ محرم الحرام کا ہے، ماہ محرم الحرام اور واقعہ ہجرت کی اہمیت ہی کی بنا پر حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ ثانی امیرالمومنین سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نیسن۱۷ھ میں ہجری کیلنڈر جاری کرکے اسلامی تاریخ کی ابتدا ہجرت کے واقعے سے کی اور ماہ محرم الحرام ہی سے سال کی شروعات کی۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ماہ محرم الحرام سے عموما اور یوم عاشورہ سے خصوصا چند بڑے اور اہم واقعات متعلق ہیں، جن کی وجہ سے اس مہینہ کی عمومااوریوم عاشورہ کی خصوصا حرمت وعظمت المضاعف اور دوبالاہوجاتی ہے،وہ اہم واقعات یہ ہیں:(۱) عاشوہ ہی کے دن حضرت آدم- علیہ السلام -کی تخلیق ہوئی، اسی روز بہشت میں اعزازا داخل کئے گئے اور اسی دن حضرت کی توبہ بھی قبول کی گئی(۲) عاشورہ ہی کے دن حضرت موسی- علیہ السلام- کو اپنی قوم سمیت ظالم و جابر حکمراں فرعون اور اس کی قوم سے دائمی نجات ملی اور ان لوگوں کو دریائے نیل میں ہمیشہ ہمیش کیلیے غرقاب کردیاگیا (۳) اسی دن حضرت یعقوب- علیہ السلام- کی بینائی لوٹائی گئی(۴) اسی دن حضرت یوسف -علیہ السلام- تاریک اورعمیق کنوئیں سے باہر نکالے گئے(۵) اسی روز حضرت ابراہیم- علیہ السلام -کے لئے آتش نمرود کو سلامتی کا ذریعہ بنایا گیا(۶) اسی دن عرش و کرسی، زمین و آسمان، چاند سورج ستارے اور جنت پیدا کیے گئے (۷)اسی دن قیامت بھی واقع ہو گی،اوربھی دیگر واقعات ہیں۔
یوم عاشورہ کی شرعی فضیلت:یہ ہے کہ فخر کائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کہ جو مسلمان عاشورہ کے دن روزہ رکھے گا،اسے دس ہزار شہیدوں، حاجیوں کا ثواب خداوندعالم کی طرف سے عطا کیا جائے گا، اسی طرح اگر کوئی مومن اس متبرک دن میں کسی یتیم اور بے سہاراانسان کیسرپر دست شفقت رکھے گا، تو اسے،اس کے سر پر موجود بالوں کی تعداد کے بقدرجنت میں درجات عطا کیے جائیں گے، اسی طرح اگر کوئی اس رات میں کسی مومن کو شکم سیرکھاناکھلائے،تووہ ایساہے جیساکہ اس نے میری ساری امت کوکھاناکھلایاہو، ذکر کردہ یوم عاشورہ کیبیش بہافضائل سرور کونین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبانی ملاحظہ کرنے کیبعدصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نیسوال کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کیایوم عاشورہ کوسال بھرکیدیگر تمام ہی ایام پرنمایاں فضیلت حاصل ہے؟ تومحبوب کائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم نیجوابافرمایا:ہاں۔
سید الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم جب مدینہ منورہ تشریف لے گئے، توآپ صلی اللہ علیہ و سلم نییہودیوں سے یوم عاشورہ کے حوالے دریافت کیا:کہ اس دن کے تئیں تمہارے کیاعقائدہیں؟توانہوں نے فرمایا:کہ عاشورہ ہی کیدن حضرت موسی -علیہ السلام -کواپنی قوم سمیت،ظالم وجابربادشاہ اور اس کی قوم سینجات ملی تھی،اورانہیں خدائے لم یزل نیدریائینیل میں غرقاب کیا تھا،اسی لیے اس دن کی عظمت واحترام میں ہم بخوشی روزہ رکھتیہیں،یہودیوں کاجواب ملاحظہ فرمانیکے بعدآپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:کہ جتناتعلق تمہاراحضرت موسی -علیہ السلام -سے ہے،کہیں اس سے زیادہ تو ہمارا تعلق ان سے ہے؛اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس روز کی اہمیت وفضیلت کیپیش نہاد اپنی امت کوروزہ رکھنیکاترغیبی حکم دیااور یہودیوں کی مشابہت سیبچنے کیلییفرمایا:کہ یوم عاشورہ کے ساتھ اس سے پہلے یعنی ۹/محرم الحرام، یااس کے بعد یعنی ۱۱/محرم الحرام (دودن)روزہ رکھ لیاجائے۔
یہ ہیں ماہ محرم الحرام اور یوم عاشورہ کے فضائل، جن سے ناخواندہ طبقہ بالکل ہی نا واقف ہیں؟ اور خاندہ طبقہ ان سے واقفیت کے باوجود تجاہل عارفانہ برتتیہوئے، نام نہاد عشاق حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ماتم و شیون میں شریک ہو کر، ان کے لیے ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔
دین اسلام کے علم بردار،اشاعت اسلام کی خاطر راہ حق میں بے شمار قربانیاں دینے والے کفن بردوش مجاہد اعظم، نواسئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ محسوس ہوا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت کا دعویدارایک ایسا شخص ہے، جو دین اسلام اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح باقی نہیں رکھ رہاہے، جیسا کہ ہونا چاہیے،تو آپ کے دل کو یہ گوارا نہیں ہوا،کہ میرے رہتے ہوئے مذہب اسلام کی اصل شبیہ مسخ ہو اور دین اسلام بلندی کی بجائے پستی کا شکار ہو اور وہ بھی میری نظروں کے سامنے، تو محرم الحرام کیمہینہ میں،دسویں تاریخ یعنی عاشورہ کے دن میدان کربلا میں، دین اسلام کی سربلندی اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے ایک عظیم جہاد کرکے ذلت کی زندگی پرعزت کی موت کو ترجیح دیتے ہوئیراہ خداوندی میں بصد شوق اپنی جان عزیز قربان کرکے جام شہادت نوش کرناتو گواراکیا؛ مگر ذلت کی زندگی جینا قطعی پسند نہیں کیا اور نہ ہی کبھی کر سکتے تھے۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ میدان کربلا میں شہید ہو کر شہداء کا مقام اور اور حیات جاودانی حاصل کر لیا،ارشاد خداوندی ہے: ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ أمواتا بل احیائعند ربهم يرزقون. (جو لوگ راہ خدا وندی میں قتل کر دیے گئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو؛بل کہ وہ زندہ ہیں، وہ اللہ کے پاس رزق پاتے ہیں) یہی وہ شہادت ہے،جن کی عظمت کے پیش نظر جام شہادت نوش کی تمنا خود فخر کائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جاں نثارصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا تھا، ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: میں چاہتا ہوں کہ اللہ کے راستے میں قتل کردیاجاؤں،پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کر دیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں،پھر قتل کر دیا جاؤں۔
شہداء کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی باآسانی لگایا جا سکتا ہے، کہ ان کے جنت میں داخل ہونے کے بعد ان کی یہی خواہش ہوگی، کہ انہیں بار بار دنیا میں بھیجا جائے اور وہ حق کے لییراہ خداوندی میں لڑے اور شہید ہو جائے، پھر دنیا میں بھیجا جائے اور وہ لڑے اور شہید ہو جائے،جب کہ کوئی اور حصول جنت کے بعدادنی بھی یہ خواہش نہیں کرے گا کہ اسے دوبارہ دنیا میں بھیجاجائے۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ میدان کربلا میں حق کے لئیباطل کیخلاف لڑے؛ حتی کہ شہید ہو گئے اور شہیدکو چوں کہ حیات جاودانی ملتی ہے؛اس لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ ابھی یقینا باحیات ہیں، مرے نہیں ہیں، یہ ہماراعقیدہ ہیاور ہم اہل مومن زندہ جاویدکاماتم بھی نہیں کرتے ہیں، شعر: کہہ دوغم حسین منانیوالوں سے💢مومن کبھی شہداء کاماتم نہیں کرتے
روئیں وہ جومنکرہیں شہادت حسین کے💢ہم زندہ وجاویدکاماتم نہیں کرتے،(علامہ اقبال) اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ تاقیامت آنے والیمسلمانوں کے لئے یہ دائمی پیغام دے گئے ہیں، کہ اصل مومن وہ ہے،جو اعلائے کلمۃ اللہ اور اشاعت اسلام کی خاطر باطل سے لڑتیرہے، تاآں کہ مذہب اسلام کابول بالا نہ ہو جائے اور باطل دب نہ جائے اور اس کے لیے اگر جان کی ضرورت پڑے، تو جان بھی دے کر اپنا نام شہداء میں درج کرا لے۔
مگرافسوس کہ موجودہ دور کے مسلمان شہادت حسین رضی اللہ عنہ سیحاصل شدہ پیغام کو بالکل بھول چکے ہیں، اور عاشورہ کے دن شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے غم میں طرح طرح کی بدعات وخرافات(یعنی نوحہ وماتم،سینہ کوبی، شمشیر زنی، چیخ چیخ کرحضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نعرے لگانا، تعزیہ داری اور ڈھول بجانا وغیرہ)انجام دیتے ہیں، یہ بات بھی یاد رہے کہ تعزیہ داری کی بدعات ہندوستان میں امیر تیمور لنگ کے زمانے میں سن ۸۰۱ھ سے شروع ہوئی اور سن ۹۶۲ھ میں ہمایوں بادشاہ نے بیرم خان کو بھیج کر چھیالیس تولہ کا زمردیں تعزیہ ہندوستان منگوایا تھا(خطبات اسلم، جلد نمبر۲)۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسانوں کو کسی چیز کے کرنے سے، جس قدر روکا جاتا ہے، وہ اسی قدر؛بل کہ اس سے کہیں زیادہ اسے بہ روئے کارلاتاہے، اسی لئے تو یہ قاعدہ بنایا گیا ہے:الإنسان حریص إلي ما منع. اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ علمائے کرام مسلمانوں کو ہمیشہ اپنے بیانات و مضامین کے ذریعے بدعات و خرافات کیارتکاب سے باز رہنے کی ترغیب دیتے اور حسینی پیغام پہنچاتیرہے ہیں اور پہنچا تیرہیں گے ان شاء اللہ۔
ناچیز دعا گو ہے کہ خداوند قدوس محرم الحرام اور عاشورہ کے موقع سے ہونے والی بدعات و خرافات سے مسلمانوں کی حفاظت فرمائے اور انہیں عقل سلیم عطا فرمائے، جس کے ذریعے وہ غلط اور صحیح چیزوں کے مابین فرق وامتیازکرسکے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں