سعودی عرب(یو این اے نیوز 10اپریل 2020)سعودی عرب میں لوگ سرکاری احکامات پر مکمل عمل نہیں کررہے ہیں اور صبح و شام کے اوقات شاپنگ مالوں اور مارکیٹوںمیں لوگوں کی کثرت دیکھی جارہی ہے جس کے پیش نظر سعودی حکام نے رمضان المبارک اور عیدالفطر کے دوران بھی کرفیوجاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق سعودی وزارت صحت کے ترجمان نے گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ مملکت میں کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔اس بیان کے بعد اْمت مْسلمہ میں یہ تشویش پائی جا رہی ہے کہ کیا اس بار عازمین حج بیت اللہ کی سعادت سے محروم تو نہیں رہ جائیں گے۔ سعودی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی نے یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ مملکت میں رمضان اور عید الفطر کے دوران بھی کرفیو جاری رہ سکتاہے۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹر محمد العبد العالی نے کہا ہے کہ متعدد شہروں میں 24 گھنٹے کرفیو کا فیصلہ انتہائی اہم اور مفید رہے گا۔
اس سے رہائشیوں کو وبا سے تحفظ فراہم کرانا مقصود ہے۔ مملکت میں کورونا کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ احتیاطی تدابیر پر معاشرے کا 50 فیصد حصہ عمل کر رہا ہے جبکہ باقی آدھا حصہ پہلے جیسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔سی این آئی کے مطابق صبح کے اوقات جب کرفیو نہیں تھا تب مختلف مارکیٹوں میں لوگوں کا ازدحام ہوجاتا تھا۔ ہمارے پاس رپورٹیں ہیں جن سے ثابت ہو رہا ہے کہ لوگ ہدایات کی پابندی نہیں کر رہے۔شاپنگ سینٹرز اور سپر مارکیٹوں میں لوگوں کی بھیڑ ہمارے لیے پریشان کن ہے۔ یہ انتہائی خطرناک ہے جس سے ہماری تمام تر کوششیں بے سود ہو رہی ہیں۔ کرفیو کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگ گھروں تک محدود رہیں۔
انتہائی ناگزیر حالات میں باہر نکلیں مگر افسوس اس پر مکمل طور پر عمل نہیں ہو رہا۔ڈاکٹر العبد العالی سے جب سوال کیا گیا کہ کیا اس سال رمضان المبارک اور عید الفطر کرفیو میں گزریں گے، تو انہوں نے جواب دیا کہ دْنیا کورونا پر قابو پانے کے قریب نہیں اور سعودی عرب اس دنیا کا حصہ ہے، ہم ہفتوں کی بات نہیں کر رہے بلکہ مہینوں کی بات کر رہے ہیں۔ وبا پر قابو پانے کے لیے کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔اگر لوگ ہدایات اور احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کریں گے تو ہزاروں افراد وائرس کی زد میں رہیں گے، یہ محض خیالی باتیں نہیں بلکہ حقیقت ہے۔کیونکہ کورونا کا ایک مریض ہزاروں افراد کو وائرس منتقل کرسکتا ہے، اسی لیے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ضروری ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں