ذوالقرنین احمد
ساری دنیا اس وقت کورونا وائرس سے متاثر ہوکر خوف و ہراس کےماحول میں مبتلا ہے اس کی حقیقت کا راز فاش ہونے پتہ نہیں اور کتنا وقت درکار ہے لیکن جلد ہی اس وائرس کے پیچھے حکومت کے ناجائز عزائم کا راز فاش ہوگا اور کورونا وائرس کا خوف پیدا کرکے غیر منصوبہ بند لاک ڈاؤن کے برے نتائج کی تباہ کاریاں ظاہر ہوگی، ملک کی عوام کو ایک لمبے عرصے کیلے مشکل حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا ءجیسے کہ بے روزگاری،بھوک، بڑی بڑی کمپنیوں کو مہاجر مزدوروں نے چھوڑ کر چلے گئے اور اب دوبارہ کام پر لوٹنے کے بارے میں ہزار بار سوچیں گے۔ ایجوکیشن سسٹم کمزور ہوتا جارہا ہے۔ دیش کی معیشت دم توڑتی جارہی ہے۔ عام لفظوں میں سمجھ لیجیے کہ ملک تشویشناک صورتحال کی وجہ سے وینٹیلیٹر پر ہے۔ اور ملک چلانے والے اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کی وجہ سے نفرتوں کو پروان چڑھانے میں لگے ہوئے ہیں۔
ملک میں مسلمانوں کی حالت بہت خستہ ہے تعلیم ہی ہمارے پاس ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے ہم مین اسٹریم میں آکر ملک کے اعلی عہدوں پر فائز ہوکر انصاف پر مبنی کام کر سکتے ہیںاںر اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہے۔ لیکن مسلمانوں نے آزادی کے بعد سے غیروں کے کندھے تلاش کرنے کا کام کیا سافٹ ہندوتوا عناصر کے احسانوں کے متلاشی رہے لیکن جس وقت کانگریس نے بی جے پی کے اقتدار میں آنے سے قبل سیاسی میدان میں دم توڑا اس آخری اقتدار حکومت میں مسلمانوں کو انکے حقوق نہیں دیے گئے۔ آج مسلمانوں کی پستی کی وجہ سیاسی، تعلیمی ،معاشی میدان کو نظر انداز کرنا ہے۔ آج الیکٹرانک میڈیا،پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا تمام مسلمانوں اور اسلام کے خلاف زہر اگل رہے ہیں لیکن آزادی کے بعد سے اسکے سدباب کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ آج ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا پر ملت کا ہر فرد خصوصاً نوجوان سرگرم رہے اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہاٹس ایپ، ٹیک ٹاک، فسبک پر ویڈوں اور ہنسی مزاق کے گروپ پر مستی اور ٹائم پاس کیا جائے بلکہ سوشل میڈیا کو پوری ملت کیلے فائدے مند بنانے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام نوجوان، تعلیم یافتہ، نوکری پیشہ افراد اپنے حقوق کیلے آواز کو بلند کرنے کیلے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ٹویٹر پر اپنا اکاؤنٹ بنائیں۔ اسی طرح نوجوانوں کو جرنلزم کے شعبہ سے وابستہ کیا جائے اسکے بارے میں معلومات فراہم کریں ۔ مسلم نوجوانوں جو انگریزی زبان میں مہارت رکھتے ہیں اور صحافت سے بھی وابستہ ہے انگریزی اخبار شروع کریں کیونکہ آج کے دور میں جتنے غور و فکر سے انگریزی اخبار کی ہیڈ لائنز پڑھیں جاتی ہے اتنی اہمیت دیگر زبانوں کو نہیں دی جاتی ہے۔ اسی طرح یو ٹیوب پر چینل بناکر روزانہ صبح شام چھوٹی چھوٹی ویڈیوز بناکر اپلوڈ کی جائے جس میں انگریزی ہندی اردو زبانوں کا استعمال کیا جائے ،مسلمانوں اور اسلام کے خلاف پھیلائی جارہی جھوٹی خبروں اور نفرت آمیز مواد کا موثر انداز میں جواب دے اپنا دفاع کریں۔ جو جھوٹے الزامات لگا کر گودی میڈیا مسلمانوں کو بدنام کرتا ہے اسکی حقیقت کو سامنے لائے اسی طرح ایسے مواد کو مراٹھی اور انگریزی زبانوں میں ویڈیوں بناکر پھیلایا جائے جس سے ملک میں نفرت کو مٹایا جاسکے اور عوام کا غلط فہمیوں سے برین واش کیا جاسکے۔ برسوں مسلمان اس بات کا رونا روتے آرہے ہیں کہ ہمارے پاس مسلم میڈیا ہاؤس نہیں ہے لیکن اب ہر شخص خود ایک میڈیا ہاؤس کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح ٹک ٹاک پر ملت کے نوجوان لڑکے لڑکیاں فضول ناچ گانوں میں وقت برباد کر رہے ہے انکی صلاحتیوں کا صحیح استعمال کیا جاسکتا ہے اچھا مواد فراہم کرکے چھوٹی چھوٹی ویڈیوز بنائی جاسکتی ہے جس سے سماج کو ایک مثبت پیغام دیا جاسکتا ہے۔ غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔
نوجوانوں کو ڈیبیٹ کیلے تیار کرنے کیلے وہاٹس ایپ گروپ بنائے جائیں جس میں آمنے سامنے میڈیا اینکر اور دیگر ایڈمنسٹریشن، آفس، وغیرہ کے افراد سے کیسے بات کی جائے انکے الٹے سیدھے سوالات کے جوابات کیسے دیے جائیں ایسے نوجوانوں عملی طور پر بھی لائیو ویڈیو کال یا کانفرنس کرکے تیار کیا جاسکتا ہے۔ بلیک میل اور ٹرولنگ کرنے والوں کو کسیے ہینڈل کرنا ہے یہ تمام چیزیں باریک بنی کے ساتھ نوجوان طلباء و طالبات کو سکھیائی جائے۔ایک اہم کام طلباء تنظیموں کیلے فلحال یہ بھی ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو مرکزی اور ریاستی حکومت کے شعبہ تعلیم کی طرف سے کیے گئے فیصلوں کے بارے میں صحیح معلومات فراہم کرنا ہے۔ جو دسویں اور بارہویں جماعت کے طلباء و طالبات ہے انکی رہنمائی کیلے اپنی بستی یا شہر کے اعتبار سے وہاٹس ایپ گروپ بنائے جائے جس میں طلبہ کو گیارہویں جماعت میں داخلے کے تعلق سے تمام معلومات ضروری ڈاکومنٹس کیسے بنانے ہے طریقہ بتایا جائے۔ اسی طرح بارہویں جماعت کے طلباء کے رزلٹ کے بعد ایڈمیشن کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے لیکن ہمارے طلبہ کو صحیح گائیڈنس نہ ملنے کی وجہ سے وہ اپنے مہارت والے مضامین اور دلچسپی رکھنے والے کورس میں داخلہ نہیں لے پاتے ہیں یا پھر رجسٹریشن کی تاریخ نکل جاتی ہے اور انکا سال ضائع ہوجاتا ہے اور کسی کا پورا مستقبل برباد ہوجاتا ہے ۔ اس لیے ایسے گروپ بنائے جائے جس میں بارہویں کے بعد میڈکل انجینئرنگ، ڈاکٹر ، پائلٹ جرنلزم، ،ہوٹل مینجمنٹ وغیرہ تمام کورس کی معلومات اور داخلے کا اسٹیپ بائے اسٹیپ طریقے کار بتایا جائے ڈاکومنٹس کیسے تیار کرنی ہے اس بارے میں معلومات فراہم کی جائے۔ اس کے ذریعے سے بہت سارے طلباء و طالبات فائیدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ کام پورے ملکی سطح پر منظم طریقے سے کرنے کی ضرورت ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں