دیوبند/دانیال خان(یو این اے نیوز20اپریل 2020)ملک میں نافذ لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلے کی تاکید کی وجہ سے نت نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں،نماز پنج گانہ اور جمعہ کے سلسلہ میں دارالافتاء کی جانب سے رہنمائی کئے جانے کے بعد اب رمضان المبارک کی آمد،نماز پنج گانہ،تراویح اوراعتکاف سے متعلق ایک ہدایت نامہ دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔جس میںحسب حالات عید الفطر کی نماز سے متعلق رہنمائی رمضان کے اخیر میں کرنے،حکومت و انتظامیہ اورمحکمہ صحت کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کرنے اور تراویح کی نماز گھروں میں ہی ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ہدایت نامہ میں کہا گیا ہے کہ ہر علاقہ کے لوگ اپنے اپنے گھروں پرشعبان کی 29ویں تاریخ کو چاند دیکھنے کا اہتمام کریں اور اگر کہیں چاند نظر آ جائے تو مقامی علماء و مفتیان کرام کے ذریعہ ملک کی مرکزی ہلال کمیٹیوں سے رابطہ کریں،چاند کے مسئلے کو لیکر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور نہ پٹاخہ وغیرہ چھوڑیں،نیز کسی بھی آپسی انتشار و خلفشار سے مکمل پرہیز کریں اور چاند کا فیصلہ ہو جانے پر مسجد کے مائک سے چاند کا مختصر اعلان کر دیا جائے اور انتظامیہ کی ہدایت کے مطابق مساجد میں صرف تین،چار یا پانچ افراد تراویح ادا کریں۔
یعنی:مسجد میں امام،مؤذن،حافظ قرآن اور سامع وغیرہ اور یہ تین،چار یا پانچ افراد ہوں جو دیگر نمازوں کے لئے متعین کئے گئے ہیں،مختلف نمازوں میں مختلف افراد کا نظام نہ بنایا جائے،مسجد کی جماعت کے لئے جن حضرات کو متعین کیا گیا ہو یا کیا جائے وہ جوان یا ادھیڑ عمر،پابند نماز اور حتی الامکان باشرع ہونے چاہئیں اور باقی حضرات اپنے اپنے گھروں میں تراویح با جماعت ادا کریں اور جن لوگوں کے لئے اپنے گھروں میں جماعت کی صورت نہ بنے وہ تنہا تنہا تراویح ادا کریں،گھروں میں اگر کوئی حافظ قرآن میسر ہو تو تراویح میں پورا قرآن پاک سنا جائے اور اگر کوئی حافظ قرآن نہ ہو تو الم تر کیف سے تراویح پڑھی جائے اور جن لوگوں کو صرف دو چار سورتیں یاد ہوں وہ وہی سورتیں بار بار پڑھ کر تراویح پڑھ لیا کریں اور رمضان المبارک کے روزوں کا خاص اہتمام کریں ساتھ ہی مساجد اور گھروں میں نماز پنج گانہ اور جمعہ کے تعلق سے جو ہدایات دارالعلوم دیوبند کی جانب سے سابقہ میں دی جا چکی ہیں ان پر عمل کریںاس کے علاوہ جو حضرات ماہانہ یا ہفتہ واری مسجد کا مالی تعاون کرتے ہیں وہ ان حالات میں بھی حسب حیثیت و استطاعت مسجد کا تعاون جاری رکھیںتاکہ مسجد کا نظم حسب سابق جاری رہے۔
ہدایت نامہ کے مطابق مسجد میں تراویح کے لئے اگر امام کے علاوہ کسی حافظ کا نظم کیا جائے تو حافظ کا قیام مسجد میں ہی رکھا جائے یا مسجد کے قریب کسی مکان میں،حافظ کے لئے روزانہ تراویح کے لئے دور دراز علاقہ یا دوسرے محلے سے آنے کا نظم ہرگز نہ رکھا جائے اور اگر کوئی حافظ مسجد میں یا مسجد سے قریب مکان میں قیام کے لئے تیار نہ ہو تو الم تر کیف سے تراویح پڑھ لی جائے۔اسی طرح گھروں میں بھی تراویح کے لئے دور دراز علاقہ یا دوسرے محلے سے حافظ کا نظم نہ کیا جائے،گھروں میں صرف گھر کے افراد تراویح ادا کریں،حالات کے تناظر میں احتیاط اسی میں ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ فرائض کی طرح نوافل میں بھی نابالغ بچہ،بالغ مقتدیوں کی امامت نہیں کر سکتا لہذا تراویح میں کسی نا بالغ بچے کو امام نہ بنایا جائے اگر چہ وہ حافظ ہو،البتہ اگر وہ نابالغ بچوں کی امامت کرے تو کچھ حرج نہیں۔اسی طرح کسی مسجد کے پڑوس یا اطراف میں جو لوگ رہتے ہوں ہوں وہ بذریعہ مائک نماز پنج گانہ یا تراویح میں شرکت نہ کریں اور نہ ہی کسی لائیو نماز یا تراویح شرکت کی جائے۔
مساجد میں افطار کا نظم نہ کیا جائے،افطار پارٹی سے گریز کیا جائے،افطار کرانے کی فضیلت اور ثواب حاصل کرنے یا صلہ رحمی وغیرہ کے لئے ضرورت مند عزیز و اقارب اور احباب وغیرہ کو افطار کے پیسے دے دئے جائیں اور مسجد کی نماز با جماعت کے لئے متعین نمازیوں میں سے کوئی ایک اعتکاف بھی کر لے تاکہ سنت مؤ کدہ علی الکفایہ کی ادائگی ہو جائے،رمضان کے اخیر عشرے کی طاق راتوں میںشب قدر کی تلاش میں شب برأت کی طرح اپنے اپنے گھروں میں رہ کر، تلاوت، نوافل، اذکار،واوراد اور دعاؤں کا اہتمام کیا جائے ساتھ ہی کھانے پینے وغیرہ ضروری اشیاء کی خریداری میں حکومت کے قانون و ضابطہ کی پابندی کی جائے،صدقہ فطر اور روزوں کے فدیے سے مسلمان مستحقین کی مدد کی جائے اور رمضان میں حسب سابق،دینی مدارس کا بھی خیال رکھا جائے،لایعنی اور فضول چیزوں میں وقت ضائع نہ کیا جائے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں