تازہ ترین

اتوار، 12 اپریل، 2020

دور حاضر کا اسلام وہ اسلام نہیں جو محمد عربی علیہ الصلاۃ والسلام لیکر آئے تھے

دور حاضر کا اسلام وہ اسلام نہیں جو محمد عربی علیہ الصلاۃ والسلام لیکر آئے تھے، اور یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ یہودیت اور عیسائیت کی طرح ہی اسلام کی مسخ شدہ تصویر ہمارے سامنے ہے، جو حقیقت سے کوسوں دور یا تو رہبانیت کی دعوت دیتی ہے، یاں دینی تمہیدات کو ہی دین بنا کر پیش کرتی ہے جیسے:جس میں نماز روزہ اور ایام کی ہی اہمیت ہوتی ہے، یا رسمی طور سے انفرادی اور اجتماعی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے چند قاعدے مرتب ہیں جن پر عمل پیرا ہونا ہی مطلب مسلمان ہونا مانا جاتا ہے، اصل اسلام وہ ہے جو قرآن میں ہے، جو احادیث کے ذخیروں کی شکل میں ہمارے کتب خانوں میں گرد آلود ہورہا ہے، (اس کو پڑھنے سے زیادہ سمجھنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے) جو صحابہ کے فضائل سے زیادہ ان کے نقش قدم پر چلنے پر زور دیتا ہے،

 جس میں کارگاہ حیات کے ہر مسئلہ کا حل موجود ہے، سیادت سے سیاست تک کا ہر مسئلہ، انسانیت سے طب و سائنس کا ہر مسئلہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہمارے ہی تقریباً سو سالہ عرصہ کے رہبروں کے ذریعہ کیا گیا ہے، ان کو استعمال میں لاکر فکری استعمار ہوا ہے، اور جب تک اس سایہ میں ہم پرورش پاتے رہینگے اور جمعہ کے خطبے وعظ ونصیحت اور دفاعی رہینگے تب تک ہم اغیار کا ہاتھوں یرغمال ہوتے رہینگے، اور ذلت و رسوائی ہمارا مقدر ہوگی،وقت ہے کہ اسلام ازم کی صحیح تصویر پیش کی جائے، جہاں دینی معبدوں اور مکتبوں کے ساتھ ہاسپٹلز، کالجز، معاشی استحکام وافر مقدار میں موجود ہو، انسانیت ہی اسلام ہے یہ ہم عملی طور سے ثابت کرسکیں،  دور ماضی کے اسلام میں اور آج کے اسلام میں ایک تقابلی مطالعہ کی ضرورت ہے 

جہاں واضح طور سے ہمیں معلوم ہو کہ کس قدر ہم تاریخ کو روندنے پر تلے ہیں، جماعتوں اور مسلکی فرقوں سے بڑھ کر اسلام کی اصل بقا اور اہل اسلام کی سربلندی ہی اگر منشا ہوگی تو کسی درجہ ہم کامیاب ہو سکینگے ورنہ ذلت و خواری کم نہیں ہوگی، یہ چوطرفہ گھیر کے آپ کو نقصان دینے کے ساتھ آنے والی نسلوں کے ایمان کی سلامتی پر سوالیہ نشان ہوگی، اس پر مزید تحقیق کے ساتھ جلد ان شاء اللہ ایک مضمون قلمبند کرینگے۔

 حسن مدنی ندوی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad