تازہ ترین

اتوار، 12 اپریل، 2020

مسلمانوں سے اتنی نفرت کیوں؟

محمد سفیان خاں پپري پوروھ بسوا ں سیتاپور
آج جو حالات ہندوستان کے اندر ہیں اُنسے ہر کوئی واقف ہے۔ہر کوئی جانتا ہے کہ آج مسلمانوں کو کن کن مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔جب کہ وہی مسلمان ہر جگہ اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے۔لیکن پھر بھی اسی مسلمان کو صرف مسلمان ہونے کی بنا پر ستایا جاتا ہے۔اسکا ناحق خون بہایا جاتا ہے ۔ایسے ہزاروں واقعات موجود ہیں جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آج ہم کو صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے مارا اور کا ٹا جاتا ہے۔آپ سبھی کو یاد ہوگا کی تبریز انصاری جس سے شری رام کے نعرے بلوائے گئے اسے مارا گیا۔اور مار مار کر اُسکی جان تک لے لی گئی۔آخر کیوں ایک ماں سے اُسکے بچے کو چھین لیا گیا؟آخر کیوں ایک بیٹے کو اُسکی ماں سے جدا کر دیا گیا؟کیا صرف اس لیے کہ وہ مسلمان تھا؟کیا صرف اس لیے کہ اسکا نام تبریز تھا؟ کیا صرف اس لیے کہ وہ اپنے مذہب کو مانتا تھا؟آخر کیوں اس کو ناحق قتل کر دیا گیا۔ایک ایسی قوم کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو ہمیشہ سے وفادار رہی ہے۔جسنے ہندوستان کو ہمیشہ مضبوطی دی۔جس نے ہندوستان کو خوبصورتی بخشنے کے لیے ایسی ایسی عمارتیں تعمیر کرائیں جنکو دیکھنے آج بھی لاکھوں افراد آتے ہیں۔چاہے وہ لال قلعہ ہو،قطب الدین منارہ ہو،چاہے وہ تاج محل ہو، چاہے وہ ہمایوں کا مقبرہ ہو،چاہے وہ بیگم حضرت محل ہو،ایسی سیکڑوں عمارتیں مسلمانوں نے تعمیر کرائیں جنکو باقاعدہ خوبصورتی حاصل ہے۔

جس قوم نے جنگِ آزادی میں بڑی بڑی قربانیا ں پیش کیں آج اسی کو دیش کا غدار بتایا جاتا ہے۔شیر ہند بہادر شاہ ظفر کو کون نہیں جانتا جب ایک انگریز جو کی شاعری جانتا تھا اُسنے اُنسے کہا تھا۔کہ دمدمے میں دم نہیں ہے خیر مانگو جان کی۔دیکھو ٹھنڈی پڑ گئی ہے تیغ ہندوستان کی۔تب بہادر شاہ ظفر نے کہا تھا۔غازیوں میں جب تک رہے گی بو انکی ایمان کی۔تخت لندن تک چلیگی تیغ ہندوستان کیایسے ایسے شیر اس قوم میں پیداہوئے جسکو آج نشانہ بنایا جا رہا ہے۔یاد رکھو ہم نے ہمیشہ اپنے دیش کے بارے میں سوچا ہے۔اپنے ملک کے تحفظ کے بارے میں سوچا ہے۔ہمنے ہمیشہ ہندو مسلم تہذیب کو زندہ رکھنے کے بارے میں سوچا ہے۔یقیناً ہم اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں۔اور ہم اس کے لیے ہمیشہ جانوں کی بازی لگاتے رہے ہیں۔آج میڈیا نے بھی مسلمانوں کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی آج جس طرح سے خبروں کو شائع کرتے ہیں یقینا وہ دیکھنے لائق ہے۔میں آپکو کیا مثالیں دوں اپنے خود دیکھا ہوگا کی زی نیوز نے تو مسلمانوں کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جہاں پر ایک بیمار ملا وہاں پر اُسنے گیارہ جماتیوں کا نام لیکر بدنام کیا جب معاملہ زیادہ بڑھ گیا تب اسے معافی مانگنی پڑی۔میری یہی گزارش ہے کہ کم از کم آج اس مہا ماری میں آپ ہندو مسلم نہ کریں اور ہم سب کو سکون کے ساتھ زندگی گزارنے دیں۔کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے۔کہ جب گلستاں کو خوں کی ضرورت پڑی
سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی
اب ہم سے کہتے ہیں یہ اہلِ چمن
یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad