تازہ ترین

پیر، 15 جون، 2020

سوشانت سنگھ کی موت اورتقریبِ انسانیت

سمیع اللہ خان
 کیا آپکو دلشاد کا چہرہ یاد ہے؟ 
۲ مہینہ پہلے ہماچل پردیش میں دلشاد نے خودکشی کرلی تھی، لاکڈاون کے آغاز میں جب ہندوستان کی سیاست نے کرونا وائرس کو فرقہ وارانہ رخ دے دیا تھا اسی زمانے میں دلشاد مرکز نظام الدین سے لوٹے تھے لیکن ان کی تمام طبی جانچ معتدل آئی تھی اس کے باوجود ان کے گاؤں والوں نے انہیں کرونا پھیلانے کا ملزم بنا رکھا تھا اور مسلسل دلشاد پر کرونا پھیلانے کے فقرے کسے جاتے تھے، جس کی بنا پر دلشاد ذہنی طورپر سخت تناو میں آگئے تھے اور بالآخر انہوں نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اپنی جان لے لی۔

 اس وقت ہم نے دلشاد کی خودکشی پر لکھا بھی تھا، لیکن تب دردمند حضرات کو شاید فرصت نہیں تھی، تاہم اب بالی ووڈ کے ایک اداکار سوشانت سنگھ کی خودکشی نے انسانیت کو جاں بلب کر دیا ہے، سوشانت سنگھ اور دلشاد دونوں نے اپنی جان لی، دونوں نے بے چین ہوکر صبر کی تلخیوں سے تنگ آکر انتہائی قدم اٹھایا، لیکن آدمیت کی معراج دیکھیے کہ سوشانت سنگھ کے لیے انسانیت پکار اٹھی، وزیراعظم نریندر مودی سے لے کر انسانیت دوستی کا فلسفی قرار پانے کے لیے کوشاں ہر فرد پکار اٹھا، ایک موضوع 

#MentalHealthMatters

شروع ہوگیا ہے 
 لیکن دلشاد یہ ہمدردیاں پانے سے محروم رہا، ہمارے وزیراعظم نریندرمودی نفرت انگیزی کے تناو کی بنا پر خودکشی کرنے والے دلشاد کے لیے وقت نہیں نکال سکے، جبکہ اس کا ذہنی تناؤ واضح ہے، ایٹمی عہد کی سمت ترقی پذیر، آج کی دنیا میں انسانیت کی معراج مشہور استحصالی ہتھکنڈے ہیں، انسانیت کی تڑپ اور درد میں درحقیقت درندگی ہے، ذہنی صحت کا جو موضوع آج سوشانت کی موت پر شروع ہوگیا ہے کیا وہ صفورہ زرگر کو بھی زیربحث لائے گا؟ ایک حاملہ بچی پس دیوار زندان مستقبل میں جھانکنے کے لیے بے قرار ہے اس کی ذہنی کیفیت کا کوئی اندازہ لگا سکتا ہے؟ خالد سیفی کی بیوی جس نے صحیح سالم اپنے شوہر کو چھوڑا تھا اس نے جب اپنے شوہر کو وہیل چیئر پر دیکھا تب سے اب تک وہ ذہنی اذیت کے جن مراحل سے گزری ہے کیا وہ ذہنی تناو کی یہ ہمدردیاں پانے کی مستحق ہے؟ 

سوشانت کے نام پر یہ ماتم ایک دھوکہ ہے، دلشاد نے خودکشی سماجی سوتیلے پن کے دباوٴ میں کی، دونوں نے کمزوری کا مظاہرہ کیا، لیکن جان دونوں نے ہی گنوائی لیکن حیرت ہے کہ ایک کی خودکشی Event بن گئی اور ایک ہنوز انصاف کا منتظر ہے جن لوگوں نے سوشانت کی خودکشی کو اپنے لیے انسانیت دوستی کی سند پانے کے لیے تقریب کی طرح استعمال کیا ہے بشمول نریندر مودی، انہیں شاید یہ علم ہوگیا ہو کہ: سوشانت کے انکل، کزن اور ایک لیڈر نے خودکشی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ سوشانت سنگھ کو قتل کیا گیا ہے اسی کے ساتھ انہوں نے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے، اگر یہ خودکشی قتل میں تبدیل ہوجائے تو پھر؟

سردست خودکشی والی خبر زیادہ غالب ہے اس تناظر میں یہ دوہرے کردار کی حامل انسانیت وہی ہے جو آپ اپنی زندگی میں زہر بھرتی ہے پھر تریاق کی تلاش میں سرگرداں پھرتی ہے، دو لفظوں میں حقیقت یہ ہیکہ فانی دنیا میں غیر فانی سکون اور لذت کی تلاش میں سوشانت جیسے لوگ خودکشی کرتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad