تازہ ترین

بدھ، 1 اپریل، 2020

زمینی سطح کی اردو صحافت دم توڑ رہی ہے

ذوالقرنین احمد
اردو اخبارات کی سرخیاں قابل مزمت ہے معاملے کی حقیقت تک پہنچے بغیر دیگر میڈیا کی نقل اتار دی گئیں، زمینی سطح کی اردو صحافت دم توڑ رہی ہے۔ ہمارے نمائندے اور مدیران کی ذمہ داری ہے کہ حقیقت کو معلوم کرکے خود ہوکر رپورٹ تیار کریں فرقہ پرست بکاؤ میڈیا کی نقل اتار کر فارغ نہ ہوجائے۔ آج کے مختلف اخبارات میں سرخیوں کو دیکھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ نیوز پورٹل سے اٹھاکر ایڈیٹ کی گئی ہے۔ اور یہ پہلی بار نہیں ہورہا ہے، اکثر اہم بڑی اور حکومت سے متعلق خبریں مین اسٹریم سے جوڑی خبریں ایسی ہی عنوان تبدیل کرکے لگائی جاتی ہے۔ اس طرف اردو صحافت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 

ویب پورٹلس سے خبریں اٹھاکر لگائی جارہی ہیں۔ ہم اپنے میڈیا سسٹم کا رونا روتے آرہے ہیں کہ مسلمانوں کا مضبوط میڈیا ہاؤس ہونا چاہیے جو بروقت فرقہ پرست میڈیا اور حکومت کو جواب دے سکے عوام کے ذہنوں کو صاف کرسکے حقیقت کو سامنے رکھے۔ لیکن جو میسر ہے اس کا مقصد بھی حاصل نہ ہو تو یہ کیسی بات ہے۔ ہم اپنے دفاع کیلے  بھی موجود وسائل کا استعمال نہیں کر رہے نا ہی حقیقت میں اسکا حق ادا کر رہے ہیں۔ صحافت جمہوریت کا ایک اہم ستون ہے۔ جو اپنے ملک کے اندر پنپنے والے زہریلے عناصر، اور فرقہ پرست اشرار کے چہریں سامنے لانے کی طاقت رکھتا ہے۔ ملک کے سسٹم میں ہوری بدعنوانیوں کو اجاگر کرنے اور حقائق کو عوام کے سامنے پیش کرنے کیلے ہے۔ اس کا مقصد نا انصافیوں، رشوت خوریوں، حرام خوریوں، بدعنوانیوں، بے حیائی،  اور معاشرے میں پھیل رہے جرائم کو اپنے قلم سے روکنا ہے۔ معاشرے کے سامنے حقائق کو پیش کرنا ہے۔ 

عوام کے سامنے حکومت، سیاست، سسٹم کے اندر کیا چل رہا ہے اسکی حقیقت کو عیاں کرنا ہے۔ نا کہ ان بدعنوانیوں میں ملوث ہوکر حکومت کی آنکھ اور کان زبان بن کر تمام سچائی کو جاننے بوجھنے کے باوجود  بہرے، اندھے، گونگے بن جانا ہے۔ جس طرح آج کا میڈیا ہوچکا ہے۔ جو موجودہ حکومت کی زبان بولتا ہے جیسا کہا جاتا ہے اتنا ہی بولتا ہے۔ پوچھ پوچھ کر خبریں تیار کی جاتی ہے‌۔ سیاست دانوں اور حکمران کے ویل آرگنائزرڈ  انٹرویوز لیے جاتے ہیں۔ جس میں کیا سوالات پوچھنے ہیں اور اسکے جوابات دینے ہیں پہلے طے کرلیا جاتا ہے۔ کیونکہ انکے سامنے پہلے ہی روٹی ڈال دی جاتی ہیں۔ کئی لاکھوں روپیے کے پیکیج الیکشن کے دوران طے پاتے ہیں۔ عوام کی ذہن سازی کی جاتی ہیں اور جو میڈیا میں چلتا ہے معاشرے میں وہی بات گشت کرتی ہے اور وہی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ 

میڈیا آزاد ہونا چاہیے لیکن ہمارا میڈیا بکا ہوا ہے۔اسے خریدا جا چکا ہے، ظالم حکمران کے سامنے  حقیقت بیان کرنے والوں کا انکاؤنٹر کردیا جاتا ہے۔ اور پھر ان کیلے کینڈل مارچ بھی رکھے جاتے ہیں انکے غم میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ فرقہ پرستوں کی خباثت اتنی عیاں ہونے کی باوجود عوام تو عوام خاص بھی ان کا شکار ہورہے ہیں۔ میڈیا اس وقت تک آزاد ہوتا ہے جبتک وہ کسی کے احسان تلے نہیں دبتا ہے۔ جس دن اس پر فرقہ پرست عناصر کی طرف سے احسان ہونے لگتے ہیں وہ ایک غلام کی طرح ہوجاتا ہے اور اسکا قلم بک چکا ہوتا ہے۔ پھر وہ ایک وفادار کتے کی طرح اپنے مالک کے آگے دم ہلاتے ہوئے پھرتا ہے۔ یہ حال ہمارے ملک کے میڈیا کا ہیں۔ جبکہ اردو میڈیا اس سے مستثنیٰ ہے۔ لیکن ہمیں صرف غم اس بات کا ہے کہ جو خبریں اردو میڈیا کی طرف سے شائع ہورہی ہے اور جو حاس ہو اس پر ایڈیٹر حضرات خود ہوکر یا اپنے تجربہ کار نمائندوں کے ذریعے زمینی سطح پر پوری  تفصیلات حاصل کرکے، حقائق کی جڑوں تک پہنچ کر رپورٹ تیار کریں‌۔ ورنہ ملت کا اعتماد اور اعتبار دونوں اردو صحافت سے اٹھ جائے گا۔ اس وجہ سے بھی شائد اردو دان طبقہ مراٹھی زبانوں کے اخبارات خرید کر پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں جس میں حقائق کے ساتھ مواد بھی موثر ہوتا ہے‌۔ اور ہر اخبار کی رپورٹ ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں سبھی کا مواد ایک جیسا نہیں ہوتا ہے۔

لیکن ایک بات یہ بھی ہے کہ اردو اخبارات میں کام کرنے والے نمائندوں کو کسی طرح کی کوئی مالی  امدان نہیں دی جاتی ہے اور حکومت کی طرف سے کچھ اسکیم ہوتی بھی ہے تو وہ ایڈیٹر حضرات تک محدود ہوتی ہے۔ جو ایڈورٹائزنگ سے پیسہ ملتا ہے اسے سے اخبارات کے ذمہ داروں کی ضروریات زندگی پوری ہوتی ہے اور اخبارات کا خرچ بھی اسی سے نکلتا ہے، اردو اخبارات کو چلانا بھی بہت مشکل کام ہے۔ اسی وجہ سے سیکڑوں اخبارات چند ایڈیشن منظر عام پر آنے کے بعد بند ہوجاتے ہیں۔  کیونکہ مسلمانوں میں اردو اخبارات خرید کر پڑھنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ جس میں اردو سے لگاؤں نہ ہونے، اور اردو زبان کو تعاون کرنے پروان چڑھانے کا جزبہ بھی دیکھائی نہیں دیتا ہے۔ اسی لیے آج تک اردو کا مضبوط اور منظم میڈیا ہاؤس تیار نہیں ہوسکا۔ اگر میری بات کسی کو ناگوار گزرے اس کیلے معزرت خواہ ہوں لیکن مسلمانوں کی طرف سے یہی رجحان سامنے آرہے ہیں۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad