میرے پیارے دوستوں آج جو حالات ہندوستان میں اور بلکہ پوری دنیا میں ہیں ساری دنیا اس سے پریشان ہے۔ لیکن ایسے وقت میں بھی کچھ نفرت پسند لوگ اس پورے معاملے کو سلجھانے کے بجائے ہندو مسلم کرنے میں لگے ہیں انکو آج یہ مہا ماری پھیلی ہوئی ہے یہ نہیں دیکھ رہی انکو اگر کچھ دیکھتا ہے تو صرف اور ہندو مسلم،ذات پات،نفرت،بس اسکے علاوہ انہیں اور کچھ نہیں دکھتا۔اس کی وجہ یہی ہے وہ صرف اسی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں
جس میں بات مذہب کی ہو جس میں بات گیتا اور قرآن کی ہو تاکہ انہیں اس میں اپنا اُلّو سیدھا کرنے کو مل جائے۔میرے پیارے دوستوں یہ وقت ایک ساتھ آکر ایک جُٹ ہوکر اس مہلک ترین بیماری سے نجات پانے کا ہے۔میری اُن تمامی حضرات سے دردمندانہ اپیل ہے کہ کم از کم اس نازک مرحلے میں آپ ہندو مسلم نہ کریں بلکہ اس مہا ماری سے خود بھی نجات پائیں اور دوسروں کو بھی سمجھائیں ۔اُن تمام لوگوں کے لیے جو کی نفرت پھیلانے کا کام کرتے رہیں ہیں
انکے لیے ایک بڑا ہی پیارا کلام ہے کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے ۔کہ جاہلوں کی بستی میں بس یہی تو رونا ہے
وہ چھینکیں تو کھانسی ہم چھینکیں تو کورونا ہےبرائے مہربانی آپ سبھی لوگ اپنے گھروں میں رہیں بلا ضرورت باہر نہ نکلیں اور دیگر افراد کو پریشانی میں مت ڈالیں محمد سفیان خاں پپری پروہ بسواں سیتاپور

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں