ہریانہ(یواین اے نیوز12مئی2020)تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا سعد پچھلے کئی دنوں سے میڈیا کی سرخیوں میں ہیں ،مسلسل میڈیا چینلز نے مولانا سعد کو بدنام کرنے کے لئے مختلف طریقوں سے خبریں شائع کی ہیں ، جس کے بعد سے مولانا سعد کی شبیہ کو داغدار کرنے کی یکے بعد دیگرے کوششیں جاری ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مولانا سعد کے بارے میں سوشل میڈیا پر بہت ساری غلیظ قسم کی باتیں ہو رہی ہیں ، اسی اثنا میں ، ایک خبر آرہی ہے جس میں ایک بار پھر مولانا سعد کے بارے میں ایک بحث پیدا کردی ہے۔ ایسا کرنے کا الزام ہریانہ پولیس کے افسر پر جاتا ہے جس نے مولانا کی بیٹی پر غلط بیانی کی ہے۔
یہ پوسٹ ٹویٹر پر کافی وائرل ہورہی ہے اسی طرح فیس بک کی اس پوسٹ کے اسکرین شاٹس بھی وائرل ہورہی ہے۔آپ کو بتادیں کہ مولانا کی بیٹی کے بارے میں ایک قابل اعتراض پوسٹ کی گئی ہے۔کہ وہ گھر سے بھاگ گئی ہے اور اس نے ہندو لڑکے سے مندر میں شادی کرلی ہے ، جیسے ہی یہ پوسٹ وائرل ہوئی ہے ، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہوگیا ہے ، لوگوں نے اس انسپکٹر کی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے،آپ کو بتادیں کہ کئی گرام پردھانوں نے خود اسکو لیکر شکایت درج کرائی ہے،اور اس داروغہ پر کارروائی کرنے کی مانگ کی ہے۔
لیکن ابھی تک پولس کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے،لوگوں نے وزیر اعلی کھٹر سے ٹیوٹ کر اس داروغہ پر کارروائی کرنے کے لیے کہا۔ آپ کو بتادیں کہ اس طرح کی فیک خبر پھیلانے والے مولانا سعد اور تبلیغی جماعت کو لگاتار بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
मौलाना साद की बेटी हिन्दू संग भागकर शादी की??ये तो तीर सही निशाने पर लगी है। pic.twitter.com/qHMpMxALRL
— Surya Arya (@suryaarya2020) May 2, 2020
آپ کو بتادیں کہ اس سے متعلق متعدد جعلی خبریں ٹویٹر پر بہت سارے آڈیوز کے ذریعے شیئر کی گئی ہیں ، ہم ان پوسٹوں میں ان آڈیو کے لنکس ڈال رہے ہیں ، میں آپ کو بتاتا چلوں کہ جعلی خبروں کو مسلسل لا کر تبلیغی جماعت اور مولانا سعد کو نشانہ ہی نہیں بنایا جارہا ہے۔ بلکہ اب ملک کی ایک بیٹی پر ایسے جھو کا الزام لگایا جارہا ہے۔
This man works in @police_haryana resident of Nuh District wants to spark riots by spreading a pseudo-rumor about the daughter of maulana Shaad (Sadar of Tabligi Jamaat)Dear @nsvirk @DrHanifQ @mlkhattar @cmohry @spdistrictmewat requested to take legal action against it pic.twitter.com/FqtOrnihLZ
— United Against Religious Hate (@uarhofficial) May 10, 2020
حال ہی میں پولیس نے مولانا سعد کی آڈیو کے بارے میں بھی کھل کر بات کی تھی کہ اس آڈیو کے بعد بھی ، کچھ گودی میڈیا چینلز مولانا سعد کی شبیہ بگاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مولانا سعد اور مسلم برادری کو لیکر یہ نفرت بڑھتی ہی جارہی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں