تازہ ترین

بدھ، 1 اپریل، 2020

قوم کی بابَت ماہرین کے درست ہوتے اندیشے!

(محمد قاسم ٹانڈؔوی)
عہدے مناصِب کی چاہت میں حکومتوں کی خوشامد میں لگے رہنے، پیڑھی در پیڑھی آنے والی نسلوں کے عیش و عشرت کی فکر میں ہروقت تجوریاں بھرنے کی بےمقصد، ملی و رِفاہی اِداروں کی خودساختہ قیادت کا دم بھرنے اور ایک دوسرے کو زیر و بےدست و پا کرنے اسی طریقے سے مختلف میدانوں میں حاصِل شدہ صلاحیت کی حامل مقتدَر شخصیات کو نشانہ بنانے اور ذاتی بُغض و عِناد کی بنیاد پر ان کو حاصل عوامی مقبولیت کے اثر کو بَزورِ طاقت ختم کرنے یا حاکمِ وقت کو ان کو ختم کرانے کےلئے اشارے کرنے جیسی بےشُمار مَذموم حرکتوں سے اس ملت کو دینی، سماجی، معاشرتی اور سیاسی سطح پر جو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے اس کا احاطہ کرنا یا بَھرپائی ہونا ناممکن نہیں تو ایک مشکل امر ضرور ہو گیا تھا۔ آج وہی سب مذکورہ اسباب و وجوہات کالے سیاہ زہریلے ناگ کی طرح اپنا پَھن پھیلائے مَدّمقابل ہیں جن کی طرف نہ تو کبھی سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کیا گیا اور نہ ہی کبھی ان کی گہرائی میں اتر کر کوئی لائحہ عمل ترتیب دیا گیا، اور انہیں سب کا نتیجہ یہ ظاہر ہوا ہے کہ ایک بعد ایک ہمارا ادارہ، جماعت اور ان اداروں تنظیموں سے وابستہ حضرات حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کے راڈار پر آ تے چلے گئے (مگر ہم پھر بھی دست و گریباں رہے)ابھی ملک بھر میں چل رہے سیاہ بِلوں کے خلاف جو احتجاج و مظاہرہ ہو رہے تھے وہ پُرامن اور جمہوری اقدار و روایات کی پاسداری کے ساتھ ہو رہے تھے، اس میں شریک ہونے والے اور حصہ لینے والوں نے بیک وقت جو اپنی آوازیں بلند کی تھیں وہ یہی تھی کہ مرکزی حکومت ان سیاہ بِلوں کی واپسی کو یقینی بنائے؛ مگر بِکاؤ میڈیا کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی اور اس نے تحریک سے وابستہ عُلماء و خُطباء کی ایک بڑی تعداد کو دہشت گردی پھیلانے کا مجرم قرار دیا اور اپنے چینلز پر بیٹھ کر دنیا کو نام بنام ان کی لسٹ سے متعارف کرا کر حکومت سے فوراً گرفتار کرنے اور مقدمہ چلانے کا اپیل کی، مگر کسی کی آنکھ نہیں کھلی؟ اس سے قبل ملک بھر سے علماء کرام کی گرفتاری ہوئی، جن میں کرناٹک بینگلور کے معروف عالمِ دین مولانا انظر شاہ، دہلی یوپی سے مفتی عبد السمیع، عالمی شہرت یافتہ اسلامی اِسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک دیگر چند حضرات تھے، کیوں ان کی گرفتاری کو ان تک محدود کر دیا گیا تھا؟ اور کیوں بروقت ان کی رہائی کےلئے روڈ اور سڑکوں پر اتر کر احتجاج و مظاہرہ کر ناراضگی کا اندراج اور آئندہ کےلئے ایسی حرکتوں سے باز رہنے کی حکومتوں کو تاکید کی گئی تھی؟ کیوں ہم خاموشی اختیار کئے رہے جب ابھی یوپی حکومت نے غازی آباد میں نوتعمیر شدہ حج ہاؤس کو اسے غیرِحج امور میں استعمال کرنے کا فرمان جاری، صرف اس لئے کہ اس کا انتساب مسلکِ بریلوی کے روح رواں کی طرف تھا؟ یا اس لئے کہ ہم خود اپنے ہی مسلک سے مربوط مسائل کے حل سے جوجھ رہے ہیں؟ میدان سیاست کے قداور اور ملک و ملت پر اپنی جان نِچھاور کر دینے والے عظیم رہنما، موجودہ ممبر پارلیمنٹ جناب اعظم خان اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ کی جانے والی بَلا کی سرکاری زیادتی اور ان کو لاحق ذہنی تکلیف کو دیکھ کر کیوں ہماری رگِ حمیت میں جوش پیدا نہیں ہوا، اس لئے کہ اس کا گناہ "مولانا محمد علی جوہؔر یونیورسٹی" کی تعمیر اور تاحیات اس کا وائس چانسلر ہونا تھا؟ اب جبکہ آہستہ آہستہ سب کا نمبر آ رہا ہے، سب کو شِکنجہ میں کسے جانا نظر آ رہا ہے اور حکومت و قانون کے لمبے ہاتھوں کی پہنچ خود اپنی ذات کی طرف آتی دکھائی دے رہے ہیں تو سب بیک آواز بلاتفریقِ مسلکِ دیوبند بریلی بِلامَنہجِ دعوت و قرآن کہہ رہے ہیں کہ:"لاکھ دہلی مرکز نظام الدینؒ سے ہمارا اختلاف ہو اس زیادتی کے خلاف ہم مرکز اور مولانا سعد کے ساتھ کھڑے ہیں"۔

جب حکمرانوں کی نیت و منشا کو دیکھ لیا اور ان کے چُھپے مقاصد کھل کر سامنے آنے لگے تو اب ہر ایک اتحاد و اتفاق کے ساتھ آگے آنے اور مرکز دعوت و تبلیغ دہلی و دیگر دینی تعلیمی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی فکر میں آوازیں بلند کرنے کی باتیں ہر سمت سے آنے لگی ہیں، جب کہ یہ کام اسی وقت تھا جب علماء کرام کی گرفتاریوں کا سلسلہ دراز ہو رہا تھا، جب مدارس و مساجد کے تقدس کو پامال اور ان پر چھاپہ ماری کی جا رہی تھی، ماہرین سیاست و سماج جب کہ انہیں پابندِ سلاسل کیا جا رہا تھا، ان کی حمایت اور باعزت رہائی کےلئے مجموعی اعتبار سے بحیثیت پوری قوم میدان میں آنا تھا چاہے وہ ڈاکٹر کفیل کا معاملہ تھا یا محمد اعظم خان کا؛ ہمیں گوشۂ عافیت اور آرام دہ محلات سے نکلنا تھا تاکہ بار بار یہ شرمناک اور اندوہناک دن دیکھنے کو نہ ملتا۔مگر باہمی تَنازُعات، معمولی چَپقلش اور ذاتی اَغراض و مَقاصِد کے حصول کی خاطر اتحاد و اتفاق کا جَنازہ نکال کر پوری ملت کا شیرازہ بکھیر دیا گیا، اور ملت کا یہ حال کر دیا گیا کہ جس طرح مالکِ مُردار اپنے مُردار کو بےآہ و گیا میدان یا سَنگلاخ بنجر زمین میں قیام پذیر اُن آوارہ کج اور نوچ کھسوٹ کرنے والے درِندوں کے روبرو کرکے چلا جاتا ہے جو اسے ہر سِمت اور ہر رُخ سے چِیڑ پَھاڑ کر اپنی خوراک کا مقدر سمجھنے لگ جاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اسے اس کے انجام تک پہنچا دیتے ہیں۔

یہی کچھ درد ناک اور وحشت بھری کہانی اس ملتِ مرحوم و مقسوم کے ساتھ دہرائی گئی اور ایک نہیں متعدد مرتبہ دہرائی گئی جس سے کہ ہر ایک کا اُلّو سیدھا ہوتا چلا گیا اور جب جس کے دل میں حُبّ جاہ اور حُبِ متاع نے انگڑائی بَھری اس نے اسی وقت اپنے ہاتھوں کی صفائی اور شاطِر دِماغی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے چند حَوارِیوں اور عقل و فہم سے کورے لوگوں کا ٹولہ اپنے دائیں بائیں اِکٹھا کیا اور عام پریس کر اپنی قیادت و سیادت کا صور پھونک دیا۔ قطع نظر اس بات کے کہ:"مسائل کے انبار تَلے دبی میری یہ قوم اور ظالم و جابر حکمرانوں کی سَتائی یہ ملت اس کا بوجھ برداشت بھی کر پائےگی یا نہیں؟ اور اس کے نتیجہ میں جو اثرات مرتب ہوں گے وہ پہلے سے کہیں زیادہ مایوسی، ناامیدی اور ملت کو تاریکی کی دلدل میں ڈھکیلنے والے تو نہیں ہوں گے؟بالآخر ماہرین و محققین اور دانشوروں کے جتائے وہ تمام اندیشے درست ثابت ہو رہے ہیں، جن کو ہم ہلکے میں لئے ہوئے اپنی اکیلے کی دنیا میں مست تھے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad